معیشت نہ اسحاق ڈار نے تباہ کی ہے نہ مفتاح نے معیشت ان چند جرنلیوں نے تباہ کی ہے جنہیں رجیم چینج کی خارش ہوئی تھی اور انہوں نے نا اہلوں کا ٹولہ ہم پہ مسلط کیا تھا!!!
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 ا��ست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان، طبی معائنے / علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ یہ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 0500 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
خان نے ایک بار پھر اپنی جان پر کھیل کر جرنیلوں کا سارا کھیلُ بگاڑ دیا ہے۔ اب عاصم منیر کے آگے پھر وہی کنواں ہے اور پیچھے کھائی ہے جس سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
کہا تھا
"یقین سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان کو پتا چل گیا کہ اسے ان شرائط پر ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، تو وہ خود اٹھ کر واپس جیل چلا جائے گا۔"
عمران خان نے میرا یقین نہیں توڑا۔ عوام اپنے ساتھ دیکھ کر مزید پُر عزم ہوگیا ہے۔
یہ زرداری، شریف، فضلو اور جرنیل کہتے تھے کہ اسے سیاست نہیں آتی، پچھلے دو دن سے اس نے تمہارے دارالحکومت میں کرفیو نافذ کر دیا جیل میں رہتے ہوئے اور اسے سیاست نہیں آتی 😉
تم سب سو بار بھی پیدا ہو جاؤ اسے ہرا نہیں سکتے۔
شطرنج کی بساط میں جب بادشاہ کو خود چال چلنی پڑ جائے تو سمجھیں کہ بازی بادشاہ کے ہاتھ سے نکل گئی۔
واللہ اعلم بادشاہ کیوں اتنی جلدی میں تھا کہ پیادوں، گھوڑوں اور وزی�� سبھی کو ہی اپنے ساتھ منہ کے بل گروا بیٹھا۔
باقی جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے!
جہاں تک میں نے عمران خان کو سمجھا ہے وہ سسٹم سے لڑائ چاہتا ہے معافیا کو گھٹنوں پر لاناچاہتا ہے ، یا تو سسٹم توڑنا چاہتا ہے یا پھر ٹیپو سلطان کی طرح اپنا اختتام چاہتا ہے ۔۔
جبکہ دوسری طرف قیادت اس کے برعکس مفاہمت چاہتی ہے ، سسٹم سے بات چیت کر کے بس کسی طرح حکومت میں آنا چاہتی ہے ،
کئی بار جرنیلوں کے کہنے پر سوشل میڈیا کو بھی خام��ش رہنے کا کہا گیا ، ��ہا گیا کہ سوشل میڈیا ہی اصل فساد ہے ، سوشل میڈیا کے بولنے سے کام خراب ہوتا ہے ، ان کا بس نہیں چلتا ورنہ کہہ دیں کہ عمران خان کے بولنے سے کام خراب ہوتا ہے اسے چپ رہنا چاہیے ۔۔
قیادت کو عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا اور سڑکوں پر آنا پڑے گا مزاحمت کرنی پڑے گی یہی واحد حل ہے ۔۔
بات چیت یا ڈیل سے خان کبھی نہیں ماننے والا حضور ۔۔
رہی بات جرنیل کی تو اس بھروسہ کبھی نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔
تین سال جیل میں رہنے کے باوجود آج اس نے ایک بار پھر ثا��ت کر دیا کہ وہ عمران خان ہے ۔۔
جرنیل وہ سوچ بھی نہیں سکتے جو وہ کر گزرتا ہے،
اللہ عمران خان کو صحت و تندرستی دے ۔۔
آمین ۔۔
اگر میں خبر فروش ہوتا تو پچھلے دو دن کی کہانی سُنا کر بہت مہنگی خبر بیچتا لیکن عمران خان میرا لیڈر ہی نہیں مرشد ہے ! پاکستانیوں تاریخ آپکو بتائے گی پچھلے دو دن میں جو ہوا آپ عمران خان پر رشک کریں گے !