ملک میں بچت مہم چل رہی ہے یوتھیے سارا دن مریم ، شہباز شریف ، بلاول سب کی گاڑیاں گنتے مگر چیک کیججے سہیل آفریدی درجنوں سرکاری گاڑیوں کی شاہی سواری کے ساتھ سیاسی جلسہ میں جا رہا ایک بھی یوٹیوبر صحافی اس پر تنقید نہی کرے گا
پشتون عوام کے پیسے کا حساب کون لے گا ؟
ایک کلومیٹر سڑک ایک ارب 10 کروڑ روپے کا
نئے خیبرپختونخوا میں ایک کلومیٹر سڑک کی تعمیری لاگت ایک ارب 10 کروڑ روپے ہے
اس سڑک کا نظارہ کرنے کیلئے آپ پشاور کا دورہ کر سکتے ہیں
ایک ارب 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک کلومیٹر شاہراہ پشاور میں تعمیر ہورہی ہے
خیبرپختونخوا کرپشن کہانی
سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر کو اپنے ماتحت مگر پی ٹی آئی کے اہم رہنماء کے رشتہ دار ڈی جی سے بلیک لسٹڈ فارم کو ٹھیکہ دینے کا سوال مہنگا پڑ گیا
سیاسی مداخلت اور دباؤ سے سیکرٹری زراعت ڈاکٹر امبر کو عہدے سے ہٹایا گیا
سیکرٹری زراعت نے پی ٹی آئی کی اہم شخصیت کے رشتہ دار ڈی جی سے جب بلیک لسٹڈ نرسری فارم کو کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دینے پر اعتراض کیا تو سیکرٹری زراعت کا یہ اقدام جرم تصور کیا گیا ماتحت مگر پی ٹی آئی رہنماء کے رشتہ دار ڈی جی شکایت اوپر تک لے گئے وہاں سے شاہی فرمان جاری ہوا اور یوں سیکرٹری زراعت کو راستے سے ہٹا دیا گیا تاکہ کروڑوں روپے کا ٹھیکہ بلیک لسٹ نرسری فارم کو دیا جائے
یہ ایک صفحہ بطور ثبوت پیش کررہا ہوں، مزید تحریری ثبوت بھی ہے
حکمران اتحاد کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم ، اراکین اسمبلی اور سینیٹ اپنے اثاثے خفیہ رکھ سکیں گے، یہ کیسے عوامی نمائندے ہیں جو عوام سے اپنی جائیدادیں چھپانا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف افسران کے اثاثے ظاہر کرنے پر زور دے رہا ہے یہاں حکمرانوں نے اپنے اثاثے خفیہ رکھنے کا قانون بنا لیا ہے۔
اس ہفتے میں ایک اہم پریس کانفرنس سے قوم کو مخاطب کروں گا—
تاکہ کے پی حکومت کا وہ بدصورت اور چھپا ہوا چہرہ سب کے سامنے لایا جا سکے جسے جان بوجھ کر پردوں میں رکھا گیا ہے۔
وزیرِاعلیٰ سہیل افریدی اور ان کے اردگرد موجود بابوؤں کے ٹولے نے یہ خوش فہمی پال لی ہے کہ
انتقامی اقدامات، دباؤ اور خاموشی مسلط کر کے
مجھے دبایا جا سکتا ہے۔
یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔
اب یہ معاملہ خاموش اختلاف کا نہیں رہا—
یہ کھلی، آئینی اور سیاسی جنگ ہے،
اور میں اسے اس کے منطقی انجام تک لے جاؤں گا۔
میں واضح طور پر یہ مؤقف رکھوں گا کہ
کے پی حکومت نے:
ڈرون پالیسی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی،
فوجی آپریشنز پر صوبائی اختیار اور عوامی اعتماد قربان کیا،
افغان مہاجرین کے انخلا کو بدنظمی، غیر شفافیت اور سیاسی مفاد کی نذر کیا،
اور سب سے بڑھ کر شفاف طرزِ حکمرانی کو محض نعرہ بنا دیا۔
خاص طور پر مائنز اینڈ منرلز سیکٹر میں
اربوں روپے کی مبینہ کرپشن
اس حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ وہ شعبہ ہے جہاں وسائل عوام کے ہیں،
مگر فائدہ مخصوص ہاتھوں میں جا رہا ہے—
اور حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
