@najamwalikhan Aap aik baat likhna Bhool gaye k yeh Kya ha k aik IPP Jo bijli na bhi paida kare wo full capacity k paise govt of Pakistan se wasool kare ga .jis k natija ma Pura mulk mehngi bijli aur sitam zareefi yeh k sardiyon ma bhi load shedding jari Rahi ha .
دسمبر میں اڈیالہ جیل ٹرائیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئ تو میں نے کہا مجھے نہیں لگتا الیکشن ہوں گے کیونکہ حکمران بہت زیادہ غیرمقبول ہیں، عمران خان کا تجزیہ تھا کہ الیکشن ہوں گے اور فکر نہ کرو یہ جو بھی کر لیں تحریک انصاف بڑی اکثریت سے جیتے گی، جب آٹھ فروری ہوا تو عمران خان کا تجزیہ بالکل درست ثابت ہوا، انتخابات میں لوگوں نے تمام ظلم جبر، دھاندلیوں اور حتیٰ کہ انتخابی نشان کے بغیر تحریک انصاف کو عمران خان کے نام پر ایسا ووٹ کیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی،اسی مہینے مجھے عدالت کے حکم پر جیل میں TV ملا تھا (جو باقی تمام قیدیوں کے پاس شروع سے ہوتا ہے) رات کو جیل میں PTV پر نتائج سنتے سنتے میں اور میرا سنتری حیران ہو رہے تھے کہ کمال ہی ہو گیا ہے کہ رات کو اچانک TV بند کر دیا گیا، انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کا عمل آٹھ فروری کی رات شروع ہوا یہ نو فروری کو بھی جاری رہا، تحریک انصاف گھر بیٹھی رہی یہ وہ موقع تھ جب عمر ایوب کو Victory Speech کرنی تھی اور پورے ملک کے کارکنان کو اپیل کرنی تھی کہ وہ نتائج تبدیل نہ ہونے دیں، بدقسمتی سے اسی دوران تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب اور شبلی فراز نے یہ ڈیل کر لی کہ نتائج تبدیل ہوئے بھی تو تحریک انصاف احتجاج نہیں کرے گی، اگر تحریک انصاف اس دن تحریک میں گئ ہوتی اس ملک کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ہر MNA اور MPA جن کا نتیجہ تبدیل کیا گیا وہ گراؤنڈ پر تھے اور ہر حلقے کو قیادت میسر تھی، لیکن عمر ایوب اور شبلی فراز کی قیادت میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے اس وقت ایک ڈیل کے ذریعے جو خاموشی اختیار کی اس کا بھاری نقصان تحریک انصاف اب تک بھگت رہی ہے، پاکستان پر غیر آئینی، غیر اخلاقی حکومت مسلط ہوئ اور جمہوریت تاراج ہوئ، عمران خان سے بعد میں ملاقات ہوئ تو وہ شدید غصے میں تھے اور انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ کس نے کیا کھیل کھیلا اور کس طرح جیتے ہوئے الیکشن کو مسترد لوگوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا! Rest is the History #8thfeb