زمین ملی تو بنجر گواہنڈی ملے تو کنجر
ڈسکلیمر آج اشارہ انہی گواہنڈیوں کی جانب ہے جنہوں نے میزائل بنڈ پنگا لیا اور پھر اپنی دال والی آندر پڑوا کر منہ دیوار جانب کیا لیکن اکڑ تکبر رعونیت ایسے ہے جیسے پوری دنیا فتح کرچکے ہیں حالانکہ ماضی قریب میں انہی گواہنڈیوں کے گھر میں گھس کر سپریم چائے کو چولہے پر چڑھا کر روسٹ کیا اور ��ہ بزدل اپنے میزائل عرب ممالک پر مارتا رہا حالانکہ جنہوں نے پچھواڑہ سے دھواں نکالا ان حرامزادوں کے میزائل ان ممالک تک پہنچنے سے قاصر رہے
سوالیہ نشان رویہ!
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کو سربراہ محسن رضائی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں، جن کو امریکہ نے پاکستان کے احتجاج اور ضمانت پر نشانہ نہیں بنایا۔ اس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بنیادی کردار تھا، مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کے موقع پر رضائی کا یہ رویہ سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کی پاکستان غصے کا اظہار ہے۔ یہ رویہ دونوں ممالک کے لیے کافی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
اس وقت ایرانی رہنما کا رویہ عالمی سطح پر میڈیا میں زیر بحث ہے۔
محسن رضائي …. ايام الغوغاء الريفي المتخلف … تغيرت ملابسه وتغير مكان اقامته … لكنه بقي بذات العقلية
مريض بالأحقاد متخلف … قاتل لابنه الذي تمرد على النظام
حیرت انگیز 😳
نیازی صاحب دو بیرسٹر میں نے بھی سگرٹ لانے اور چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئیے رکھے ہوۓ ہیں 😍
آپ اپنے بیٹے کو بیرسٹر کیسے لکھ رہے ہیں؟؟؟
وہ بیرسٹر جس پر الزام ثابت ہو جاۓ
اور سزا مل جاۓ
وہ بیرسٹر رہتا ہی نہیں
ایشو صرف ات��ا ہے کہ اسکے لئیے برطانیوی بار میں کیس کرنا پڑیگا
کہ حسان خان نیازی پاکستان میں بغاوت کے سنگین مقدمے میں سزا یافتہ اور سزا بھگت رہا ہے
تو آپکے صاحبزادے کی بیرسٹری پہلے فوراً سسپینڈ ہوگی
پھر تحقیقات ہونگی
اور disbar کر دیا جاۓ گا
مجھے تو اس کالج Black school of law and business کی بیوقوفی سمجھ نہیں آرہی
اس کالج کا فارن ایفلی ایشن منسوخ ہوجاۓ گی
کہ ایک مجرم کو کس طرح ایوارڈ سے نوازا گیا؟؟؟
آپ بھلے نہ مانیں کہ حسان نیازی بغاوت کی سنگین سزا کا مرتکب پایا گیا اور سزا یافتہ ہے
مگر مکمل ثبوتوں کیساتھ حقائق تو سوفیصد یہی ہیں
اور یہ کالج چلانے والے ڈفر ہیں
یہ گارڈن ٹاؤن کی ایک کوٹھی میں کھلا ہوا کالج ہے
جو بیرسٹری کی ٹیوشن دیتا ہے
ایک اور پشتون کے پی کے سے وہی بات کر رہا ہے
میں کیونکہ پنجابی ہوں
سو مجھے خیال آجاتا ہے
کہ میرا لکھا صوبائیت لسانیت کے کھاتے نہ چڑھ جاۓ
اسلئیے لکھنے کی بجاۓ پشتونوں کے کلپس لگا رہا ہوں
ورنہ ب��ڑہ اور درہ میرا بہت اچھی طرح اور کئی مرتبہ دیکھا ہوا ہے
وہاں کونسا بزنس ہوتا ہے
اور کون لوگ کرتے ہیں
سارا کے پی کے اور ہر وہ شخص جسنے باڑہ دیکھا ہوا ہے
سب جانتے ہیں
اس پشتون نے مکمل بات بہت صحیح طریقے سے بتائی ہے
تحریکِ انصاف کے احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ: پاکستان کی معیشت، ترقی اور سفارتی تعلقات پر اثرات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ چینی صدر کا دورہ ملتوی (2014) اسلام آباد دھرنے کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان ملتوی ہوا، جو بعدازاں اپریل 2015ء میں ہوا۔
