Special Correspondent @geonews_urdu , writes for @thenews_intl CHEVENING SCHOLAR. Ex President Press Association of Supreme Court. Judiciary, Politics & HR
علاقائی بحری کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں کامیابی سے جاری ہیں۔ حال ہی میں، سنگاپور سے آنے والا بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز (M/V JAHAN BROTHERS II) گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہوا، جس پر تقریباً 53,064 میٹرک ٹن پرائم اسٹیل بلیٹس کا کارگو موجود ہے۔ یہ ٹرانس شپمنٹ کارگو عارضی طور پر گوادر میں اتار کر ذخیرہ کیا جائے گا، جہاں سے اسے متحدہ عرب امارات کی الحمریہ پورٹ کے لیے دوبارہ روانہ کیا جائے گا۔
بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ دو دن کی محنت سے لوگ اپنے گھروں کے خشک بورنگ کا دوبارہ ایکٹو کر سکتے ہیں۔ اور اس کے علاؤہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر بنایا جا سکتی ہے۔@SohailAshrafGor کو
سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ، پولیس کو اس سلسلے میں فوری احکامات جاری کرنے چاہیے کہ وہ اپنے سرکاری دفاتر ، پولیس لائنز وغیرہ میں یہ نظام فوری طور پر لاگو کریں۔
اس کے علاؤہ فوری طور پر اسی ماہ سی ڈی اے کو اسلام اباد کے مختلف سیکٹرز اور نجی سوسائٹیز میں بارش کے پانی کےبچاو کے طریقہ کار کے لیے آگاہی روڈ شوز شروع کرنے چاہیے ۔ تاکہ اس سال مون سون کی بارشوں کا کچھ پانی تو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔مساجد میں وضو کے استعمال شدہ پانی اور سرکاری و نجی سکولوں میں استعمال شدہ پانی کو زیر زمین منتقل کرنے کےلئے بھی مقامی علماء کرام اور پراویٹ سکولوں کی تنظیم کی بھی فوری مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ویب سائٹ پر صرف نوٹس دینے کا فایدہ نہیں۔ ابھی تک جو بھی شہری اپنے گھر میں یہ سسٹم لاگو کر رہا ہے وہ صرف ٹیچر عثمان کی ویڈیوز دیکھ کر ہی یہ اہم ترین کام کرتا ہے۔
@PakPMO@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@SohailAshrafGor@CDAthecapital
کیا یہی وہ ہمدردی ہے جس کے دعوے کیے جاتے ہیں؟ ایک طرف رقص و سرور کی محفلیں ہیں اور دوسری طرف اپنوں کے لیے سسکتی ہوئی مائیں ہیں۔ جب حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام کا دکھ شامل نہ ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ قومی مفاد آخری صف میں کھڑا انتظار کر رہا ہے۔
#balochistan
پنجاب کے جج صاحبان اور جوڈیشل افسران اپنے زیر استعمال حکومتی گاڑیاں صرف 2 لاکھ سے 3 لاکھ تک میں خرید سکیں گے. دو ہزار افسران اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ پاکستان کے ہر شہری کو لاکھوں کے قرضے میں ہیں۔ عام بندہ تین لاکھ میں بائیک نہیں حرید سکتا
جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں ہمارا خون بہے گا۔ جہاں ہماری کشمیری ماؤں اور بہنوں کی آنکھوں سے آنسو گریں گے، وہاں ہماری آنکھوں سے خون کے آنسو بہیں گے۔
@BBhuttoZardari#آزاد_کشمیر_کا_نشان_تیر
چند سیکنڈ کا ایک ہنر کسی کی زندگی بچا سکتاہے !!!!