میں یہ بھی دو ٹوک الفاظ میں کہوں گا کہ
جو کچھ آج کے پی میں ہو رہا ہے
وہ عمران خان کے وژن کی صریح نفی ہے۔
خان صاحب نے جس تبدیلی، شفافیت اور خودداری کی بات کی تھی،
یہ حکومت اس کی الٹی تصویر بن چکی ہے۔
میرا مقصد انتشار نہیں،
احتساب ہے۔
میری لڑائی اقتدار سے نہیں،
اصولوں سے انحراف کے خلاف ہے۔
میں دباؤ میں آنے والوں میں سے نہیں،
اور نہ ہی حق بات سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے ہوں۔
حقائق، سوالات اور شواہد کے ساتھ
یہ معاملہ عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
یاد رکھیے:
طاقت وقتی ہو سکتی ہے،
مگر سچ آخرکار بولتا ہے۔
یہ کسی شادی کا منظرنہیں بلکہ 800 ارب روپے مقروض خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی قیادت میں صوبائی کابینہ سرکاری وسائل کا بے دردی سے استعمال کرکے اڈیالہ کی جانب گامزن ہے
خیبر پختونخوا میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے محکموں کو لوٹا جا رہا ہے
صوبائی حکومت اور وزرا نے سیکرٹریز دفاتر کے باہر ناکے لگائے ہوئے ہیں جو فائل آتی ہے اس میں کھانچہ مارنے پر نظر ہے
گورنر فیصل کریم کنڈی کا صوبائی حکومت پر کرپشن کے تابڑ توڑ الزامات
آج ابصار عالم نے اس معاشرے میں زہر پھیلانے والے یوٹیومرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جن کی وجہ سے آج پاکستانی معاشرہ بربادی کی جانب گامزن ہے اور ان یوٹیوبروں نے صرف ماہ نومبر میں کروڑوں کی دیہاڑی لگاکر صرف جھوٹ بیچا ہے
آخری جواب انتہائی اہم ہے کہ ان یوٹیوبروں کو بنانے والا کون ہے
مستی سے لگ رہا ہے ناچتی سرکاری گاڑی نے شراب پی رکھی ہے
نصب شب حیات آباد کی شاہراہ پر سرکاری گاڑی کی استعمال سے ثابت ہو رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے محکمے یوں ہی تباہ نہیں ہوئے۔
خیبر پختونخوا کے ہسپتال کی حالت زار
ضلع مردان کے سب سے بڑے طبی ادارے مردان میڈیکل کمپلکس کےکارڈیالوجی آئی سی یو کے بیشتر بیڈز کے نیچھے یا تو آپ کو بلی دیکھنے کو ملے گی یا مردہ چوہے
پی ٹی آئی دور میں 25 سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا، کسی کو وکیل تک نہیں دیا گیا
بغیر ایف آئی آر لوگوں کو دو،دو سال تک جیلوں میں رکھا گیا، میں نے بھی ملٹری کورٹ کا سامنا کیا
اس وقت انسانی حقوق کا نعرہ کہاں تھا!
ایڈوکیٹ انعام الرحیم
🚨🚨جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کا سارا ڈیٹا ساتھ لے گیا جو بہت حساس نوعیت کا تھا اور تیس ارب روپیہ اس نے کرپشن سے بنایا
آپ سوچیں ہم جو عام جاب بھی کرتے ہمیں اس آفس کے ہر طرح کا ڈیٹا جاب چھوڑتے وقت واپس کرنا ہوتا ہے اب آپ سمجھیں پی ٹی آئی کیسے چل رہی تھی
پاکستان میں ایک تاثر تھا کہ فوج ایک مقدس گاۓ ہے
ان جرنیلوں کے بڑے کالے کرتوت ہیں، یہ ریپ سے لے کر ہر دوسرے گناہ میں ملوث ہیں
ان جرنیلوں کا احتساب کیے بنا پاکستان کی ترقی ممکن نہیں
پی ٹی ایم کے سربراہ @ManzoorPashteen نے ان تمام صحافیوں کو چیلنج کیا جو قومی جرگے کے بارے میں منفی پروپیگنڈا میں پیش پیش ہے.انہوں منفی پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کیساتھ آئے لائیو شو کرتے ہیں کہ آپکے دلائل میں کتنی سچائی ہے.
