مرنے والے تجھے روئے گا زمانہ برسوں
خبر ایسی آئی ہے کہ یقین ہی نہیں آ تا۔امیر العظیم چلے گئے۔ہمیشہ ہن��تا مسکراتا جی دار اور سلیقہ مند آدمی۔وہ ان شاذ و نادر لوگوں میں سے ایک تھے کہ جہاں کہیں موجود ہوں ، بشاشت پھیلتی رہتی۔ وہ ان میں سے ایک تھے جنہیں صرف پسماندگان نہیں روتے۔ ہزاروں ہزاروں گریہ کرتے ہیں۔جن کی یاد باقی رہتی ہے۔کچھ ایسے کارنامے بھی ملک کے لئے انہوں نے انجام دیے جن کا ذکر شاید کبھی نہ کیا جاسکے۔ ایسا آدمی چلا جاتا ہےتو یکایک احساس ہوتا ہے کہ موت کیسی بھیانک چیز ہے۔ ایک بھاری کالے پتھر کی طرح وہ دل و دماغ پہ گرتی ہے۔ وہ لوگ کہ جن کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔
اپنے ایسے ہی ایک دوست کی وفات پر مولانا ظفر علی خاں نے کہا تھا : آج بھی اگر نہیں رونا تو گریہ آدم زاد کو بخشا ہی کیوں گیا۔
مرنے والے تجھے روئے گا زمانہ برسوں