حیرت… تُف… حیرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تحریک انصاف کے تمام مرکزی ، صوبائی، علاقائی رہنماؤں اور سینئر ترین وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے 9 مئی کے مقدمات میں بانی پی ��ی آئی عمران خان کی ضمانت پر خوشیاں منائیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں اورآج تک کررہے ہیں لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح آپ کی خوشیوں کو مٹی میں ملایا ہے کیا اس پر آپ حضرات کو ذرّہ برابر بھی شرم آتی ہے؟
گزشتہ روز عمران خان صاحب کی ضمانت کی خبرپر آپ سب خوشیاں منارہے تھے کہ اُسی دوران عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان کے صاحبزادے شاہ ریز خان کوگھرپرچھاپہ مارکر گرفتارکرلیاگیا اورآج انہیں دوسال پرانے مقدمے میں ملوث کردیاگیاجبکہ آج ہی انکی عدالت میں پیشی کے بعد علیمہ خان صاحبہ کے دوسرے صاحبزادے شیرشاہ خان اپنے والد کے ہمراہ عدالت سے اپنے گھرواپس آرہے تھے کہ انہیں بھی گرفتارکرلیاگیا۔
پی ٹی آئی @PTIofficial کے مرکزی رہنماؤں،منتخب نمائندوں اورعلاقائی ذمہ دارو!!
آپ لوگ آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں، آپ کو اپنی اس آزادی پر شرم آنی چاہیے ، اگرآپ میں غیرت ہوتی تو اس ظلم وستم اورناانصافی کے عمل کے خلاف اپنے گھروں میں بیٹھنے کے بجائے احتجاجی جلوس نکالتے یااحتجاجی دھرنا دیتے مگر افسوس کہ آپ نے ایسا نہیں کیا۔
حیرت… تُف… حیرت ہے پی ٹی آئی کے نامور رہنماؤں پرکہ جو عمران خان کے خاندان پر ��لم وستم کے اقدامات دیکھ کر بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔حیرت… تُف… حیرت، حیرت تُف… حیرت، حیرت… تُف… حیرت۔
میں PTI کے گمنام کارکنوں سے کہتا ہوں کہ اگر انہیں واقعی عمران خان سے محبت ہے تو انہیں احتجاجی تحریک کے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لیکر میدان عمل میں آنا ہوگا۔
‼️‼️ اُٹھو وگرنہ حشر نہ ہووے گا پھر کبھی ‼️‼️
‼️‼️ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا ‼️‼️
الطاف حسین
22،اگست2025ء
2/2
#YoumeAzmeWafa22Aug
دوسری طرف الطاف حسین کاعمل یہ ہے کہ جب عمران خان، پر قاتلانہ حملہ ہوا، انہیں گرفتارکیا گیا اوران کی پارٹی کوریاستی مظالم کانشانہ بنایا گیا تو پورے ملک میں واحد الطاف حسین تھا جس نے اس ظلم کے خلاف کھل کرآواز بلند کی اور آج تک آوازاٹھارہا ہے۔ اسی طرح جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز پرظلم ہواتو میں نے ان کیلئے بھی آواز اٹھائی۔
جہاں جہاں جس جس پر ظلم ہوا الطاف حسین نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ جب تک میرے جسم میں سانس ہے میں ہر ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتا رہوں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرا دل ایسا بنایا ہے کہ مجھ سے کسی پرظلم دیکھا نہیں جاتا۔ میں عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان کے صاحبزادوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اوران کی رہائی کامطالبہ کرتاہوں۔
پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے رہنماؤں کے بجائےمحترمہ علیمہ خان پر اعتماد کرتے ہیں، وہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ان کے لیڈران دوسال سے وزارت اعلیٰ اور اسمبلیوں کی رکنیت کےمزے لے رہے ہیں، مراعات وصول کررہے ہیں جبکہ کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں دی جارہی ہیں مگر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ خاموش ہے، علیمہ خان صاحبہ کےگھر پر چھاپے اوران کے بیٹوں کی گرفتاری پر PTI کی لیڈرشپ کو احتجاجی مظاہرے یا احتجاجی دھرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا مگر یہ لیڈرشپ خاموش ہے۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ مصلحت پسندی کا شکارلیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ تحریک کو اپنے ہاتھوں میں لےلیں۔
بلوچوں کو غدار کہاجارہا ہےجبکہ بلوچ غدار نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں،انہیں غدار کہنے والے اوربلوچوں کوظلم کانشانہ بناکر انہیں دیوار سے لگانے ��الے فوجی جرنیل خود ملک کے غدار ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 304 ویں فکری نشست سے خطاب
