“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
میں نے پہلی بار پاکستانیوں کو سیاسی طور پر ایک قوم بنتے دیکھا، جب پوری قوم اور ہر طبقے سے لوگ اس امپورٹڈ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ چیئرمین عمران خان
بے شک، 8 فروری کو قوم نے پاکستان کے ہر شہر سے ووٹ دے کر یہ ثابت کیا کہ #خان_اور_پاکستان_ایک_جان ہیں۔
“انشأللہ ہم وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں گے-
نتائج تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے” - بیرسٹر گوہر، چئیرمین تحریک انصاف
ایک جیل میں بند خاتون کا مینڈیٹ چوری کروا کر
اور مانسہرہ سے اتنی ہزیمت کے بعد
وکٹری سپیچ نہیں
8 فروری کی شدید مذمت کروا لیں
نواز شریف کی ساڈی گل ہو گئی اے والوں سے درخواست
وزیر آباد میں عمران خان کو قتل کرنے کیلئے تین ماہر شوٹر بھیجے گئے تھے
تینوں کو جدید اور خودکار ہتھیار دے کر ایسی پوزیشنز پر کھڑا کیا گیا تھا کہ عمران خان کسی صورت نہ بچ سکے
جائے وقوعہ پر ایک دن پہلے ریہرسل بھی کی گئی تھی
لاہور ، اسلام آباد ، لندن اور راولپنڈی میں کچھ جگہوں پر انتہائی بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کے قتل ہونے کی خبر اب آئی کہ تب آئی
جائے وقوعہ پر موجود لوگ لمحہ بہ لمحہ اوپر خبریں دے رہے تھے
ردعمل کو کنٹرول کرنے کا بندوبست بھی کر لیا گیا تھا
مگر ہم سب نے دیکھا کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے
تینوں شوٹرز ناکام ہوئے
خان اور اس کے ساتھی زخمی تو ہوئے
مگر ان کی جان بچ گئی
اب اگلا مرحلہ ڈیمیج کنٹرول تھا
جو خیر آج تک نہیں ہو سکا
اگلی سازش عمران خان کو زہر دینے کی تیار کی گئی
یہ سازش بھی پکڑی گئی ، بندہ بھی پکڑا گیا
ہارون رشید نے اس پہ وی لاگ بھی کیا
قتل کی تیسری بڑی سازش جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں رچائی گئی
یہ سب سے زیادہ خوفناک سازش تھی کہ جس میں پولیس ، رینجرز اور ایجنسیوں کے سینکڑوں اہلکار جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے، سب کچھ مانیٹر کیا جا رہا تھا
مراد سعید تک کو یقین ہو گیا تھا آج خان کا زندہ بچ کر جانا ممکن نہیں ہے
مگر اللہ نے ایسا معجزہ دکھایا کہ اسلام آباد کے شہری جوڈیشل کمپلیکس پر ٹوٹ پڑے
اور خان خیر و عافیت سے نکل آیا
افغانستان سے کرائے کا جو قاتل منگوایا گیا اسے خیبر پختونخوا پولیس نے پاکستان داخل ہوتے ہی گرفتار کر لیا تھا
لاہور زمان پارک پہ رینجرز اور پولیس کا چھتیس گھنٹے جاری رہنے والا حملہ بھی اسی لئے پسپا کرنا ضروری تھا
کہ انہی ہنگاموں کی آڑ میں عمران خان کو قتل کر دینے کا پلان تھا
اس لئے مراد سعید نے سختی سے ہدایت کر رکھی تھی کہ عمران خان باہر نہ نکلنے پائے
وزیر آباد میں عمران خان قتل ہونے کا سب سے زیادہ یقین تھا
اس لئے اس رات جشن کا اہتمام کیا گیا تھا
بالکل ویسے ہی جیسے ارشد شریف شہید کے قتل پہ کیا گیا تھا
اللہ نے مگر بتایا کہ زندگی اور موت کا اختیار صرف میرے پاس ہے
آپ سب بھی بس اس پہ یقین رکھیں
پانچ بڑے حملوں میں عمران خان زندہ بچ گیا
آئندہ بھی اسے کچھ نہیں ہو گا
اللہ جن سے کوئی کام لینا چاہے
ان کی حفاظت بھی خود کرتا ہے
اور یہ سنی سنائی باتیں نہیں ہیں
ہم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
اب عمران خان کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے
سزائے موت تو یہ پہلے بھی پانچ بار سنا چکے
موت دے سکے کیا ؟
نہیں نا ؟
اب بھی نہیں مار سکیں گے
پاکستان 1947 کی طرح اپنی تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے
اسی موقعے کیلئے اللہ نے عمران خان کو بار بار قاتلانہ حملوں سے بچایا ہے
خان کے کام کا وقت تو آگے آ رہا ہے
گھبرائیں بالکل نہیں
خان کو کچھ نہیں ہو گا
اللہ باقی من کل فانی !
سپریمُ کورٹ کی وفات ہو گئی، یہ اب تو سب کو نظر آرہا ہے! مگر اس ناچیز نے مہینوں پہلے بتا دیا تھا کہ جب جسٹس عمر عطا بندیال اور سینئر جسٹس اپریل ۲۰۲۲ میں ۹۰ دن میں الیکشن کا حکم نہ دے سکے تھے اور جرنل باجوہ کے دباو میں آ گے تھے،تو اسی دن سپریم کورٹ نے خود کشی کر لئی تھی! وکیلوں کا بہت بڑا مسلہ یہ ہے کہ یہ بے چارے دنیا کو اور سیاست کو قانون اور section Mo. 99, 89, 75 etc کے لینز سے دیکھتے ہیںُ اور اپنے آپ کو عقلمند بھی بہت سمجھتے ہیں! اب یہ Article 2, 3, 4, 5, read with 215, 218 etc کی چوسنی منہ میں لیں کے بتایں کہ اب سپریمُ کورٹ کا بلڈنگ کے علاوہ کیا بچا ہے؟ اللہُ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے! مرحوم نے کبھی کبھی انصاف کرنے کی کوشش کی مگر مرحوم کبھی کامیاب نہ ہو سکا یا سکی! کورٹ مونث ہی تھی کبھی مردانگی تو تھی ہی نہیں! https://t.co/nbfNJDbv8N via @YouTube
یہ دنیا کا کون سا قانون ہے؟ اسرائیلی جیلوں میں وفات پانے والے فلسطینی قیدیوں کو دفن کرنے کی بجائے جیل کے ریفریجریٹروں میں بند کر دیا جاتا ہے تا کہ انکے خاندانوں کو بتایا جائے کہ موت کے بعد بھی انکے پیارے جیل میں رہیں گے اسوقت بھی اسرائیل کی جیلوں میں 142 فلسطینی قیدی اپنی موت کے باوجود ریفریجر یٹروں میں بند ہیں
پنجاب میں ہماری پی ٹی آئی کی خواتین ورکر اور بہت سے لوگ بغیر جرم کے جیل میں پڑے ہوئے
اور یہ سب صرف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی کمزوری کی وجہ سے ہورہا ہے
وہ کوئی ایکشن نہیں لے رہے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں
بیرسٹر حامد خان