جب کسی کا دل اچانک دھڑکنا بند کر دے تو زندگی اور موت کے درمیان ہر سیکنڈ فیصلہ کن بن جاتا ہے۔
CPR ایک سادہ مگر زندگی بچانے والی مہارت ہے جو طبی امداد پہنچنے تک کسی شخص کی سانسوں اور امید کو برقرار رکھ سکتی ہے۔
CPR چند سکینڈ میں سیکھیں کیونکہ کسی دن ایک انسانی جان کی بقا آپ کے ہاتھوں سے وابستہ ہو سکتی ہے۔👇👇
حکومتِ بلوچستان نے نادرا کے اشتراک سے انٹیگریٹڈ ڈومیسائل مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت پورے صوبے میں ڈیجیٹل ای ڈومیسائل اور ای لوکل سرٹیفکیٹ کی سہولت متعارف کرا دی گئی ہے۔
نئے نظام کے تحت شہری نادرا مراکز، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) دفاتر یا پاک آئی ڈی (Pak-ID) موبائل پلیٹ فارم کے ذریعے ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے اور انہیں آن لائن حاصل بھی کر سکیں گے۔اس اقدام کا مقصد کاغذی کارروائی میں کمی، نظام میں شفافیت کا فروغ، تصدیقی عمل کو تیز تر بنانا اور جعلی دستاویزات کے اجرا کی روک تھام ہے۔حکام کے مطابق یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم عوامی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کے لیے اہم سرکاری دستاویزات تک رسائی کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
منطق کے بادشاہ سمجھے جانےوالے مولانا نے انتہائی غیر منطقی اور بے تکی بات کی ہے۔ ۔ ری ایکشن کو یہ کہہ کر نظر انداز کرنا کہ یہ تو مولانا کی مخالفت میں کروایا جا رہا، ایک اور فضول اپروچ ہے۔۔۔
مولانا نے ماضی میں بھی ایسی غلطیاں کی ہیں اور انہیں درست بھی کیا ہے۔ ۔ ابھی بھی قیامت نہیں آ جائے گی اگر ایک انتہائی فضول بات سے پیچھے ہٹنے کو انا کا مسئلہ بنائیں گے۔۔ جنگیں افواج اور عوام مل کر لڑتے ہیں۔ ۔ یہ تفریق پیدا کرنا کہ ملک و قوم کی حفاظت محض تنخواہ کے لیے ہوتی ہے۔ کسی صورت ہضم نہیں ہو سکتی۔۔
مولاناکو یہ بیان واپس لینا چاہیے۔ ہرصورت۔۔
مولانا فضل الرحمان صاحب
"شہید کی قیمت تنخواہ نہیں ہوتی!"
جب کوئی یہ کہتا ہے کہ "فوجی تنخواہ لیتا ہے، اس لیے جان دینا اس کا کام ہے" تو وہ شاید یہ بھول جاتا ہے کہ تنخواہ کسی انسان کی جان، اس کے بچوں کی مسکراہٹ، بوڑھے والدین کے سہارے اور ایک ماں کی دعاؤں کی قیمت کبھی نہیں ہو سکتی۔
اگر واقعی تنخواہ ہی جان کی قیمت ہے، تو پھر کوئی بھی شخص اپنے بیٹے کو صرف تنخواہ کے بدلے دہشت گردوں کی گولیوں، بارودی سرنگوں اور دشمن کی آگ کے سامنے بھیجنے پر آمادہ کیوں نہیں ہوتا؟
سپاہی صرف نوکری نہیں کرتا، وہ ایک عہد نبھاتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس لیے تیار رہتا ہے کہ اگر وطن پکارے تو اپنی جان بھی قربان کر دے۔ اس کی تنخواہ اس کی شہادت کی قیمت نہیں، بلکہ اس کی ذمہ داری، مسلسل تربیت، سخت حالات میں خدمت اور ہر وقت تیار رہنے کا معاوضہ ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کی قربانیوں کو صرف تنخواہ تک محدود کر دینا ان خاندانوں کے دکھ کو کم نہیں کرتا بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں!
وطن صرف نعروں سے محفوظ نہیں رہتے، بلکہ اُن لوگوں کی قربانیوں سے محفوظ رہتے ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں اور عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔
سلام ہے پاکستان کے ہر شہید کو۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰
Pakistan strongly condemns the blatant attacks carried out against the brotherly Kingdom of Saudi Arabia last night.