22، اگست2025
( مکمل فکری نشست دیکھئے 👇)
https://t.co/zKAb5kqyPk
22 اگست 2016ء کومیرے اور MQM کےخلاف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سازش کی گئی، یہ سازش پہلی بارنہیں ہوئی تھی اس سےپہلےبھی اسٹیبلشمنٹ نےMQM کو کمزور کرنےکےلئے MQM کےنام سےکئی جعلی تنظیمیں بنائیں۔ چاہےجتنی بھی جعلی MQM بنالی جائیں، دنیاجانتی ہےکہ MQM کابانی الطاف حسین ہے۔
#YoumeAzmeWafa22Aug
22 اگست 2016ء کی رات فوج نے MQM کے خلاف جواقدامات اٹھائے، اس پرآج بھی اسی طرح عمل درآمد جاری ہے۔فوج نے 22 اگست 2016ء کو MQM کےخلاف جوآپریشن کیااس کی تیاریاں پہلےسے کی جارہی تھیں، MQM کے کئی رہنماؤں، اراکین رابطہ کمیٹی اورارکان اسمبلی کو مختلف مفادات کا لالچ دیکرپہلے ہی خریدا جاچکا تھا۔23اگست 2016ء کی صبح انہوں نےپریس کانفرنس کرکے تحریک کے بانی و قائد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔انہوں نے اپنےظرف وضمیر کاسودا کرلیامگر کارکنان ثابت قدم رہے ۔جوکارکنان اپنی وفاداری کا سودا کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے انہیں غداروں نے مخبریاں کرکے جبری لاپتہ کروایا جن میں سے بیشتر کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کرکےان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی گئیں۔ میں وفاپرست کارکنان کووصیت کرتا ہوں کہ قوم کے غداروں سےان شہید کارکنان کے لہو کا حساب ضرور لینا۔ 22، اگست 2016ء کو میری رہائش گاہ ''نائن زیرو''، خورشید بیگم میموریل سیکریٹریٹ سمیت کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھرکےتمام زونل، سیکٹراور یونٹ آفسز seal کردیئے گ��ے جوآج تک وفاپرست کارکنان کو واپس نہیں ملے۔ تحریک کے خلاف یہ سب کچھ اس شخص کی موجودگی میں ہواجسے میں نے اعتماد کرتے ہوئے سندھ کا گورنر بنایا تھا اورجس نےمیری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کاعمل کیا اور تحریک اورقوم کے مفادات کےلئےکام کرنےکے بجائے ان کےخلاف کام کیا۔
تمام تر پابندیوں کے باوجود پاکستان اور اوورسیز میں تحریک کا ایک ایک کارکن یوم ِ عزم ِ وفامنا رہا ہے۔گھٹن زدہ ماحول میں بھی تحریک کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں شہداء کےایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کے اجتماعات منعقد کرتی رہیں اور اپنے الطاف بھائی سے عہدِ وفا نبھاتی رہیں۔میں رابطہ کمیٹی کےکنوینر، ڈپٹی کنوینر، س��بقہ اراکین، انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کےمعاونین، میرے گھرپر ڈیوٹیاں دینے والےساتھیوں ، پاکستان اور اوورسیز یونٹوں میں موجود ایک ایک کارکن اورذمہ دار کو دل کی گہرائی سے شاباش اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
22 اگست کوجوسازش الطاف حسین اور اس کی MQM کے خلاف کی گئی وہی سازشی عمل آج 9برس بعد عمران خان کے خلاف دہرایاجارہاہے۔ الطاف حسین ، اس کی تحریک اوراس کی فیملی کے خلاف یہ سازشی اورظالمانہ عمل برسوں سےکیاجارہا ہے1979ء میں الطاف حسین کوگرفتارکرکےجنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ نے 9ماہ قید اور پانچ کوڑوں کی سزا دی، پھر مزید 2مرتبہ جنرل ضیا کے دورمیں ہی الطاف حسین کوگرفتارکرکے ذہنی وجسمانی اذیتیں دی گئیں، مجھ پر قاتلانہ حملےکئے گئے، میری پارٹی کے خلاف فوجی آپریشن کئے گئے، میرے ہزاروں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا، لیکن کسی نے اس ظلم کےخلاف آواز نہیں اٹھائی، جب ان مظالم سے مجھے نہیں جھکایا جاسکا تومجھے توڑنےکےلئے 1995ء میں میر ے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کوگرفتارکرکے تین روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد کراچی میں گڈاپ کے علاقے میں لیجا کر گولیاں مار کر شہید کردیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگھرسےگرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں اذیتیں دی گئیں اورادھ مرا کرکے پھینک دیا گیا،بعد میں وہ بھی شہید ہوگئے۔میرے باقی بہن بھائیوں کو بھی مسلسل چھاپوں کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر بیرون ملک جاناپڑا۔یہ ظلم میرے خاندان کے ساتھ ہوتارہا لیکن سب خاموش رہے،کاش اس وقت عمران خان اوردیگرسیاسی ومذہبی رہنماان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے۔
