@iqrarulhassan مجھے بھی یہ شخص پسند نہیں اور نہ ہی اسکی بنائی گئی ویڈیو کو سچ مانتی ہوں لیکن دلوں کا حال اللہ جانتا ہے اس لیے لائک یا کمنٹ کے بغیر سکرول کردیا۔ گل صاحب بھی یہی کرلیتے تو بہتر ہوتا
My mother, Aleema Khan, was abducted after leaving home this morning. Our family has had no contact or news of her whereabouts. She is on bail in all cases against her in Lahore. We demand the government immediately disclose her whereabouts and ensure her safe return.
@Aleema_KhanPK
The sister of jailed former Pakistan Prime Minister Imran Khan has been arrested at her house in Lahore, ahead of the Pakistan Tehreek-e-Insaf's (PTI) Long March on September 27, according to a PTI Punjab spokesperson.
🔴 More on https://t.co/MbrRGkFd1I
And it get’s worse.
My cousin Shahrez’s 2 children of 4 and 6 years old are now missing.
There is no limit to their cruelty. Complete disregard for humanity.
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
پاکستان تحریکِ انصاف کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں صرف 100 روپے عطیہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔
آپ اپنے عطیات MCB بینک (اکاؤنٹ نمبر: 1208326601008525) یا جاز کیش ایپ کے Donations سیکشن کے ذریعے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔
Very powerful and much needed intervention from former Prime Minister @BorisJohnson calling on Pakistan to free @ImranKhanPTI
“What the Pakistani generals fear is that if they let him out, his millions of fans in Pakistan will simply bear him aloft to a tumultuous victory in the next available election. That is why they are treating him with such cruelty – refusing even to allow his two sons, Sulaiman and Kasim, to have visas to visit him in jail.”
https://t.co/MQrw0NGsA0
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
https://t.co/Yf5eCx2fAi
عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے انسانی حقوق اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوال ہے۔یہ قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون ہے۔یہ طرزِ عمل فاشزم ہے، اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
عمران خان، بشریٰ بی بی اور تقریباً ایک ہزار دیگر افراد غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران 40,000 سے زائد افراد کو قید کیا گیا اور بعد ازاں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ جو لوگ ضمانت پر ہیں، انہیں پورے پاکستان میں جھوٹے مقدمات اور جعلی ٹرائلز کا سامنا ہے۔
جب ججوں نے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی تو اس غیر قانونی حکومت اور ان کے آقاؤں نے 26ویں آئینی ترمیم منظور کر دی۔ اس ترمیم نے انہیں یہ آزادی دے دی کہ وہ ان ججوں کو ہٹا سکیں یا نظر انداز کر سکیں جو اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنا چاہتے تھے۔ اس ترمیم نے سینیارٹی کے اصول کو ختم کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو چُن کر اس عہدے پر لایا گیا۔ انہیں یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ضمانت نہ مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی ضمانت کی درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا انتخاب بھی سینیارٹی کے اصول کے برخلاف کیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کے ان تین ججوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا جنہوں نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
گزشتہ روز، 16 ستمبر 2026 کو، ہم نے سپریم کورٹ کا انہدام دیکھا، جب انہی ججوں نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا۔ اٹارنی جنرل نے تو توہینِ عدالت کی سماعت میں پیش ہونے کی زحمت تک نہیں کی!
2007 میں وکلا نے آمر جنرل مشرف کو اس وقت جھکنے پر مجبور کر دیا تھا جب وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 2007 میں آمر مشرف نے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے صرف چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹایا تھا۔
2026 میں پورا عدالتی نظام منہدم ہو چکا ہے۔ 2007 میں ہم سب چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ 2026 میں ہم پاکستان میں انصاف کی بحالی کے لیے وکلا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان انصاف لائرز فورم (ILF) کو فوری طور پر، بغیر کسی تاخیر کے، قیادت سنبھالنی چاہیے۔ عدالتی نظام کا انہدام ملک کو انتشار کی طرف لے جائے گا، اور پاکستان اس کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا!
یہ وقت انصاف، عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونے کا ہے!!!
🇵🇰 Pakistan-administered Kashmir internet shutdown continues past 100 days despite new government
Mobile data and broadband services in Pakistan-administered Kashmir have remained suspended for more than 100 days, since authorities imposed the shutdown on June 5 amid protests over electoral reform, according to internet monitor NetBlocks.
➤ The blackout has continued disrupting banking, business, and education in the state, despite the formation of a new government following elections that concluded Aug. 10.
➤ Pakistani authorities had postponed these elections and banned the Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee, which had demanded the removal of 12 legislative seats reserved for refugees from Indian-administered Kashmir, and cracked down violently on protests.
➤ Residents say Pakistani authorities have killed more than 50 people, including seven law enforcement personnel, though these estimates have not been independently verified.
کل قاعدے اور ضابطہ کے مطابق میری عمران خان سے ملاقات ہے۔۔
کل بروز جمعرات چیئرمین عمران خان صاحب سے ملاقاتوں کے لیے مقررہ فہرست جیل حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔
یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ آج سپریم کورٹ میں عمران خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے اور ملاقاتوں کے حوالے سے معاملے کی سماعت مزید تین ہفتوں کے لیے مؤخر کر دی گئی، جس پر عوام اور عمران خان صاحب کے کارکنان میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کی ہدایت پر اکتوبر 2025 سے میں مسلسل ہفتے میں دو دن عمران خان صاحب سے ملاقاتوں کی فہرست مرتب کرکے جیل حکام کو فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ملاقاتوں کے حق پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش کا حصہ تھا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ملاقاتوں کے معاملے میں مطلوبہ عمل درآمد نہیں ہو سکا، اور اب سپریم کورٹ کے احکامات کے حوالے سے بھی عملی صورتِ حال تسلی بخش نہیں ہے۔
ہماری جدوجہد ایک بے گناہ قیدی اور ملک کے سابق وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب سمیت عدالتی احکامات، قانونی حقوق اور قانون کی بالادستی کے اصول کے لیے ہے۔ عدالتوں کے واضح احکامات پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اگر عدالتی احکامات ہی مؤثر انداز میں نافذ نہ ہوں تو عام شہری کے لیے انصاف کے نظام پر اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات کی روح کے مطابق عمران خان صاحب سے ملاقاتوں کے حق کو یقینی بنائیں گے اور اس معاملے کو مزید غیر ضروری تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
"The Pakistani establishment have yet to alleviate any of our father’s conditions or listen to any court orders, such as a phone call at the very least. We want a heath checkup and a report we can see. An unbiased report through which we can verify his conditions." - @Kasim_Khan_1999
#FreeImranKhan