Chief Minister’s Mera Pyara – Virtual Center for Child Safety, a project of the Punjab Safe Cities Authority, has been declared a *Champion Project* in the E-Governance category in UN-WSIS Awards 2026.
It is a matter of great pride for Pakistan, Punjab and Punjab Safe Cities Authority that two of our projects *Virtual Women Police Station* and *Virtual Center for Child Safety* are recognised among the Top 20 global projects in *E-Governance category*.
ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ
قوی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کا الیکشن جیتا نواز شریف اٹھ کر مبارک دینے گئے ۔ بے نظیر نواز شریف کو آتا دیکھ کر اٹھ کر کھڑی ہںو گئیں۔ اور بولیں "یہ محض ایک الیکشن تھا جس میں ایک کو جیتنا تھا میں جیت گئی مگر میں آپ کے ساتھ ملکر پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتی ہوں" ۔۔
کیا اب عمران خان نے جو کلچر دیا اس میں اس طرح کی اخلاقیات کی امید ہے ؟
پاکستان کو ڈی ویپنائز کرنے اور سیکیورٹی امور کو مکمل طور پر اداروں کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا پر 15 سال حکومت کرنے والوں نے اب تاحیات بلو پاسپورٹ کے پیچھے راہِ فرار ڈھونڈنا شروع کر دی ہے تاکہ ملک کی بدنامی کر سکیں۔ ایسے بل لائے جا رہے ہیں جس کے تحت سنگین جرائم، سمگلنگ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پر بھی ارکانِ اسمبلی کو گرفتاری سے استثنیٰ حاصل ہو۔ فریڈم آف ایکسپریشن کی چھتری تلے قانون کا مذاق اڑانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
قائد اعظم کے نام سے پہچانے جانے والے معتبر اخبار ڈان آج محض چند روپوں کی خاطر اپنی ساکھ کو مکمل طور پر بیچ چکا ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر خبروں سے زیادہ سستے، گھٹیا اور خطرناک اشتہارات، فیک نیوز، ہیکنگ لنکس اور فراڈ والے مواد بھرے پڑے ہیں، یہاں تک کہ ‘پچھلے جنم’ جیسے ہندو عقائد کی تشہیر بھی جاری ہے۔
پیسے کی ہوس نے قاری کے تجربے، سیکیورٹی اور قومی اقدار کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ شرم کی بات ہے کہ جو ادارہ کبھی قوم کے شعور کی آواز تھا، آج وہ ضمیر بیچ کر اپنے تاریخی ورثے کو رسوا کر رہا ہے۔
@dawn_com
#ShameOnDawn #YellowJournalism
پرو وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے واضح اعلان کیا کہ میں عوام کو سبز باغ نہیں دکھا سکتا، گومل یونیورسٹی کا نظام عملاً تباہ ہو چکا اسے مزید نہیں چلا سکتے
قدیم جامعہ پشاور، بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ دیوالیہ ہو چکی ہے۔ صوبے کی 34 جامعات میں سے 18 یا تو بند ہو چکی ہیں
اختیار ولی خان
🚨"اپنی چھت اپنا گھر" کی کامیابی کے بعد دائرہ کار وسیع کر کے دو نئی کیٹیگریز متعارف کروائی جا رہی ہیں !