ستمبر 2015ء میں اسٹیبلشمنٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے ذریعےمیری تقریراوربیانات کی نشرواشاعت پر پابندی لگادی، اس غیرآئینی وغیرقانونی پابندی کے خلاف بھی سب خاموش رہے، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے،انہوں نے بھی یہ پابندی ختم نہیں کرائی۔ عمران خان کو اقتدارسے باہرکرنےکےبعد ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، وہ بچ گئے توگرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا، پھر بھی عمران خان نہ ٹوٹاتوان کا اعصاب توڑنےکے لئے ان کی فیملی کونشانہ بنایا جارہا ہے۔کل جب عمران خان کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظورہوئی اورتحریک انصاف کےرہنما اور کارکنان اس پر خوشیاں منارہے تھےکہ دوسری طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر پرچھاپہ مار کران کےبھانجے شاہ ریز کو گرفتارکیا گیا اوردوسرے دن عدالت سے واپسی پر عمران خان کےدوسرے بھانجے شیرشاہ کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔
کاش کہ جب الطاف حسین کی فیملی کو ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاتھا، اس وقت اگر عمران خان اور دیگرسیاسی ومذہبی رہنما اس ظلم کےخلاف آواز اٹھاتے تو آج عمران خان کی فیملی کونشانہ نہ بنایاجارہا ہوتا۔ 1/2
2/2
In 2018, Imran Khan became Prime Minister, yet he did not lift this ban. After being removed from power, Imran Khan survived an assassination attempt, but was later arrested and jailed. When even imprisonment did not break him, his family was targeted to break his spirit. Yesterday, when the Supreme Court granted Imran Khan bail and PTI leaders and workers were celebrating, the authorities raided the house of his sister Aleema Khan and arrested her nephew Shahrez. The next day, after leaving court, another nephew, Shehryar, was also arrested. I say again that if, when my family was being persecuted, Imran Khan and other leaders had raised their voices, Imran Khan’s family would not be targeted today. On the other hand, when Imran Khan was attacked, arrested, and his party victimized, I, Altaf Hussain, was the only one across the country who openly raised his voice against this oppression, and I continue to do so. Likewise, when Nawaz Sharif and his daughter Maryam Nawaz faced injustice, I raised my voice for them too. Wherever oppression occurs, Altaf Hussain raises his voice. As long as I breathe, I will continue to protest against oppression because Allah has made my heart such that I cannot bear to see anyone oppressed. I strongly condemn the arrest of the sons of Ms Aleema Khan and demand their immediate release. PTI workers trust Ms Aleema Khan more than their leaders. They now understand that their leaders have been enjoying ministerial perks and assembly memberships for two years, while workers are being sentenced to 10 years in prison; yet the @PTIofficial leadership remains silent. When Aleema Khan’s house was raided and her sons arrested, the PTI leadership should have announced protests or sit-ins, but they stayed silent. I urge the PTI workers not to look towards these self-serving leaders but to take the movement into their own hands. Today, the Baloch are being called traitors, but they are not traitors. They are fighting for their legitimate rights. The real traitors are those generals who brand Baloch as traitors, persecute them, and push them against the wall.