Such reprehensible actions constitute a violation of the sovereignty and territorial integrity of the Kingdom of Saudi Arabia and have the potential to further undermine regional peace and stability.
Pakistan reaffirms its unwavering support for the Kingdom’s security and stands in complete solidarity with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia at this critical time.
On its part, Pakistan will continue to support all sincere efforts aimed at promoting peace, stability, security, and mutual understanding across the region.
ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے سابق صوبائی وزیر بعد ازاں وہ عدلیہ میں سیاسی جج کے طور پر مشہور تھا ایک آرٹیکل اس چینل کے اخبار میں چھپا جس کا افتتاح پرویز مشرف نے کیا تھا میرے ایک دوست نے کہا آپ نے اس پر تبصرہ نہیں کیا میں نے جواب دیا وہ اس قابل ہی نہیں
جو شہداء وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرتے ہیں، پوری قوم ان کی قرض دار ہے۔ ان کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔ انکے حوالے سے کی جانے والی کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
یوسف نذر صاحب کی ایکس پوسٹ
جسٹس (ر) اطہر من اللہ کا ڈان میں شائع ہونے والا طویل مضمون، جس میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آج وکلا تحریک کیوں نظر نہیں آتی، ایک اہم پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ آخر 2007ء سے 2009ء کی وکلا تحریک کو اس دور میں ٹیلی وژن چینلز پر مسلسل اور بھرپور براہِ راست کوریج کیوں حاصل تھی۔
پاکستان میں کوئی بھی تحریک ازخود ہر ٹی وی اسکرین پر چھا نہیں جاتی۔ اس کے لیے کوئی دروازے کھولتا ہے، کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کس معاملے کو نمایاں کرنا ہے اور کسے نظر انداز کرنا ہے۔
وکلا تحریک کے گرد بنائی گئی داستان بہت پہلے حقائق سے آگے نکل چکی ہے۔ اسے عموماً ایک ایسی خود رو جمہوری عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے ایک آمرانہ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ مگر حقیقت اس سے کہیں کم رومانوی تھی۔ اس تحریک کو اس لیے تقویت ملی کیونکہ اس کا وقت ریاستی طاقت کے مراکز کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ جیسا کہ میں نے برسوں پہلے بھی لکھا تھا، ریاستی نظام کے طاقتور حلقے ایک دوسرے سے اختلاف کا شکار ہو چکے تھے، اور وکلا تحریک اس وسیع تر کشمکش میں ایک موزوں ذریعہ بن گئی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے اندر یہ تقسیم نہ ہوتی تو غالب امکان یہی تھا کہ یہ تحریک نہ تو اتنی رفتار حاصل کر پاتی، نہ اسے اتنا تحفظ ملتا، اور نہ ہی اسے وہ غیر معمولی میڈیا کوریج نصیب ہوتی۔
اس نظرثانی شدہ تاریخ کا شاید سب سے غیر منطقی پہلو افتخار چوہدری کی شخصیت کو ایک مقدس جمہوری علامت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ وہ کوئی عمر بھر کے باغی نہیں تھے جو جرات کے ساتھ طاقت کے سامنے ڈٹ گئے ہوں۔ ایک صوبائی جج سے چیف جسٹس پاکستان بننے تک ان کا تیز رفتار سفر انہی طاقتور حلقوں کی سرپرستی میں طے ہوا جو بعد میں ان کے مخالف بن گئے۔ انہیں طویل عرصے تک نظام کا فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا تھا، نہ کہ اس کا شکار۔ بعد ازاں انہیں ایک جمہوری ہیرو میں تبدیل کر دینا ایسی تاریخی فراموشی کا تقاضا کرتا ہے جو حقیقت سے زیادہ افسانے سے مشابہ ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ اپنے اس دور کے کردار پر بھی حیرت انگیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، لیکن ان کا مضمون یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس زمانے کے واقعات کو اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی، اشرافیہ کی باہمی کشمکش اور ادارہ جاتی جوڑ توڑ کا ذکر کیے بغیر سمجھا جا سکتا ہو۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آج وکلا تحریک کیوں موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اب بھی اتنے لوگ گزشتہ وکلا تحریک کے بارے میں ایک صاف ستھری، خود ستائشی اور یک رخی کہانی سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں۔ حقیقی عوامی تحریکیں مسلسل عوامی جدوجہد اور اجتماعی یقین سے جنم لیتی ہیں۔ انہیں زندہ رہنے کے لیے نہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی درکار ہوتی ہے، نہ اشرافیہ کی پشت پناہی، اور نہ ہی چوبیس گھنٹے میڈیا کی تشہیر۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے سیاسی ڈراموں کو بعد میں جمہوری رزمیوں کی شکل دے دی جاتی ہے۔ وکلا تحریک بھی ایسی ہی ایک مقدس علامت بن چکی ہے۔
