اور ناظرین ہری پور میں ایک معصوم بچی کو کتوں نے نوچ ڈالا اور آج اس معصوم کی ماں سہیل آفریدی سے انصاف مانگ رہی ہے اور وہ انصافی جو پمز میں پوائنٹ سکورنگ کیلئے پہنچ گئے اپنے صوبہ میں ہونے والے اس ظلم پر خاموش ہیں
مولانا طارق جمیل صاحب آپکی مدینہ جیسی ریاست کے حالات
یہ ویڈیو بھیگی آنکھوں کے ساتھ بیسیوں مرتپہ دیکھ چکی ہوں مگر دل نہیں بھر رہا۔۔۔
ایک نابینا شخص کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عشق کی انتہا دیکھیں۔ ۔
مائیں اپنے بچوں کو نو ماہ اس لئے کوکھ میں نہیں رکھتیں کہ کسی کی غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہی وہ زندہ جل جائیں، وفاقی دارالحکومت میں 14 نومولودوں کا جاں بحق ہونا انسانی تاریخ کا ایک بدترین سانحہ ہے، جن کی امیدوں کے چراغ روشن ہوتے ہی بجھادئیے گئے، وہ بے بس باپ انصاف مانگ رہے ہیں۔
جناب اسپیکر 15 دن سے آیت نور نامی بچی غائب تھی وہاں کا CM غائب تھا مشیر وزیر غائب تھے حتی کے اُس حلقے کے MPA تک غائب تھے صوبائی حکومت کو توفیق نہ ہوئی کہ اُس فیملی کو دلاسہ دے سکیں ۔ بابر نواز
لاشیں بیچنے میں ماہر جماعت کا ہر کارندہ آج پمز پہنچا ہوا ہے لیکن آیت کے گھر نہیں پہنچا
تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین بل ہمارے وطن کے حال اور مستقبل کی ضرورت ہے جب تک یہ بل منظور نہیں ہو جاتا اور قانون کا حصہ نہیں بن جاتا اس وقت تک ملک میں فرقہ واریت دندناتی پھرے گی جناب علی محمد صاحب نے ایمانی غیرت کا مظاہرہ کیا ہم انہیں سلام عقیدت پیش کرتے ہیں
یہ شہباز شریف کی حکومت ہے یہ محسن نقوی کی وزارت داخلہ کا دور ہے مصطفی کمال وزیر صحت ہے یہ مائیں اپنے بچوں کے ٹکڑوں کی بات کر رہی ہیں قیامت اس سے زیادہ اور کیا ہو گی ؟
محسن نقوی صاحب سسٹم اس سے زیادہ اور کتنا بیٹھے گا؟
غریب کے بچے تھے پیدا ہوتے جل گے ٹکڑے ہو گے حکمرانوں کو کیا پروا ہو گی ؟
اِن میں سے کسی کا بچہ جلا ہوتا تو میں دیکھتی یہ کیسے سکون سے بیٹھتے، میں 15 دن سے یہاں ہوں، پیسے نہ دو تو یہ کام نہیں کرتے، ڈاکٹرز سُنتے نہیں ، آپریشن تھیٹر نہیں جانا چاہتی تھی، زبردستی بھیجا، میرا بچہ دو ورنہ میں یہیں بیٹھی رہوں گی، پمز اسپتال میں دُکھیاری ماں کی دہائیاں۔۔!!
ان کی شکلیں دیکھیں ایک ننھی بچی آیت نور کو انہوں نے ہری پوتی میں ریپ کر کے قتل کیا اور بہت دن سے یا معاملہ لٹکا ہوا ہے یوتھیے مگر اس بھیانک واردات پر بات کرتے نظر نہی آئیں گے وہ اسلام آباد یونیورسٹی کے معاملے پر ناچ رہے ہیں
ہر روز دن کا آغاز کسی بری خبر سے ہوتا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پمز میں آتشزدگی سے 14نومولود بچے جل کر خاک ہوگئے۔اسپتال میں نہ تو آگ بجھانے والے آلات تھے اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی ۔جب صحت اور تعلیم ریاست کی ترجیح نہ ہو تو اس طرح کے سانحے معمول بن جاتے ہیں۔ایسے واقعات کے بعد جب یہ روایتی بیان جاری کیا جاتا ہے کہ فلاں اور فلاں نے نوٹس لے لیا ،رپورٹ طلب کرلی ،اظہار افسوس ۔۔۔تو دل خون کے آنسو روتا ہے
افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں
قانون ناموس رسالت 295C اور دیگر شقوں پر فرزانہ باری نامی عورت کا حملہ پاکستان کی اساس پر حملہ ہے۔ ادارے فوری نوٹس لیں اور اسے آئین پاکستان اور شریعت کے مطابق سزا دیں۔
ایک خاتون جو اسرائیلی فوج (IDF) کا یونیفارم اور ٹیکٹیکل ویسٹ پہنے ہوئے ہے پانی کی بوتل ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور رسی سے بندھی ہوئی ایک خاتون کے سامنے پانی گرا کر اسے طنز یا تضحیک کا نشانہ بنا رہی ہے بالکل ایسے جیسے غزہ میں کیا جاتا ہے پس منظر غزہ میں جاری مظالم کو اُجاگر کرنا ہے
پاکستان میں شوگر مافیا کی حکومت ہے صدر وزیراعظم وزیروں سب کی شوگر ملیں ہیں اور یہی شوگر کی پالیسی بناتے ہیں ایک سال کے اندر اندر شوگر مافیا نے اس حکومت کے دوران کیسے چینی کا چکر چلا کر اربوں کمایا یہ شاہزیب خانزادہ کی زبانی سن لیجئے