🚨جس میں مخدوش گھروں کی رینوویشن کے لیے 5 لاکھ روپے اور
🚨اضافی فلور بنانے کے لیے سود فری و آسان اقساط پر 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
میں نے دوست سمجھ کر گھر بُلایا تھا لیکن اسی دوست نے میری 28 سالہ ازدواجی زندگی کو تباہ کرکے میری بیوی جو کہ پانچ بچوں کی مما تھی اور دوترے پوترے بھی تھے عدت میں دوڑا کر لے گیا
اور ایسے زنائی کے پیروکار آج انصاف مانگ رہے ہیں
کیسے کر لیتے ہو بھائی
بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ جب تحریک انصاف کا کوئی ممبر صوبائی اسمبلی اس کے اہل خانہ حتی کہ لطیف ٹائپ ایمپائر اور عمران خان کا ذاتی نکاح خواں بھی ٹول پلازہ سے گزرے تو ایک ٹکہ بھی نہ دینا پڑے
مولانا طارق جمیل صاحب آپکی مدینہ جیسی ریاست
تنقید نہیں تعمیر کا وقت ہے
اپنے اداروں کا ساتھ دیں پاکستان کو آگے بڑھائیں
اختلاف رائے ہو سکتی ہے
لیکن وطن سے محبت سب سے پہلے
#اداروں_کے_ساتھ
یہ مٹی ہماری ہے یہ ادارے ہمارے ہیں
ان کی عزت میں ہی ہماری عزت ہے 🇵🇰
مشکل وقت میں ہی پتہ چلتا ہے کون اپنا ہے
آج ہم اپنے اداروں اور اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہیں
پاکستان زندہ باد🇵🇰
#رنگ_لائیگا_شہیدوں_کا_لہو
ایکسیڈنٹ ھوا ۔لڑکیاں بھاگیں ۔لڑکیوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا۔لیکن جتنا جھوٹ اور بکواسیات یوتھییے پھیلا رہے ہیں۔اس سے تو اگلا بندہ سمجھتا ھے کہ غلطی کردی انصاف کرکے۔بھونکنا تو کتوں نے تھا ہی کیوں انصاف کیا ؟
ڈیلی پاکستان غیر ملکی لڑکیوں کی بازیابی کی حقیقت ویڈیو کیساتھ بتاتے ہوۓ ان لڑکیوں کو پولیس نے بازیاب نہیں کروایا تھا
وہ لڑکیاں جس گاڑی میں تھیں اس گاڑی کا ایکسڈنٹ ہوا تو وہ باہر نکل کر بھاگیں، یہ دعویٰ کہ مریم نواز کے حکم پر پولیس نے کاروائی کی مکمل جھوٹ تھا
اڈیالہ جیل کے سامنے لائیو چرس پارٹی پر پولیس کا دھاوا
اس وقت وادی تیراہ کا سارا مال اڈیالہ کے راستے سے ہی فروخت ہو رہا ہے۔
یہ لائیو مناظر دیکھیں جس میں پولیس نے چرس پیتا ایک نمونہ پکڑا ہے۔
وہ بھی کیا دن تھے جب ہمیں قائد ملت عمرانیہ کے چیف پروپیگنڈہ کواڈینیٹر عمران ریاض بتلاتا تھا کہ شیخ عمر سی سی پی او لاھور تعینات ہو گئے ہیں اور نواز لیگ کو گدڑ کُٹ چڑھنے والی ہے جبکہ آج یہی عمران ریاض فیصل کامران پر تنقید تیر چلا رہا ہے
کیسے مینج کر لیتے ہو
حماد حسن بتلا رہے ہیں شعور والی پختونخوا اسمبلی نے وہ قانون پاس کردیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ مدینہ جیسی ریاست کے صوبائی دارلخلافہ کی کہانی ہے لیکن یوٹیومر منجی تھلے وڑ گئے ہیں
مولانا طارق جمیل صاحب کیمرہ جانب دیکھ کر ہاتھ ہلادیں
دنیا کی کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافی یوں مخاطب نہیں ہوتے جبکہ پاکستان میں صوبائی دارلحکومت کے ڈی آئی جی کو گفتگو کرنے پر کتوں کی طرح پڑ جانے والے صحافتی کارڈ گلے میں ڈال کر تشریف لے ائے ہیں
زمین ملی تو بنجر صحافی ملے تو کنجر
ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان پولیس نے گرفتار کر لئے۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ کسی قسم کا کوئی حکومتی دباؤ نہیں۔ قانون اور انصاف اپنا راستہ لیں گے۔ جو گناہگار ہوا سزا پائے گا۔ اپنے حرام ڈالرز بنانے کیلئے جھوٹ گھڑنا بھی تو ناانصافی ہے۔ کھینچ تان کر کسی کو کسی سے ملانا بھی تو ناانصافی ہے۔ ایسا کھل کھیلنے کی ان جھوٹے یو ٹیوبرز کو کم از کم اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ جو دل میں آئے کہہ دو یہ بھی تو زیادتی ہے۔
وہ بھی کیا دن تھے جب امت مسیلمہ کے عظیم لیڈر عمران خان ماچھیکے شیخوپورہ کی مشہور و معروف “کشتی “ فرح گوگی کی حمایت میں تلواریں نکال کر میدان میں آگیا تھا
ڈسکلیمر رضا ڈار سے وہی سلوک کیا جائے جو ایک مجرم کے ساتھ ہوتا ہے
مزید ڈسکلیمر یہ کشتی چپو والی نہیں ہے