Altaf Hussain.
London.
304th public address on TikTok on August 22, 2025.
https://t.co/zJl43Mjyyq
A conspiracy against the MQM and I was hatched on August 22, 2016. The military establishment did it. It was a usual unlawful act of the military establishment to weaken the MQM through its proxies under the same but fraud MQM.
#YoumeAzmeWafa22Aug
Despite these continued notorious acts, the MQM is intact of which I am the undisputed Supremo. The people know it, and embrace it cordially. The chain of atrocities which the military establishment launched on August 22, 2016 is still in full swing. They had already chalked out and finalized the required preparations for that operation. Many MQM leaders, Coordination Committee members, and assembly members had been bought off by offering them various incentives. On the morning of August 23, 2016, they held a press conference and announced disassociation from me, the founder and leader of the movement. They sold their conscience and integrity. However, the devoted workers remained steadfast. Those who refused to sell their loyalty were betrayed by traitors and forcibly disappeared. Many of them were extra-judicially murdered, and their mutilated bodies were dumped in deserted areas. I advised my loyal workers to hold the traitors accountable for the blood of these martyred comrades. On August 22, 2016, my residence Nine Zero, the Khursheed Begum Memorial Secretariat, and all zonal, sector, and unit offices of MQM in Karachi, Hyderabad, and across Sindh were sealed, and they have never been returned to the loyal workers. All of this happened in the presence of the man I had trusted and appointed as Governor of Sindh who stabbed me in the back and worked against the movement and the Muhajir nation instead of working for their interests. Despite all restrictions, every worker of the movement in Pakistan and overseas observes the "Day of Loyalty and Commitment." Even in a suffocating environment, the mothers, sisters, and daughters of the movement held Quran recitations for the martyrs and continued their bond of loyalty with their brother Altaf. I wholeheartedly salute and pay tribute to the convener and deputy convener of the Rabita Committee, former members, international secretariat aides, comrades who stood guard at my home, and every worker and office-bearer of the units in Pakistan and overseas. The conspiracy hatched against Altaf Hussain and his MQM on August 22, 2016, is today, nine years later, being repeated against Imran Khan. Conspiracies and injustices against me, my movement, and my family have been carried out for decades. In 1979, I was arrested, and General Zia Ul Haque’s summary military court sentenced me to 9 months in prison and 5 lashes. Twice more under Zia’s rule, I was arrested and subjected to mental and physical torture. Attempts were made on my life, military operations were launched against my party, and thousands of my workers were killed extra-judicially. No one raised their voice against these atrocities. When I could not be broken by oppression, my elder brother Nasir Hussain and my nephew Arif