2۔ معاشی نقصانات (2014) دھرنے کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، روپے کی قدر میں کمی، کاروباری تعطل اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کے نقصانات سامنے آئے۔
3۔ اہم سفارتی دورے: غیر ملکی سربراہان اور اہم وفود کی آمد کے موقع پر احتجاجی سرگرمیوں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تشخص کو متاثر کرنے کے خدشات پیدا کیے۔
4۔ آئی ایم ایف اور شوکت ترین کی آڈیو (2022) لیک شدہ آڈیو میں صوبائی وزرائے خزانہ سے وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف پروگرام کے معاملے پر تعاون نہ کرنے کی گفتگو سامنے آئی، جسے وفاقی حکومت نے قرض کی قسط رکوانے کی کوشش قرار دیا۔
5۔ آئی ایم ایف کو خط (2024) تحریکِ انصاف نے انتخابی آڈٹ کے مطالبے کو آئی ایم ایف کے ساتھ مالیاتی مذاکرات سے جوڑا، جس سے بیرونی مالی معاونت اور داخلی سیاسی تنازعات کے تعلق پر بحث ہوئی۔
6۔ 9 مئی 2023 فوجی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک پر حملوں کے واقعات نے قومی املاک کے تحفظ، سیاسی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے۔
7۔ ایس سی او اجلاس اور احتجاج (اکتوبر 2024) تحریکِ انصاف نے اسلام آباد میں 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال دی، جس روز ایس سی او سربراہی اجلاس شروع ہونا تھا؛ بعدازاں احتجاج ملتوی کر دیا گیا۔
8۔ نومبر 2024 کا اسلام آباد احتجاج: احتجاج، سکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں، نقل و حمل اور شہری زندگی متاثر ہوئی۔
9۔ ترقیاتی منصوبے اور سرمایہ کاری: طویل دھرنوں اور سیاسی بے یقینی نے ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل، سرمایہ ��اروں کے اعتماد اور کاروباری فیصلوں کے حوالے سے خدشات پیدا کیے۔
10۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت: احتجاجی حالات میں انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلاتی تعطل نے آن لائن کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات کو متاثر کیا؛ ان اثرات میں حکومتی اقدامات کا کردار بھی اہم ہے۔
11۔ سرکاری وسائل اور قومی معیشت: احتجاجی اجتماعات کے دوران سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اضافی اخراجات کے علا��ہ کاروباری سرگرمیوں میں تعطل نے معاشی نقصانات کے سوالات کو جنم دیا۔
12۔ سیاسی محاذ آرائی اور قومی مفاد: مسلسل احتجاج اور سیاسی کشیدگی نے معاشی پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاری اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کی .
اقتدار کی جنگ میں ملک کو نقصان پہنچانا سیاست نہیں، قومی مفادات سے کھیلنا ہے۔
بُل فائٹ شروع ہو چکی ہے، اب فیصلہ کن مقابلہ ہوگا! یا بیل گرے گا یا لال دائرے میں کھڑے ہونے والوں کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگے گا۔ 2026 کے اختتام تک واضح ہو جائے گا کہ ’’صاف ستھرا پاکستان‘‘ کی راہ میں کون رکاوٹ بنا اور اس نے اس کی کتنی قیمت چکائی!
