”یہ زیادتی ہے اس کو فوراً روکا جائے۔“
12 اکتوبر بروز جمعرات چھ سال بعد ایک صبر آزما طویل مدت بعد بلاآخر ملک میں سپیشل سی ایس ایس کا تحریری امتحان ہے۔ یہ امتحان خصوصاً قبائلی اضلاع، سندھ و بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیے کنڈکٹ کیا جارہا ہے، لیکن نوے فیصدسے زائد امیدواران کے دوبارہ فیل ہونے کا قوی امکان ہے—امیدواران سپیشل سی ایس ایس
ان امیدواروں کا کہنا ہے کہ اس امتحان کو فوری طور پر روکا جائے اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے کو پورا کیا جائے۔
1- وعدہ کیا ہے؟
”پچھلے کئی سالوں سے قبائلی اضلاع، بلوچستان، سندھ اور کشمیر کے پسماندہ ترین علاقوں کے امیدواران ہر سال مقابلے کے امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں اور اس لیے اس کوٹہ پر کوئی منتخب نہیں ہوتا اور اسی لیے کئی سالوں سے یہ سیٹس خالی آرہے ہیں۔ جس پر اکثر پنجاب کے کامیاب امیدواروں کو ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے۔
اسی لیے پچھلی حکومت اور پھر پی ڈی ایم حکومت کی کوششوں سے سینیٹ کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی نے ایسے سٹوڈنٹس کے لیے حکومتی تعاون سے کوچنگ دینے کے احکامات جاری کیے۔ کیونکہ وجہ ہی یہی تھی کہ یہ طلبہ اکیڈیمیز کی مہنگی فیسیں دینے کی استطاعت رکھتے تھے اور ناں رہنمائی حاصل کررہے تھے، نتجتاَ وہ کم نمبر لیتے رہے۔
یہی وہ وعدہ تھا کہ سب کو کوچنگ کی سہولت ملے گی۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ اور امتحان کا اعلان ہوا، لیکن جن کے لیے کنڈکٹ ہورہا وہ تو اب بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔“ یہ کہنا ہے امیدواروں کا۔
🙏نوٹ : تصویر تو جہ کے لیے ہے۔
2- وعدہ ایفا کیوں نہ ہوا؟
امیدواران کے مطابق ”سینٹ کمیٹی کی احکامات کوچنگ کلاسز کا بندوبست کرنے کے لیے جاری ہوئے۔ لیکن سول ایسٹیبلشمنٹ نے بات دبا دی۔ حالانکہ ہمیں ثبوت مل گئے ہیں (جو کہ راقم کے ساتھ شریک کر لیے گئے ہیں) جن میں ٹینڈر جاری ہوا فنڈنگ ملی، bidding ہوئی,لیکن خاموشی اختیار کی گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ ناانصافی یہ زیادتی کیوں ہوئی کس لیے ہوئی؟ پھر کہتے ہیں کہ جب پاس نہیں ہوتے تو ہم کیا کر سکتے ہیں، کیا وہ نہیں جانتے ہم ہی کیوں فیل ہوتے ہیں۔
#StopspecialCSS #Specialcsspostponement
It is the right of every concerned individual to raise their voice and ask for the fulfillment of promises made in the official meeting and on the public platform regarding the Special CSS provision for backward areas and minorities. #CSSspecialaftercss2024
سویڈن میں قرآن مجید نذرِ آتش کیے جانے کا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے. آزادی اظہار کی آڑ میں وقتاً فوقتاً اس قسم کے گستاخانہ اقدامات کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں. ضروری ہے کہ تمام مسلم ممالک یکجا ہو کر اس واقعے کو عالمی سطح پر اٹھائیں اور ان کے سدِ باب کے لیے بھرپور اقدامات کریں.
قابلِ احترام چیف جسٹس صاحب
اپنے حکم نامے میں یہ بھی بتا دیتے کہ اس ملک کا وزیراعظم بننے کیلئے اُمیدوار پر کم ازکم کتنے مقدمات ہونے چاہیئں کتنے مقدمات میں ضمانت ضروری ہے وہ کتنی دفعہ جھوٹ بول کر کورٹس کی proceedings سے بھاگا ہو یا پھر اُسکے کتنے سزا یافتہ بھائی ملک سے فرار ہوں
The more I see this the more convinced I get that to ace it in the field every fielder should follow a keepers fitness and practice regime.Take a bow Pooran- most spectacular effort ever!!