Hussain were arrested in 1995, tortured for three days, and then shot dead in Gadap, Karachi. My brother-in-law Aslam Ibrahimi was arrested from his home, tortured in Adiala Jail, and left half-dead. He, too, was later martyred. Due to repeated raids, my other brothers and sisters were forced to leave their homes and go abroad. My family was persecuted for years, yet everyone remained silent. I wish @ImranKhanPTI and other political and religious leaders had spoken out against these injustices then Imran Khan’s family would not be facing the same today. In September 2015, the establishment, through the Lahore High Court, banned the broadcast and publication of my speeches and statements. Everyone remained silent against this unconstitutional and illegal ban. 1/2
الطاف حسین ملک کے خلاف نہیں سسٹم کے خلاف ہے،
پنجاب کے وفاپرست ساتھی ملک میں انقلاب کا ہراول دستہ بنی�� گے
شیخوپورہ پنجاب میں کارکنوں سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی کے خلاف نہیں بلکہ فرسودہ اور کرپٹ سسٹم کے خلاف کل بھی تھا اورآج بھی ہوں۔وہ بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے، سرداراورخوانین جوانگریزوں کی اطاعت وفرمابرداری کرتےتھے اورآج بھی ملک پر مسلط ہیں،میں ان کےخلاف کل بھی تھااور آج بھی ہوں۔میں کل بھی یہ کہتا تھا اورآج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ نہ تو پاکستان ایک آزاد ملک ہےاورنہ ہی ملک کےعوام آزاد ہیں بلکہ وہ 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام ہیں۔میں نے پاکستان سے2 فیصد جاگیردار اشرافیہ کے تسلط کے خاتمے اور98فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے حقوق کے لئے آوازاٹھائی،سیاسی معاملات میں سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت، فوج کی غلط پا��یسیوں اوراقدامات پرتنقید کی تو فوج اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے میری باتوں کوغلط اندازمیں پیش کیاگیا،مجھے فوج کا مخالف، ملک دشمن اورغدار بناکر پیش کیا گیا،مجھے پنجاب اورپنجابیوں کامخالف قرار دیاگیا۔پنجاب کےبڑے بڑے صحافیوں اور کالم نگاروں نےطرح طرح کےالزامات کے ذریعے پنجاب کے عوام میں میری بھیانک تصویرپیش کی کیونکہ وہ پنجاب میں ایم کیوایم کا نظریہ پھلتاپھولتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔اسکے باوجود پنجاب اورملک بھرکےعوام میں MQMکا پیغام پھیلنے لگا تو1992ء میں MQM کے خلاف فوجی آپریشن کردیاگیا۔ہم نےتمام ترریاستی جبر کےباوجود اپنا پیغام پھیلانا جاری رکھا اور پھروہ و��ت بھی آیا کہ سندھ کے دیہی علاقوں سمیت پنجاب، پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اورآزادکشمیر میں ایک بارپھر MQM کا پیغام بہت تیزی سے پھیلنےلگا۔ پنجاب میں MQM کے دفاترقائم ہوئے۔ ہم نے پاکستان کوحقیقی معنوں میں آزادکرنے کے لئے ملک بھر کے عوام کو بیدارکرناشروع کیا توایک بار پھر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے خلاف کار��وائیاں شروع کردیں۔ ستمبر2015ء میں لاہور ہائیکورٹ کے ذریعے میری تحریر، تقریراورتصویرکی اشاعت پر پابندی لگادی گئی، حتیٰ کہ میڈیامیں میرا نام تک لیناجرم بنادیا گیا۔ہمارے خلاف بھیانک آپریشن شروع کردیاگیا، MQM کے کارکنوں کوگرفتار کرکے انہیں جبری لاپتہ کیاگیا، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جانےلگیں۔ 22اگست 2016ء کےبعد MQM کے مرکز نائن زیرو سمیت تمام دفاترseal کردیےگئے،پنجاب میں بھی MQM کےدفاتر پر قبضے کرلئے گئے۔ جس نے بھی الطاف حسین کانام لیا، اسے اٹھالیا گیا اور لاپتہ کردیا گیا۔لوگ سمجھے MQM ختم ہوگئی۔لیکن جوالطاف حسین اور اس کے نظریہ کے سچے ماننے والے تھے انہوں نے الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑا، وہ ثابت قدم رہے اورجہاں موقع ملتا وہ الطاف حسین اوراس کے نظریے سے وابستگی کے عملی مظاہرے کرتے رہے۔
