آپ کے جھوٹ میں یہاں عیاں کروں گا۔ آپ کی اتنی ہمت کیسے ہوئ کہ آپ نے مجھے جھوٹا کہہ دیا ؟ آپ کی حیثیت میری نظر میں ایک خبیث سے زیادہ نہیں۔
کہاں آپ نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ فقط ایک یا دو تحریک انصاف کے لوگ منکرین ختم نبوت ہیں ؟ایک تو آپ نے کہا نہی اور اگر کہا ہے تو کسی ایک مسلمان کو منکر ختم نبوت کہنے کا آپ کو کس نے حق دیا۔
میں کوئ سیاستدان نہیں کہ آپ کا لحاظ کرونگا۔ میں آپ کی بدتمیزی کو برداشت نہی کرونگا اور آپ کی قمیض اُتار کر آپ کے کندھے پر رکھ دونگا۔
کوشش کرکے دیکھ لیں۔ منتظر ہوں۔
⚡*ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا!*
تربیلا ڈیم کے کئی یونٹس بند،
پیداوار خطرناک حد تک کم
شہروں میں اندھیروں کا راج اور عوام پریشان!
لیکن وفاقی حکومت کہتی ہے پاکستان اونچی اڑان پر ہے۔
@tcs_couriers بہت افسردہ ہوں 6 تاریخ سے میرا پارسل گوجرانوالہ سے نکلا ہوا ہے اور آج 10 تاریخ کو بھی ابھی تک آپ گجرات کے گاؤں میں ڈلیور نہیں کر پا رہے جبکہ آن لائن ٹریکینگ کے مطابق 7 تاریخ کو کھاریاں پہنچا ہوا ہے۔
What a worst service
ان کو پاپولیرٹی سے نفرت ہے اگر وہ عمران خان کی ہو۔ یہ جمہوریت کے مخالف ہیں اگر خان منتخب ہو۔ وہ سبسڈی حرام جو خان دے۔ یہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اگر فوج ،خان کے ساتھ چلے۔آزاد عدلیہ نہیں چاہئے اگر فیصلہ خان کے حق میں آۓ۔ انھیں ساتھی صحافی زہر لگتے ہیں اگر وہ خان پر ظلم کی بات کریں۔
بیانیہ : حکومت کی مجبوری تھی، عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
حکومت کی تو سمجھ آتی ہے جو دیگر دوست یہ بیانیہ بیچ رہے ہیں ان کو کی مجبوری بہت ہی بڑی ہوگی!!
اگر یہ بیانیہ بک سکتا ہے تو پھر اس نعرے پر الیکشن جیتا جاسکتا ہے کہ چاند اور سورج کو بیچ کر ملک کاقرضہ اتار دینگے!!
عمران خان نے پٹرول 160 سے 150کرکے 10روپے کی سبسڈی دی تو چٹواری کہتے تھے 10روپے سبسڈی سے ملک دیوالیہ ہو جاتا
آج وہی IMF پروگرام ہے سبسڈی 70روپے دی جارہی ہے
اب کوئی ملک دیوالیہ نہیں ہورہا
معیشت کے معاملے میں چٹواریوں نے جھوٹ بول بول جو لعنت اکٹھی کی ہے اسکی کوئی حد نہیں
73 سال کی عمر اور قید تنہائی میں ڈھائی سال گزارنے کے بعد عمران خان کا یہ ایک جملہ تاریخ کی لوح پر کندہ ہو گیا ہے کہ “میری جیل میں کوئی خواہش نہیں سوائے اس کے کہ مجھے جینے کیلئے بنیادی ضروریات پوری کر دی جائیں”
یہ ایک جملہ ریاست کی 4 سالہ فسطائیت، زمینی خدا بننے کے لامتناہی حربوں اور اندھی طاقت کو بہا لے گیا ہے، یہ ایک جملہ اس ہائبرڈ نظام کے غرور اور تکبر کو زناٹے دار طمانچہ ہے اور یہ ایک جملہ اس ملک کے در و دیوار سے بازگشت کی طرح ٹکراتا رہے گا کہ جس شخص کو توڑنے کیلئے زمین و آسمان کی تمام بلائیں گرا دی گئیں وہ 30 ماہ کی بدترین قید کے بعد بھی اپنا سر اونچا کر کے کہہ رہا ہے کہ مجھے ان سے کچھ نہیں چاہیے۔