🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
میرے بیٹے حسان نیازی کی شادی ہوئی تو میں نے انڈیا سے مودی یا کسی اور کو نہیں بلایا تھا، کیا پاکستان کے میڈیا کا یہی کام رہ گیا ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی کا بھی نام کسی بھی بات سے ��وڑ دے،
نورین نیازی
“کہتے ہیں سٹریٹ موومنٹ کے لیے خرچہ کہاں سے آیا؟ گاڑی کا پٹرول اپنا تھا، دو سپیکر اوپر لگا لیے، یہ خرچہ ہوا۔ کسی نے بندوبست نہیں کیا۔ لوگ خود سن کر نکلے لوگوں کا عمران خان سے پیار ہی بہت ہے، اتنی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر ہمیں بہت حوصلہ ملا۔ چترال میں ہم نے دو جگہ رکنا تھا، دو کی بجائے 9 جگہ رکنا پڑا، لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے لوگ بہت پرجوش تھے، نکلنے کے لیے تیار تھا۔”
- @Aleema_KhanPK
#ReleaseImranKhan
#StreetMovement
🚨میری کل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بات ہوئی انہوں نے کہا ہم نے ایک ہی مرتبہ کال دینی ہے اور Final کال دینی ہے ہم روز روز مر رہے ہیں ہمیں روزانہ ورکرز کو ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم عمران خان کے وفادار ہیں یہ بدقسمتی ہے۔
صوبائی صدر خیبرپختونخوا جنید اکبر کا شانگلہ میں سٹریٹ موومنٹ کے تحت کنونشن سے خطاب
نورین نیازی کو نوٹس بھیج دیا ، اب کیا نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنے گا؟ یہ دوہرا معیار ہمیشہ نامنظور رہے گا۔ یہ منافقت ریجیکٹڈ ہے عوام کی طرف سے۔
علیمہ خانم نے سوات سے اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کیا تو عوام نے بھرپور شرکت کر کے بتایا کہ وہ کب سے اس کال کے انتظار میں تھے۔ علیمہ خانم نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی قید تنہائی فوری ختم کی جائے اور ان کے ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں جیل بھیج دیا گیا تو سب کو اس کے باوجود عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک جاری رکھنی ہے۔ اب صرف ایک جلسہ نہیں بلکہ اڈیالہ جیل کی طرف مارچ ہوگا۔
شہباز گل
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئ�� ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج ��یں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ ��ان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے سات�� کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خان کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ��ٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