اس کی ابتدا پر سوال اٹھانا گویا گستاخی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شواہد ایک کہیں زیادہ پیچیدہ اور کہیں کم مثالی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاریخ دیانت داری کی متقاضی ہے، داستان سازی کی نہیں۔ جب تک ہم ان آسان اور سہل افسانوں سے جان نہیں چھڑائیں گے، ہم نہ صرف اپنے ماضی کو غلط سمجھتے رہیں گے بلکہ اپنے حال کو بھی صحیح طور پر نہیں جان سکیں گے۔
Justice (Rtd) Athar Minallah’s lengthy article in Dawn asking why there is no lawyers’ movement today suffers from a glaring omission: he never explains why the 2007–09 movement received wall-to-wall live television coverage in the first place.
Movements do not magically dominate every television screen in Pakistan. Someone opens those doors, and someone decides what gets amplified and what gets ignored.
The mythology surrounding the lawyers’ movement has long outlived the facts. It is routinely presented as a spontaneous democratic uprising that shook an authoritarian regime. The reality was far less romantic. The movement gained traction because it coincided with a split within the establishment itself. As I argued years ago, powerful actors within the system had fallen out with one another, and the movement became a convenient vehicle in that larger struggle. Without that establishment divide, it is doubtful that it would ever have acquired the momentum, protection, and saturation coverage that it enjoyed.
The canonisation of Iftikhar Chaudhry is perhaps the most absurd part of this revisionist history. He was not some lifelong dissident courageously standing up to power. His meteoric rise from a provincial judge to Chief Justice of Pakistan was facilitated by the very power centres that later became his adversaries. He was widely seen as a beneficiary of the system, not its victim. To retrospectively transform him into a democratic icon requires a level of historical amnesia that borders on fiction.
Justice Minallah is also curiously silent about his own role in that period. He served as a minister under General Musharraf’s regime. Yet his article reads as though the events of that era can be discussed without acknowledging the intricate web of establishment patronage, elite rivalries, and institutional manoeuvring that shaped them.
The real question is not why there is no lawyers’ movement today. The real question is why so many continue to cling to a sanitised and self-congratulatory narrative about the last one. Genuine grassroots movements arise from sustained public mobilisation and collective conviction. They do not require establishment blessings, elite sponsorship, or round-the-clock media promotion to survive.
Pakistan’s tragedy is that too many of its political dramas are later repackaged as democratic epics. The lawyers’ movement has become one such sacred cow.
Questioning its origins is treated as heresy, even though the evidence points to a far more complicated and far less noble reality. History deserves honesty, not mythology. Until we abandon these convenient myths, we will continue to misread our past and misunderstand our present.
@dawn_com@abbasz55
https://t.co/339BNd3sF2
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پیسہ اتنا اہم ہے، تے کروڑ روپیہُ لے کے مُنڈا پیج کے وکھاؤ، لڑ کے وکھاؤ!!
فہیم گوہر بٹ نے مولوی فضل الرحمان کو کھری کھری سناتے ہوئے مارشل لاء کا سب سے وڈا سپورٹر قرار دے دیا 🙈