بلدیاتی انتخابات نہ کروانا بہت غلط تھا اور آپ کی تنقید درست ہے، لیکن میرے توقع ہے کہ آپ عثمان بزدار کو آئیڈیل سمجھ کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے کچھ تو الگ کریں، آپ لوگ بزدار کا فی میل ورژن ہی بن گئے ہیں، 🙏🙏🙏@AzmaBokhariPMLN
حیرانی ہے ٹی وی چینلز رضا ڈار والے معاملہ پر مسلسل رپورٹنگ کررہے ہیں چینلز کو کوئی روک بھی نہیں رہا۔۔ اپریل 2022 کے بعد پہلی بار چینلز کھل کر حکمران جماعت یا ان سے جڑی کسی شخصیت سے منسلک سیکنڈل رپورٹ کررہے ہیں۔۔ کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
شرم نہی آتی ان کلرکوں کے لیے جنہوں نے مجھے ملک دشمن جانتے ہوئے میرا اکاؤنٹ روکنے والی خانے میں ڈالا ہوا ہے۔ کہنا نہی چاہیے مگر میرا خاندان-سگا بھائ کرنل خالد متین مرحوم۔ میرے کزن سکوارڈن لیڈر اسد شہید اور بچپن کے دوست جنہوں نے اس فوج کے لئے جان کا نزرانہ دیا۔ میری رفیقوں میں کم از کم آدھے درجن تھری سٹار کے رتبے تک پہنچے۔ اک دو دوست اور رشتے دار ابھی بھی جرنیلی لیول کے افسر ہیں۔ پھر بھی میں اگر مشکوک ہوں کہ میرا اکاوئنٹ تھراڑل کیا جائے تو پھر شرم کا مقام ہے۔ میرے لیے بھی اور میرے خاندان اور شہید دوستوں کے لیے بھی۔ جنہوں نے کیا سوچ کر اپنی جان کا نزرانہ دیا تھا۔
لاہور کے لوگوں میں بھی شعور آنے لگا، لاہور کے حالات پر سچ و حقیقت دکھانے لگے، تشہر وہ بھی جھوٹی تب تک ہی ہو سکتی ہے جبتک پیسے دیتے رہیں جیسے ہی ہیسے بند حقائق سامنے آنے لگ جاتے ہیں۔
لاہور کو ان حالات میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔
#BringLGinPunjab
گجرات کے عمران خان کے وفادار کارکن ذیشان گل سیٹھی کو وفات کے ڈیڑھ سال بعد عدالت نے تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا۔
افسوس کہ انصاف اس وقت پہنچا جب وہ اس دنیا میں موجود ہی نہ تھا۔ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے لڑتے ہوئے بھی وہ مسلسل عدالتوں میں پیش ہوتا رہا، مگر اس پر قائم مقدمات نے اسے سکون سے جینے نہ دیا۔ آخرکار وہ انصاف کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گیا۔
آج کی بریت اس بات کا اعتراف ہے کہ ایک بے گناہ شخص برسوں نظام کی بھینٹ چڑھتا رہا۔ یہ فیصلہ صرف ذیشان گل سیٹھی کی بے گناہی نہیں، بلکہ انصاف میں تاخیر اور نظام کی ناکامی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے
گجرات سے عمران خان کے جانثار اور نظریاتی کارکن ذیشان گل سیٹھی کو وفات کے ڈیڑھ سال بعد آج عدالت نے دیگر کارکنان سمیت بے گناہ قرار دے کر با عزت بری کر دیا۔
ذیشان سیٹھی کینسر جیسے موذی اور جان لیوا مرض کا شکار ہونے کے باوجود دو سال تک مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹتا رہا، انصاف کی آس لیے ہر پیشی پر جاتا رہا، اور بالاخر اسی نظام کی بے حسی کا صدمہ لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔
آج وہ بے گناہ تو ثابت ہو گیا، لیکن اس انصاف کو وصول کرنے کے لیے وہ خود اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ قابض رجیم نے پاکستان کا نظام عدل تباہ کردیا ہے آج عام پاکستانیوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زندگی ہارنی پڑتی اور ایلیٹ کلاس کے سامنے پورا نظام عدل جھُک جاتا۔
اللہ تعالیٰ ذیشان گل سیٹھی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلخانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
پاکستان کا دوسرا بڑا شہر جہاں ٹراما سینٹر ہی موجود نہیں، وہاں کراچی میں جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ٹراما سینٹر موجود ہے، اس ہی بدحال کراچی میں، اس ہی کراچی میں جہاں میئر میئر کا کامُ رہا ہے نہ کہ وزیراعلی بازار میں ٹف ٹائل لگاتا پھرتا ہے۔
تلخ اور شدید درد بھری حقیقت !!