آج خیبر میں کربلا تھی
خیبر میں پرامن پٹھان جو بیابان میں بیٹھے ہیں جرگے کے انتظامات کررہے ہیں
ان پر صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے کارروائی کرکے تین افراد کو شہید اور 12کو زخمی کردیا
میں وہاں جانے لگا تو پولیس نے مجھے وہاں جانے نہیں دیا میں اس معزز ایوان کا حصہ ہوں اور فارم 45کا ممبر ہوں فارم 47کی پیدوار نہیں ہوں
سٹبلشمنٹ ، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو شکست دے کرآیا ہوں عوام کی طاقت اور جرات سے آیا ہوں
کوئی خوش ہوتا ہے یا خفا ہوتا ہے خیبر پختونخوا کی عوام پر ظلم اور بربریت جاری ہے وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی ہے جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے
پرامن تنظیم وہ جوان کو گزشتہ 20سال سے جاری جنگ اور بدامنی سے تنگ آگئے ہیں
اپنے عوام کیلئے امن مانگ رہے ہیں پولیس کیلئے امن مانگ رہے ہیں اس پرامن تنظیم پر وفاقی حکومت نے پابندی لگادی
انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997کے تحت پابندی لگی ہے جو رجسٹرڈ تنظیم بھی نہیں ہے یہ آئین ہمیں تنظیم پارٹی تحریک چلانے اور پرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا حق دیتا ہے
اس تحریک نے آج تک کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا
جس قانون کے تحت پابندی لگی ہے اس کے تحت تین روز میں وفاق پابند ہے کہ وجہ بتائے کہ اس تنظیم نے کہاں دہشتگردی کی ہے
یہ اس مٹی کے بچے ہیں چاہے یہی کہ ریاست اس کے سوالات کے جوابات دے مسائل کو حل کرے
آج وفاقی ہو یا صوبائی حکومت ہو۔۔۔ دونوں بے اختیار ہیں
صوبائی حکومت کہتی ہے آئی جی میرے اختیار میں نہیں
بہت افسوس کی بات ہے چیف سیکرٹری اور آئی جی آپ کے اختیار میں ہیں آئین یہی کہتا ہے
کیسے پولیس اپنے احکامات پر پرامن نوجوانوں پر کارروائی کرتی ہے تین بار کارروائی کی گئی شیلنگ کی گئی خیمے جلائے گئے
جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر وفاقی حکومت نے شیلنگ کی اورآپ لوگ اسے ظلم کہتے تھے ویسے ہی صوبائی حکومت نے ان پر تین بار شیلنگ کی آنسو گیس استعمال کی ایف سی بھیجی گئی جس کے حکم پر گئی ؟
آئی جی کو اس ہاﺅس میں طلب کیاجائے اور سوال کیاجائے کہ کس کے کہتے پر یہ کارروائی کی گئی
عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم اور بربیت کی مذمت کرتی ہے اور سوال کرتے ہیں ریاست سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہ کیوں ظلم اور بربریت کی گئی
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی نثار باز
عمران خان کا منصوبہ یہ تھا بنگلہ دیش ماڈل پر انقلاب لایا جائے۔ورکرز اور ہجوم کو خیبرپختون خواہ سے اسلام آباد لا کر کھلا چھوڑ دیا جائے۔اس ہجوم کا کوئی لیڈر نہ ہو۔ہجوم کا ہر فرد خود کو لیڈر سمجھے اور خود فیصلہ کرے اور ہجوم ہمیشہ پرتشدد ہوتا ہے۔اس لیے باقاعدہ پلان کے تحت پارٹی کے تمام لیڈران،ایم این ایز،اپم پی ایز سب کو منع کر دیا گیا تھا کہ وہ ڈی چوک نہیں جائیں گے تاکہ ہجوم پولیس کی مزاحمت بعد پرتشدد کاروائیاں شروع کرے اور اگر مرضی کا نتیجہ نہ نکلا تو پارٹی اس ہجوم کی اونرشپ نہیں لے گی۔ اس لیے گنڈاپور بھی ڈی چوک رکنے کی بجائے پتلی گلی سے نکل گئے کہ پلان یہی تھا کہ لیڈر وہاں کوئی نظر نہ آئے اور ہجوم خود سارے فیصلے کرے۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/5lvkoEFhdn via @YouTube
#Pakistan #ImranKhan #Gandapur #D_Chowk #Islamabad #Islamabad_D_Chowk #IslamabadPolice #IslamabadProtest
جس خیبر پختونخوا میں آج 6 جوان دھرتی پر قربان ہوئے اس صوبے کا وزیر اعلیٰ گزشتہ 7 ماہ سے احتجاج پر
نہ کسی اہلکار کے جنازے میں شرکت نہ ہی سکیورٹی صورتحال پر توجہ، ترقیاتی پہییہ جام، لاقانونیت کی انتہا، کرپشن کا بازار گرم،
11 سالہ جعلی تبدیلی کی بس یہی کہانی ہے