یہ طاقتورانسانوں کاعمل تھاکہ وہ الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کوختم کرنے کے اقدامات کررہے تھے لیکن قدرت کا کرنایہ ہواکہ وہ پنجاب جہاں MQM کی سب سے زیادہ مخالفت ہوا کرتی تھی اسی پنجاب سے عمران خان کی شکل میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی لہر اٹھی اور جب عمران خان نے بیرونی طاقتوں کی پاکستان میں مداخلت کو چیلنج کیا، جرنیلوں کی سیاست اورحکومتی معاملات میں مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی توعمران خان اوران کی جماعت کے خلاف بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا، پنجاب میں ان کےکارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے دوران ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جانے لگی توپنجاب کے عوام نے سمجھ لیا کہ الطاف حسین کی باتیں صحیح تھیں، جوباتیں آج عمران خان کررہاہے، الطاف حسین وہ باتیں 40 سال سے کررہاہے لیکن ہم نے اس پر الطاف حسین کو غدارسمجھا ، ہم غلط تھے۔ میرے پنجاب کے ساتھی آج فخرمحسوس کررہے ہیں کہ کل تک جس پیغام کی وجہ سے ان کے قائد کوغدار کہا جاتاتھااورانہیں مطعون کیا جاتا تھا آج وہی باتیں عمران خان اور PTI کے لوگ کررہے ہیں۔
میں اپنے پنجاب کے ساتھیوں کویہی پیغام دیا تھا کہ وہ خاموشی سے پیغام کوپھیلاتے رہیں، ایک دن آئے گا کہ جب آپ ایک بارپھر سامنے آکرتحریک کا پیغام پھیلائیں گے، مجھے خوشی ہےکہ چند روزقبل پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں میرے وفاپرست ساتھیوں نے مجھ پر پابندی کے خلاف شیخوپورہ پریس کلب پر مظاہرہ کیا، پھر پنجاب کے شہر خانیوال میں مظاہرہ ہوا اور آج شیخوپورہ میں میرے وفاپرست ساتھی جمع ہوئے ہیں اورمیں کئی سال بعد آج ایک بارپھر ان سے بات کررہا ہوں۔ انشاء اللہ چراغ سےچراغ جلے گااورپنجاب کے دیگرشہروں میں بھی اسی طرح ساتھی سامنے آئیں گے ۔
میں شیخوپورہ اورخانیوال میں مظاہرہ کرنے اورشیخوپورہ میں اجلاس کرنے پر ایک ایک ساتھی کودل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ انشاء اللہ پنجاب کے میرے وفاپرست ساتھی ملک میں حقیقی آزادی کے انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے۔
لندن
24 اگست 2025
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کا لندن کے اسپتال سے کارکنوں اور تمام چاہنے والوں کے نام پہلا وڈیو پیغام
17 جولائی 2025
#GetWellSoonAltafBhai
#GetWellSoonAltafBhai
اے اللّٰہ تجھے پینجے تن پاک کا واسطہ
ہمارے محبوب قائد تحریک الطاف حسین بھائی @AltafHussain_90 کو مکمل صحت تندرستی کے ساتھ لمبی عمر خضر عطا فرما آمین
اے اللّٰہ اپنی رحمت سے شفایاب فرما آمین
بانی و قائد تحریک جناب @AltafHussain_90 بھائی بہت جلد مکمّل صحت یاب ہو کر ہمارے درمیان ہونگے اور اسی گھن گرج کے ساتھ رہنمائی کریں گے۔انشاءاللّه
کنوینئر @OfficialMQM مصطفیٰ عزیزآبادی بھائی کا تازہ ترین ویڈیو لاگ۔
#GetWellSoonAltafBhai
بریکنگ: ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کی 13 ویں روز کی ہیلتھ اپ ڈیٹ:
21 جولائی2025 ء
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
#GetWellSoonAltafBhai