“ لاہور میں سانحے کے بعد مریم نواز والدین کے پاس گئیں تو انہوں نے بتایا کہ جب بچوں کو سول ہسپتال لایا گیا تب ان کی سانسیں چل رہی تھیں لیکن ہسپتال میں سہولیات موجود نہیں تھی، سعید چوہدری اور عمران شفقت کا انکشاف”
پنجاب کا طرزِ حکمرانی اس وقت انتہائی تشویشناک نظر آتا ہے۔ میری رائے میں پاکستان کے کسی کونے، گلی، محلے یا علاقے کا انتظام بھی اتنا ناقص نہیں جتنا پنجاب کو چلایا جا رہا ہے۔ تمام تر توجہ عملی اقدامات کے بجائے تشہیر اور نمائشی منصوبوں پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
یہ جان کر حیرت ہوئی کہ لاہور جیسے بڑے شہر کے سول اسپتال کے حالات بھی تشویشناک ہیں اور وہاں جدید معیار کا ٹراما سینٹر موجود نہیں۔ اس کے برعکس سندھ کے شہر کراچی میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما (SMBBIT) چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے، جہاں تقریباً 500 بستروں کے ساتھ جدید ٹراما، ایمرجنسی، آپریشن اور انتہائی نگہداشت (ICU) کی سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جاتی ہیں۔
امید ہے کہ اس افسوسناک سانحے کے بعد پنجاب حکومت محض تشہیری مہمات سے آگے بڑھ کر عوام، خصوصاً غریب اور متوسط طبقے، کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی سنجیدگی سے توجہ دے گی
" اسحاق ڈار کو فورا استعفیٰ دینا چاہیے کہ رضا ڈار نے ہالینڈ اور وینزویلا کی لڑکیوں کے ویزا کے لئےمبینہ طور پر ان کا دفتر اور اثرورسوخ استعمال ہوا۔"صحافی شاہد میتلا
@ShahidMaitla
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
عوام دوست فلاحی ریاست ہوتی تو حمیدہ بی بی کے ٹیوشن سنٹر کی چھت کو درست کروایا جاتا، وہاں 400, 600 روپے دیکر پڑھنے والے غریب بچوں کو بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کئے جاتے، ان کے والدین کے روزگار کے مسائل کے بارے میں سوچا جاتا۔۔۔ لیکن ہارڈ سٹیٹ میں ہر چیز کا علاج ڈنڈا ہوتا ہے۔۔۔
Body language tells a lot. Malik’s shoulders are so shrunk; his smile so Darbari. Your wish is my command seems to be the message. That’s how these Maliks are raised. Always go with power. Survive. Beg, borrow or steal but stay in power. He’s no exception. My apologies to those who I may have encouraged in the wrong direction. That may be he got some wrong notions of Constitution, rule of law blah blah blah. At the end of the day he’s just another servile politician that generations of his forefathers trained him for. Thanks for correction, Malik. Sir.
اس بچارے نے کیا کھڑا ہونا ہے۔ اس کے جھکتے شانے دیکھیں۔ اس کی درباری مسکراہٹ دیکھیں۔ ایسے تو اعلی نوکر بھی دربار میں میں پیش نہی ہوتے۔ یہ ملک شلک بس نام کے ہیں۔ ان کی خاندانی وراثت ہے اقتدار میں رہنا۔ چاہے اس کے لئے کسی کے جوتے بھی اٹھانے پڑیں۔ پشتوں سے یہ ہی سلسلہ جاری ہے۔ معاف کیجیے گا ہمارے جیسے کچھ لوگوں کو جن ان سے اصولوں کے لیے لڑنے کی کچھ امید لگا بیٹھے تھے۔ نو میڈم نو۔ پشتوں کے نوکر کبھی سر نہی آتھا سکتے۔
سپیکر کی منظوری کے بغیر بل کمیٹی میں چلا گیا، سپیکر لاعلم نکلے۔
پنجاب حکومت ایک نیا قانون لیکر آرہی ہے جس کے تحت کسی بھی شہری کی زمین ضبط ہوسکے گی،موبائل فون ضبط ہوسکیں گے، جس میں ایگزیکٹو کسی شخص کا بینک اکاؤنٹ منجمد کر سکتا ہے، اس شخص کی آن لائن موجودگی کو ختم کر سکتا ہے اور شہریوں کی الیکٹرانک نگرانی شروع ہوسکے گی اور یہ سب کچھ ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ پر ممکن ہوسکے گا۔
کل الطاف حسین صاحب کی رہائشُ واقع اندرون بھاٹی گیٹ حاضر ہوا اور انکی نماز جنازہ ادا کی۔ ۹ مئی کے بعد مرحوم متعدد جھوٹے مقدموں میں قید رہے۔ آخر دم تک زمانہ انکو عمران خان کے عاشق کے حوالے سے جانتا تھا۔ وہ وطن عزیز میں غریب دوست جمہوریت کا خواب سجائے دنیا سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرمائے۔