عمرہ پر آنے والوں پر حملہ کرکے بھی آپ اسلام کے مجاہد ہیں۔ قبلہ اول کی آزادی کے نام پر مکہ اور مدینہ پر حملہ آور ہونا بھی شاید حاضر /غائب امام کا حکم ہو۔
عقیدے کے نام پر کیا ہی طلسم ہوشربا بنائے بیٹھے ہیں۔ رامائن بھی اس کے سامنے پانی بھرتی ہے۔
ریاض ائیرپورٹ پر حملے میں بارہ عمرہ زائرین اور سٹاف کے لوگ شہید ہوگئے ۔
اللہ ایران اور اسکی پراکسیز کو غارت کرے
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
مرگ بر ایران
اگر ہم اتنے ہی برے تھے تو تشکر پاکستان کے نعرے ایرانی پارلیمان میں کیوں لگے تھے؟
مشکل وقت میں ساتھ دینے والے پاکستان کے ساتھ اس طرح کی زبان درازی اپنے صدر اور وزیرخارجہ کے الفاظ ہی چیک کر لیتے جو مانتے ہیں کہ پاکستان نے ایران کو بچایا۔۔
How Iran has dented the Palestinian cause:
1. It funded and armed Hamas and PIJ over the PLO/Fatah. Khamenei called Arafat a “traitor and a fool” for Oslo. Result: the 2007 split, two rival authorities, no single negotiating partner.
2. It treated any deal short of Israel’s elimination as betrayal and backed violence timed to collapse talks in the 1990s and after. Peace processes died while rejectionist factions got cash and weapons.
3. Palestinians were instrumental. When Hamas opposed Assad, Iran cut funding until they realigned. 4.Quds Force support served Iranian deterrence and regional leverage, not Palestinian statehood.
5.Roughly $70–100m a year plus rockets, training, and tunnel know-how helped enable Oct 7. The war that followed killed tens of thousands of Palestinians, wrecked Gaza, and buried near-term two-state diplomacy. Israeli hardliners cite Iranian-backed Hamas as proof a state would be a threat.
6. Tying the cause to Hezbollah, the Houthis, and designated terror groups made it easier for Sunni Arab states to deprioritize it. Shared fear of Iran helped drive the Abraham Accords.
7. Decades of “resistance” liberated no land. Gaza under Hamas stayed blockaded and repeatedly destroyed. When Iran itself was hit, it de-escalated fast while having pushed Gaza to keep fighting.
8. Most Palestinians see the interference. Fatah officials have called Iran the top sponsor of division and said it gave nothing to the Palestinian people as distinct from its armed clients. Polls show large shares view Tehran’s role negatively.
#قطر کی شیخہ العنود آل ثانی نے سید محمد مرندی کی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا جواب دیا ہے. مرندی کو پورے خطے میں پاسداران انقلاب #IRGC کا غیر رسمی ترجمان سمجھا جاتا ہے، اور وہ اس ایرانی وفد کا حصہ تھے جو نائب صدر وینس سے ملاقات کیلئے پاکستان آیا تھا۔
شیخہ العنود آل ثانی کا جواب: "یہ سب اس سے پہلے کی بات ہے جب ایران نے 2024 میں پاکستان پر بمباری کی تھی۔ پاکستان نے کافی نقصان اٹھائے ہیں جب ایران علیحدگی پسند تحریکوں کو ��الی مدد اور حمایت دیتا رہا ہے، بمباری کرتا رہا ہے، اس کی تیل کی سپلائی روکتا رہا ہے، اور ایرانی پراکسیاں پاکستان کو 'سبق سکھانے' کی دھمکیاں دیتی رہی ہیں۔ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔"
او بھائی مفت میں نہیں ملتی
پیسے خ��چ کرنے پڑتے ہیں
جو تُمہارے پاس نہیں ہیں
😂😂😂😂
اور جو انہیں DM کر چُکے ہیں
وہ اب اپنی شلوار مضبوطی سے پک�� لیں😂
خیر محترم میوچل آپ اپنے مشورے جاری رکھیں
میں آپکو سافٹ بلاک کر رہا ہوں
اور جاتے جاتے یہ بھی بتاتا چلوں
کہ آپکے مقدر میں صابن ہی ہے
یہ آپکو نہیں دے گی
جتنے مرضی مخلصانہ مشورے دے لیں 😂
اس بار میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں ترقی پانے والے فوجی افسروں میں اکثریت باریش افسروں کی ہے جن میں لیفٹیننٹ جنرل ��اجد عزیز،لیفٹیننٹ جنرل اسد الرحمان چیمہ،لیفٹیننٹ جنرل عمر بشیر، لیفٹیننٹ جنرل نعیم اختر،لیفٹیننٹ جنرل ندیم اشرف بھٹی اور لیفٹیننٹ جنرل امتنان بابر شامل ہیں