محترم محمود خان اچکزئی صاحب،
آپ ایک بزرگ پاکستانی سیاستدان ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں، مگر تاریخ کے بعض حقائق واضح کرنے کی ضرورت ہے؛ آپ کے حالیہ دعوے کہ تین سپر پاورز کو شکست دی گئی حقیقت سے میل نہیں کھاتے۔ 1919 کی جنگِ آزادی کابل یا قندھار میں نہیں لڑی گئی بلکہ درہِ خیبر، مہمند، وزیرستان، کرم اور ژوب جیسے علاقوں میں ہمارے پختون قبائل نے مزاحمت کی اور قربانیاں دیں، جبکہ کابل میں افغان حکومت امان اللہ خان کی قیا��ت میں تھی۔ 1979 میں سوویت یونین کی آمد کو اکثریت نے انقلابِ ثور کے طور پر خوش آمدید کہا، اکثریتی لوگ تو روس نواز تھے، لیکن زمینی محاذ پر بڑی محاذ آرائی میں پاکستانی قبائل، مجاہدین، پاک فوج اور آئی ایس آئی نے اہم کردار ادا کیا۔ 2001 میں امریکی حملے کے صرف دو ہفتوں بعد کابل سقوط کر گیا؛ اکثریتی افغانوں نے غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کیا، جبکہ پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی اور بھاری دباؤ برداشت کیا۔ اپ کو پتہ ہے پچھلے سو سالوں میں افغانستان کے درجنوں جھنڈے بار بار بدلتے رہے، جس کا واضح ثبوت ہے کہ جس کا بھی دل چاہا آیا، قبضہ کیا اور نیا جھنڈا گاڑ دیا، اور ان میں سے کسی نے بھی عوام کو بچا یا روک نہ سکا؛ ۔ تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان نہیں بلکہ اپنی عوام کے ل��ے مسلسل تباہی اور غربت کا قبرستان بن چکا ہے، جہاں نسلیں امید کے بغیر دفن ہو رہی ہیں، جبکہ روس، امریکہ اور برطانیہ آج ترقی، تعلیم اور خوشحالی کے ��راکز ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ روس یا امریکہ کی شکست نہیں ہوئی، بلکہ افغان عوام کی زندگی، تعلیم اور مستقبل شکست کھا گئے۔ محترم اچکزئی صاحب، پاکستانی عوام نے ہمیشہ افغان بھائیوں کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ آپ بھی حقیقت قبول کریں ، افغانستان کا اصل دشمن کوئی باہر نہیں، بلکہ وہ اندرونی سوچ ہے جو ہر ترقی، امن اور خوشحالی کی دشمن ہے۔
شناختی کارڈ کی تجدید کی درخواست پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے ابھی جمع کرائیں اور گھر بیٹھے کارڈ وصول کریں۔
موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ لنک:
For Andriod: https://t.co/jcICxof8yH
For IOS: https://t.co/9741twoNIr
میں پاکستانی پشتون ہوں، افغانی نہیں۔ لفظ اف��ان تاریخ میں بہت بعد میں فارسی متون میں بطور تضحیکی اصطلاح استعمال ہوا، جس کا مطلب تھا پہاڑی علاقے کے وہ لوگ جو فارسی نہیں جانتے۔ یہ پشتونوں کی اصل شناخت نہیں بلکہ ایک بیرونی لقب تھا جو بعد میں سیاسی اصطلاح بن گیا۔ پشتونوں کی اصل تاریخ اس سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ قدیم ویدی متون میں پکتھا اور پکتھون جیسے نام ملتے ہیں، جو آج کے پشتونوں کی قدیم شناخت ہیں، اُس وقت افغانستان نام کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لہٰذا پشتون شناخت افغان نام سے ہزاروں سال پرانی ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ سارے پشتون افغان ہیں، وہ تاریخ، جغرافیہ اور لسانیات سے ناواقف ہیں۔ پشتون ایک لسانی، ثقافتی اور تاریخی قوم ہیں جن کی پہچان ان کی زبان، غیرت اور روایت ہے، نہ کہ کسی مصنوعی سیاسی نام سے۔ ہم پاکستانی پشتون ہیں، ہمارا وطن پاکستان ہے، ہماری وفاداری اس کی زمین اس کے پرچم اور آئین سے ہے۔ افغان مہاجرین کو ہم نے پچاس برس سے پناہ دی، مگر افسوس آج کچھ لوگ ہماری شناخت ��ر قبضہ جمانا چاہتے ہیں،۔ قوموں کی پہچان ان کے ملک سے ہوتی ہے، نسل یا لہجے سے نہیں۔ امریکہ کا انگریز امریکی ہے، برطانیہ کا انگریز برطانوی، سعودیہ کا عرب سعودی اور عراق کا عرب عراقی ہے،ہندوستان کا پنجابی ہندوستانی ہے اور پاکستان کا پنجابی پاکستانی، تو پھر پاکستان کا پشتون کیوں افغان کہلائے؟ شناخت ہمیشہ ریاستی وفاداری سے بنتی ہے اور ہماری ریاست پاکستان ہے۔ ہم اپنی زبان، غیرت اور تاریخ پر فخر کرتے ہیں مگر اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہماری قومیت اسلام ہے اور شہریت پاکستانی۔ افغانی اپنے وطن اور شناخت پر فخر کریں مگر پاکستانی پشتونوں کی شناخت سے چمٹنے کی کوشش نہ کریں۔ پختون تاریخ میں ہے، افغان سیاست میں، اور ہم پشتون پاکستانی ہیں، یہی ہماری پہچان ہے۔