Shame On Peoples Party Lawyers Forum, Central Punjab.....
"پیپلز لائرز فورم"کو ماہ رنگ بلوچ کی عدالتی سزا پر انسانی حقوق یاد آ گئے لیکن بلوچستان میں ہزاروں معصوم پنجابیوں کے قتل پر کبھی انسانی حقوق یاد نہیں آئے
پنجاب کی وہ تنظیمیں جنہیں ماہ رنگ بلوچ تو نظر آتی لیکن معصوم پنجابیوں کی لاشیں نظر نہیں آتی کی منافقت و سیاسی شعور قابل رحم ہے
خواجہ آصف کا کشمیر کے حوالے سے بیان نامناسب ہے۔ ان کے بیانات نے افغانستان کے معاملے پر بھی نقصان پہنچایا ہے لیکن بلاول بھٹوکو آزاد کشمیر میں معاملات خراب ہونے کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کیا جاسکتا،سلیم صافی
@SaleemKhanSafi
آج پوری پی ٹی آئی کالعدم @JAAC__Official کی حمایت کررہی ہے، سوشل میڈیا پر انکی مہم بھی چلارہے ہیں، لیکن لوگ شاید بھول گئے ہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر غداری اور انڈین ایجنٹ ہونے کا لیبل سب سے پہلے @PTIofficial دور حکومت میں لگا تھا، جب 2022 میں آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس وزیراعظم تھے، پی ٹی آئی قیادت نے اس وقت نہ صرف اپنے وزیراعظم کا دفاع کیا بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی فنڈنگ اور مقاصد پر بھی سوالات اٹھائے تھے، اس وقت کے ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان کے کشمیریوں کے بارے تضحیک آمیز بیانات بھی لوگ شاید بھول گئے ہیں، کوئی شک نہیں موجودہ حکومت میں بعض وفاقی وزراء کے بیانات سے کشمیریوں کے دل دکھے ہیں اور ایسے بیانات اور رویوں کی مذمت ہونی چاہیئے، کسی کو کشمیریوں کی تذلیل کرنے کا حق نہیں، لیکن یہ مذمت سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر نہیں اصولوں کی بنیاد پر ہونی چاہیئے، حقیقت یہ ہے کہ عوامی نمائندوں، سیاسی کارکنوں یا عوامی تحریکوں کو غداری، بیرونی ایجنٹ یا مشکوک قرار دینے کی روایت صرف کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہی ہے، ماہرنگ بلوچ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ڈی چوک پر احتجاج کرتی تھی تو مریم نواز شریف وہاں جاکر نہ صرف اظہار یکجہتی کرتی تھی بلکہ بلوچوں کے ساتھ روا سلوک کو ظلم قرار دیتی تھی، لیکن اب ن لیگ کے دور میں ہی ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، پی ٹی آئی ہو، مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی ہو، کوئی بھی جماعت اختلافِ رائے کو دبانے یا مخالف آوازوں کو بدنام کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرے، اس کی یکساں مذمت ہونی چاہیے، اگر ایک بات اپنے دورِ حکومت میں درست اور مخالف کے دور میں غلط قرار دی جائے تو اسے اصول پسندی نہیں کہا جاسکتا۔
ایکشن کمیٹی کے قریبی ساتھی ندیم اشرف اعتراف کررہے ہیں کہ
راولا کوٹ میں اسپتال پر حملے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی اور کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے اور ان کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، بعض جگہوں پر پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا پھر بھی انتشاریو نے پتھراؤ کیا،،
تبدیلی آئی رے۔۔۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے صوابدیدی فنڈ میں ہوش ربا اضافہ، حالیہ بجٹ 2026 میں صوابدیدی فنڈ 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 4 ارب 40 کروڑ روپے کر دیا گیا۔
🔴 اٹلی میں فلسطین کے حق میں مظاہرے میں شریک ایک اطالوی شہری نے کہا:
“یہ کوئی حقیقی جنگ بندی نہیں۔
غزہ ایسی سخت ناکہ بندی میں ہے کہ بم رک بھی جائیں تو لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔
کیا دنیا کا مستقبل یہی ہونے والا ہے؟”
پاکستان کی تاریخ میں جھوٹ باندھنا بند کرو!
