یہ سفر تب شروع ہوا تھا جب کسی ایک وجود کو کائنات کا مرکز مان کر زندگی کے باقی تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔ اِسے محبت کا وہ جنون کہیے جہاں انسان اپنے بنے بنائے اصول، اپنے پرانے رشتے، اور اپنے مان کا پورا سرمایہ کسی کی دہلیز پر لا کر رکھ دیتا ہے۔ دل کا یہ پکا یقین تھا کہ جس کی خاطر دنیا کو پیچھے چھوڑا جا رہا ہے، وہ تنہائی کے ہر طوفان میں ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوگا۔
مگر وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آہستہ آہستہ اْس پناہ گاہ کی دیواروں سے سردی جھلکنے لگی۔ رویوں میں ایک ایسی تبدیلی آنے لگی جو تپتے ہوئے صحرا کی مانند بے سکون کرنے والی تھی۔ جہاں پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، وہاں اب لوگوں کی آراء، دوسروں کے تبصرے اور دنیا بھر کے پیمانے حائل ہونے لگے۔ وہ وجود، جو کبھی صرف محبت کی زبان سمجھتا تھا، اب ہر مصلحت اور ہر بدلتی ہوا کے ساتھ اپنی سوچ بدلنے لگا۔
سب سے گہرا زخم تب لگا جب وہ نظریں، جن سے ہمیشہ تحفظ کی امید تھی، اْن چہروں کی ستائش کرنے لگیں جنہوں نے زندگی کے مشکل ترین موڑ پر پیٹھ میں خنجر گھونپے تھے۔ اپنے ہی سامنے، اپنے ہی زخموں کے خریداروں اور دشمنوں کی تعریف کے پل باندھے جا رہے تھے۔ وہ لوگ جو مٹانے کے درپے تھے، وہ اْس محبوب نظر میں یکایک "سلجھے ہوئے" اور "کامیاب" ٹھہرے۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں روح کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ یہ صرف ایک گفتگو نہیں تھی، بلکہ اْس تمام اخلاص اور قربانی کی نفی تھی جو برسوں کی ریاضت سے کمائی گئی تھی۔ دل نے پکار کر کہا:
"میں اپنی عاقبت برباد کر کے آ گیا جس پر،
وہ اب میرے ہی قاتل کی عدالت کا گواہ نکلا"!
اس کے بعد کسی شکوے، کسی شکایت یا کسی بحث کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ جہاں آپ کے دکھ کی شدت کو ہی نہ سمجھا جائے، وہاں دلیلیں دینا فضول ہو جاتا ہے۔ جب محبت کا مان ٹوٹ جائے اور وہ شخص آپ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے دشمنوں کی محفل کا گواہ بن جائے، تو خاموشی ہی سب سے بڑا ردِعمل بن جاتی ہے۔
اس احساسِ زیاں نے آخر کار ایک سچائی آشکار کر دی: زندگی میں کچھ فیصلے اور کچھ راستے بالکل اکیلے ہی طے کرنے ہوتے ہیں۔ کسی کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا تب تک ہی معتبر رہتا ہے جب تک سامنے والا اْس مان کی لاج رکھنا جانتا ہو۔ اور جہاں یہ بھرم ٹوٹ جائے، وہاں سے خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی خودداری کا آخری تقاضا ہوتا ہے۔
Yahyabatooq...27/06/2026
@Yahyabatooq کیا ہی خوب لکھا
خط کےچھوٹےسےتراشےمیں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافےمیں نہیں آئیں گے
مختصروقت میں یہ بات نہیں ہوسکتی
درداتنےہیں خلاصےمیں نہیں آئیں گے
اسکی کچھ خیرخبرہوتوبتاؤ یارو
ہم کسی اوردلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمارسےرخصت لی ہے
صاف لگتا ہےجنازےمیں نہیں آئیں گے
یعنی فجر کی تلاوت کو بھی اہمیت دو۔
یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔
پس قرآن کریم پڑھنا صرف خاص دنوں تک ہی مخصوص نہیں کیا گیا
بلکہ نمازوں کے ساتھ اسے بیان کر کے اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے 🌺
اللہ تعالیٰ نے جہاں نمازوں کے مختلف اوقات کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے
وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ
وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ۔ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا
👈 بنی اسرائیل: 79
👇👇
ASSALAMU ALAIKUM WAREHMATULAHE WABARAKATOHOE JIIIII AND BEST WISHES FOR ALL OF YOU AND HAVE A NICE AND BEAUTIFUL DAY JIIIII AND STAY HAPPY JIIIII AND GOOD MORNING JIIIII🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞🌞
@MohsinZafar888
محسن جنم دن مبارک
یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
تیری زندگی کی روشنی کو خُدا
کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے
کِھلتے پھولوں کی رِدا ہو جائے
اِتنی حسّاس ہوا ہو جائے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اِتنا مہربان خُدا ہو جائے
🖤#Queen
@MohsinZafar888
محسن جنم دن مبارک
یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو
تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
تیری زندگی کی روشنی کو خُدا
کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے
کِھلتے پھولوں کی رِدا ہو جائے
اِتنی حسّاس ہوا ہو جائے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اِتنا مہربان خُدا ہو جائے
🖤#Queen