"ثاقب چدھڑ اپنے حلقے کے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ 400 طلباء کی تعداد ہے، لیکن صرف اور صرف 200 کرسیاں موجود ہیں۔ تو ثاقب چدھڑ، آپ بھی اپنا حصہ ڈال لیتے! آپ تو کہتے ہیں کہ 'اس کو Fortuner دے دی، اتنے لاکھ کے گفٹ دے دیے، فلاں کو پڑھانے کے لیے آسٹریلیا بھیج دیا'—تو اپنے حلقے میں دو سو کرسیاں لے لیں۔ کوئی اپنے حلقے کی عوام کو بھی گفٹ دے دیں!" — اطہر کاظمی
@2Kazmi
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
میں امریکہ میں مقیم کئی پاکستانیوں کو جانتا ہوں، جنہوں نے ٹرمپ کو اس لیے ووٹ دیا کہ وہ عمران خان کو رہا کرائیں گے، عمران خان تاحال قید میں ہیں، جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ فاشزم ہے، احتجاج کرنیوالوں پر فائرنگ، عام لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کا استعمال،عمران خان کے بیٹوں کو ویزا بھی نہیں دیا گیا، مہدی حسن
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
ڈی جی آئی ایس پی آر لمبے لمبے بھاشن دیتا ہے کہ ہمارا سیاست میں کوئی کام نہیں تو فوجی سربراہ سفارتکاری کیسے کررہا ہے؟ وہ بھی تو سیاست ہے۔ آپ امریکا کی نظر میں ہر دلعزیز ہو جاؤ گے وہاں رہائش اور جزیرے بھی مل جائیں گے لیکن ملک سے تو پیار کرو، عوام کو تو کچھ دو، لطیف کھوسہ
Mian Mahmood ur Rasheed, a senior PTI leader suffering from a cardiac condition, has been convicted in multiple post-May 9 cases with a cumulative sentence exceeding 274 years.
He has remained in custody for over a year under harsh conditions. Despite pressure, he has refused to renounce his political affiliation or dissociate from Imran Khan, maintaining his political stance.
His continued detention, along with reported health concerns, has raised serious questions about medical care in custody, proportionality of sentencing, and due process standards.
#AsimLaw
#May9th_FalseFlag
تاریخ گواہ ہے کہ انسان تو قید کیے جا سکتے ہیں، لیکن نظریات کو کبھی زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
جب ریاستیں انصاف کے ترازو کو انتقام کی بھٹی میں جھونک دیں اور عدالتوں کو سیاسی مخالفین کا گلا گھونٹنے کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو سمجھ لیں کہ فاشزم اپنے عروج پر ہے۔
سیاسی اختلاف کی پاداش میں دی گئی سیکڑوں سال کی یہ فرضی سزائیں پی ٹی آئی اور عمران خان کے حوصلے توڑنے اور جھکانے کی ناکام کوششیں ہیں۔
بزرگ سیاستدانوں سے لے کر پرعزم خواتین اور نڈر نوجوان کارکنوں تک، سب کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں لکھا جائے گا۔
یہ سزائیں جرم کی نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے خوفزدہ لوگوں کے ڈر کی علامت ہیں۔ حوصلہ بلند رکھیے، کیونکہ جمہوریت کی یہ تاریک ترین رات جلد ختم ہوگی اور انصاف کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔
ضمیر کے قیدی : میاں محمود الرشید،
جرم: حق کا ساتھ
آزادی کی قیمت : پریس کانفرنس/ ڈیل
رکاوٹ: ضمیر ، سچ کا ساتھ دینے کا جنون
ڈکٹیٹر کا دل نہیں بھرا تو 10 سال کی مزید سزا سنا دی گئی ہے، جس کے بعد ایک ہی جیسے مقدمات میں انہیں ساتویں بار سزا مل چکی ہے اور مجموعی قید 274 سال بنتی ہے۔ ہماری عدالتوں نے انصاف کی فراہمی کے بجائے سزاؤں کا جمعہ بازار لگا رکھا ہے،
لیکن ایسے فرمائشی فیصلے کبھی نظریات اور بلند حوصلوں کو قید نہیں کر سکتے۔
#خان_کو_قوم_کے_سامنے_لاؤ
#9thMayFalseFlag
آج ایک ایسے مقدمے میں یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عمر چیمہ کو سزا سنا دی گئ جو جس واقعے کا مقدمہ تھا اس دن یہ چاروں پہلے سے ہی گرفتار ہو کر جیل میں تھے اور تفتیشی نے کہا میرے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں! کبھی تو ان کو بھی انصاف ملے گا انشاءاللہ