شیخ مجیب نے اگر تلہ میں پاکستان کو توڑنے کے لئے 1965 کی جنگ کے دوران کیپٹن شوکت علی کو بھیجا، جو اس وقت حاضر سروس پاکستانی فوجی افسر تھا، بعد میں ڈپٹی سپیکر بنگلہ دیش اسمبلی بنا اور 2010 میں اعتراف کیا کہ اگرتلہ کوئی سازش نہیں، سچ تھا
وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری‼️‼️
کلعدم ایکشن کمیٹی کے ایک اور کور ممبر افتخار محمود نے بھی ان کی ریاست مخالف تقاریر، انتشار اور دھونس کی پالیسی سے تنگ آ کر اس کن کترا گروپ سے لاتعلقی اختیار کر لی۔
باغ سے تعلق رکھنے والے افتخار محمود نے کہا کہ ہماری پر امن تحریک کا رخ موڑ کر اسے پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو نقصان پہنچانے کیلیے استعمال کیا جا رہا ہے جو بلکل بھی قبول نہیں۔
یہ زبان نہ تو کوئی سیاسی رہنماء بول سکتا ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے کی نمائندگی کرنیوالا سماجی کارکن۔
جے کے ایل ایف کا سرخا امان آجکل بوکھلاہٹ میں اسقدر پاگل ہو چکا ہے کہ اسے خود سمجھ نہیں آتی کہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے کیا بولوں اور کیا نہیں۔ خیر کہتا ہے کہ۔۔۔
ہم سے مذاکرات کرو۔
ہمارے مطالبات مانو۔
ہمارے ملک سے دفع ہو جاؤ۔
اگر اس کی اتنی مقبولیت اور جرات ہوتی تو جس دھمکی آمیز لہجے میں یہ ہجوم میں ٹھہر کر مذاکرات کی دھمکی دے رہا ہے اب تک تو ریاست کو اسکے قدموں میں ہونا چاہئے تھا جو کہ نہیں ہے۔
اور مطالبات منوانے کا طرز تکلم بتاتا ہے کہ حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف بیانیہ سے اب لوگ اکتا گئے ہیں اس لئے مایوسی بڑھ رہی ہے، لہجہ بد زبان اور غصہ غالب آ رہا ہے۔
آخر میں فرمان صادر کیا ہمارے ملک سے دفع ہو جاؤ یعنی جس سرخے کی کل شناخت ڈھائی سالہ حقوق کی نام نہاد تحریک ہے وہ انہیں یہاں سے نکل جاؤ کہہ رہا جن کے باپ دادا اور اب پوتا ان پہاڑوں کی حفاظت میں اپنا لہو بہا رہے ہیں۔
@JavedHashmiJH اللہ کرے تمھارے نواسوں میں سے کسی کو یہ بلوچ دہشت گرد اسی طرح قتل کریں پھر بتانا کہ انکو سزا دینا غداری ہے کہ نہیں ۔۔ ذہنی مریض پاگل بڈھا۔۔
مجیب کی پارٹی کے ممبران خود اقرار کرتے ہیں کہ اگرتلہ سازش کیس بالکل درست تھا اور وہ اس میں شامل تھے لیکن یہ ذہنی مرض میں مبتلا بزرگ فرماتے ہیں کہ اس ک سزا دینا غداری تھا۔ سزا دینا نہیں بلکہ اس کی سزا کو معاف کرنا اور رہا کرنا غداری تھآ جس کا نتیجہ ملک دولخت ہونے کی صورت میں نکلا۔
مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا ہو جانا پاکستان کے ساتھ غداری ہے، جیسے شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں سزا دینا اس ملک کے ساتھ غداری تھی۔ ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک، سب جرنیلوں نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو فروغ دیا ہے۔ غدار مہرنگ نہیں، غدار تم ہو!
ایک آرمی چیف دنیا کے اسٹیج پر ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم کی آئینی حیثیت کو ثانوی کر رہا ہے، جو پہلے ہی غیر آئینی وزیرِ اعظم ہے۔
اس کی آئینی سزا عاصم منیر کو ہی بھگتنی پڑے گی!
آپ موبائل فون میں ایک ہزار کا ریچارج کرتے تو کو کتنا بیلنس ملتا ہے؟؟ 655 روپے
جی ہاں 655 روپے ۔ کیونکہ 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اور 5۔19فیصد۔ GST الگ دونوں ملاؤ تو 345 روپے بنتے ہیں اور تو اور پٹرول لیوی کی صورت میں سب سے بڑا کانچا بنک سے پیسے نکالو تو withholding tax
اور یہ ٹیکس سب سے غریب اور مڈل کلاس طبقہ ادا کرتا ہے ۔ کیا اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہیے ؟؟
بالکل اسی کیلئے آواز اٹھانی پڑتی ہے اپنے حقوق کی حفاظت خود کرنا سیکھین ۔
ورنہ ان چمکتے دمکتے گھروں اور دفتروں میں بیٹھی اشرافیہ خود سے آپ کے یہ حقوق سرینڈر نہئں کرے گی ۔۔
جاگو پاکستانیو جاگو!
ڈان اخبار میں خبر چھپی ہے کہ تیل کے بیوپاری پیٹرول کی قیمت کم ہونے پر ناراض ہیں، اور انہوں نے حکومت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا کہ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر تیل کیوں سستا کیا، کہ اس سے تیل کمپنیوں کو 1 ارب کا نقصان ہوا ہے، صرف یہی نہیں ساتھ یہ دھمکی بھی لگا رہے ہیں کہ اگر اسی طرح پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی رہیں تو کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آئے گا۔ یعنی تیل کا سیٹھ کہہ رہا ہے کہ اب ایک پیسہ بھی قیمت میں کمی نہ کیجیئے گا۔ سینئر صحافی نصرت جاوید کی گفتگو
#PublicNews #PublicProgram #KhabbarNashar @_AdnanHaider@javeednusrat
برطانیہ دس سال کے عرصے میں ساتواں وزیراعظم منتخب کرنے جا رہا ہے اور یہ بھی زیادہ دیر نہیں چلے گا، ہم برطانیہ کی جمہوریت ، عدالتی نظام، آزاد میڈیا اور آزاد پولیس کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے، برطانیہ میں دھاندلی بھی نہیں ہوتی وہاں فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، جبری گمشدگیاں بھی نہیں ہوتیں، بلدیاتی ادارے اور اسٹوڈنٹس یونین بھی ہے، معیار زندگی کا پاکستان سے کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے لیکن اس سب کے باوجود لوگ خوش نہیں ہیں، کیوں؟ ذرا سوچئے، کسی دن اس پر تفصیل سے لکھوں گا بلکہ اس پر لکھوں گا کہ جمہوریت کا کیا مستقبل ہے؟