آج بروز پیر سینئر کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ لپکن Dr David Lipkin نے صبح کے وق�� جناب الطاف حسین کا دوبارہ معائنہ کیا۔ ڈاکٹر نے جناب الطاف حسین کی طبیعت میں مزید بہتری پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر لپکن نے ڈیوٹی ڈاکٹرز اور سینئر اسٹاف نرسز کو ہدایت کی کہ وہ جناب الطاف حسین کو دی جانےوالی دوائیں جاری رکھیں اور باقاعدگی سے چیک اپ کرتے رہیں۔
واضح رہے کہ جناب الطاف حسین کو اسپتال میں داخل ہوئے 13 روز ہوچکے ہیں۔
لندن
21 جولائی 2025
مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں انصاف کے بے رحمانہ قتل کے طورپر ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔
#SupremeCourtofpakistan
پی ٹی آئی اورعمران خان @ImranKhanPTI کے طرز سیاست سے اختلاف کیاجاسکتا ہے لیکن اسےحکومت سےباہر کرنے کے بعد عمران خان کوقید کرکے، اس کوسزائیں دینےکے بعد سپریم کورٹ کے فیصلوں کے ذریعے جس طرح تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا، جس طرح اسے 8 فروری 2024 کے الیکشن سے باہر رکھنےکی کوشش کی گئی اورپھرالیکشن کے بعد اسے جس طرح اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں سے محروم رکھنے کی کوششیں کی گئیں وہ سب کے سامنے ہیں اور آج سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے ذریعے @PTIofficial کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کاجو فیصلہ کروایا گیا ہے وہ انصاف کا بدترین قتل ہے ۔
آئینی بینچ کےاس فیصلے نے میرے ان خدشات کودرست ثابت کردیا ہے کہ چند ماہ قبل آئینی ترمیم کےذریعے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اورججوں کی تقرری کے قوانین میں جو تبدیلی کی گئی ہے اورسپریم کورٹ کے اوپر آئینی بینچ کاجوقیام عمل میں لایا گیا ہے وہ انصاف کے لئے نہیں بلکہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے، انصاف کاقتل کرنے اور حکمرانوں کے مقاصد کی تکمیل کے لئے کیاگیا ہے ۔
مستقبل میں یہی کچھ دیگرسیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی کیاجائے گا۔
الطاف حسین
آئینی بینچ کے فیصلے پر تبصرہ
27جون 2025ء
محبان پاکستان اوورسیز سعودی عرب کے جوائنٹ آرگنائزر سلیم نصیر کے ٹریفک حادثہ میں زخمی ہونے پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تشویش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا پرست عوام وکارکنان سلیم نصیر کی جلد ومکمل صحتیابی کیلئے اللہّ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعا کریں ، جناب الطاف حسین کی اپیل
ایران پر امریکہ کاحملہ وحشیانہ ، ظالمانہ اور ننگی جارحیت کی بدترین مثال ہے۔ الطاف حسین
#IranVsIsrael#IsraeliranWar
امریکہ نے ایک طاقتور اورعالمگیری سلطنت کےطورپر ایران کی جوہری تنصیبات پرہزاروں ٹن وزنی بنکر بسٹربموں سے جس سفاکانہ اوربے رحمانہ طریقے سے حملہ کیا ہے وہ وحشیانہ، ظالمانہ اورایک ننگی وکھلی جارحیت کی بدترین مثال ہے۔اس واقعہ پر، اقوام متحدہ اوروہ تمام ممالک بھی اس حملے کےذمہ دارہیں جنہوں نے اس حملے اورکھلی جارحیت میں بالواسطہ یابلاواسطہ سہولت کاری کی اوراس میں ساتھ دیا۔ میرا
سوال یہ ہے کہ آخر ایران پر اس بے رحمانہ اور سفاکانہ حملےکاجواز کیا ہے؟ کیا ایران نے امریکہ پرکوئی حملہ کیاتھا؟ کیاحالیہ ایران اسرائیل جنگ میں ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا یااسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا؟ پھر ایران پر حملہ کیوں کیا گیا؟
اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت ہرملک کی جغرافیائی سرحدوں ،علاقائی سلامتی ، خودمختاری اوراستحکام کا احترام تمام ممالک پرلازم ہے، ایران بھی ایک آزاداورخود مختارملک ہے لیکن اس کی قومی سلامتی سے متعلق جوہری تنصیبات پر امریکہ کی جانب سےکیاجانےوالا یہ ظالمانہ حملہ نہ صرف ایک کھلی جارحیت ہے بلکہ اس کے ذریعے اقوام متحدہ کے چارٹراور تمام بین الاقوامی اصولوں کی بھی دھجیاں اڑادی گئی ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توصدارتی الیکشن جیتنےکےفوری بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ رشیایوکرین جنگ اورحماس اسرائیل جنگ بندکرادیں گے۔اسرائیل مقبوضہ غزہ میں فلسطینیوں کے کیمپوں پر بمباری کررہاہے، امداد کےلئے جمع ��ونے والے فلسطینی بچوں، عورتوں، نوجوانوں اور بزرگوں پرروزانہ وحشیانہ حملے کررہا ہے ، انہیں بھوک کی حالت میں بھی مار رہا ہے، کیا امریکہ نے معصوم فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام پر اسرائیل کوروکا؟ کیا صدرٹرمپ نے اسرائیل سے کہاکہ وہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر بمباری بند کرے؟ کیاصدرٹرمپ نے اسرائیل کوایران پر حملے سے روکا؟صدرٹرمپ کی جانب سے جنگیں بندکرانے کے بجائے خود جنگ چھیڑنے کا اقدام ان کے اپنے اعلانات اوردعوؤں کے بھی سراسر منافی ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف کھلی جارحیت کررہاہے اورصدرٹرمپ نے اسرائیل کی مدد کرنے کےلئے ایران پر حملہ کیا، انہوں نے ایران پر حملہ کرکے انسانی حقوق کے پرخچے اڑانے والاعمل کیا ہےجس کا جواب امریکہ کواقوام متحدہ ، پوری عالمی برادری اورخودامریکی عوام کو بھی دینا پڑے گا۔ الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم ایران پرامریکہ کے ظالمانہ ، جابرانہ اورسفانہ حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور انسانیت کے احترام پر یقین رکھنے والی ہرجماعت اورہرفرد کواس ظلم وبربریت اور کھلی جارحیت کی شدید مذمت کرنی چاہیے ۔
یہ معاملہ بھی بہت غورطلب ہے کہ 14جون 2025ء کوسلطنت امریکہ کی فوج کی 250 ویں پریڈ ہوتی ہے ، پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر امریکہ جاتے ہیں، اگرچہ امریکہ کےاسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کہاجاتاہے کہ انہوں نے جنرل عاصم منیرکو مدعو نہیں کیاہے۔ میراسوال ہے کہ جب جنرل عاصم منیر کومدعو نہیں کیا تووہ وہاں کیوں گئے؟ ان کی جانب سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی فریادیں کی جاتی رہیں، جب بہت درخواستوں کے بعد ملاقات ہوئی تواس ملاقا ت کی کوئی تصویر بھی جاری نہیں کی گئی،حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر کو صدرٹرمپ نے ظہرانہ دیا لیکن اس ظہرانے کی بھی کوئی تصویرجاری نہیں کی گئی بلکہ اس کا مینیوکارڈ سوشل میڈیا پرجاری کردیا گیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ صدرٹرمپ سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ملاقات کے چوتھے روز امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا۔ میرا سوال ہے کہ ایران پر حملے کےلئے امریکہ کواڈے کس نے دیئے؟ لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیاایران پر امریکہ کے حملے میں پاکستان کابھی کوئی کردار ہے؟ کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان ماضی میں بھی امریکہ اور مغربی طاقتوں کےلئے افغانستان میں بھی استعمال ہوچکاہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ کسی سپر طاقت کے مفاد کے لئے پاکستان کوپرائی جنگ میں ملوث نہ کریں ۔ ایران پر امریکہ کے حملے کے بعد دیکھتے ہیں کہ روس اورچائنا کیاکرتاہے۔ آثارنظرآتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ ہوسکتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکہ سپرطاقت ہے اور اس سے کوئی نہیں لڑسکتا لیکن یہ توکہا جاسکتاہے کہ امریکہ نے ایک یزیدی عمل کیاہے۔ معصوم انسانوں کاقتل اوریزیدی عمل کرنے والے اوران کی سہولت کاری کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قدر�� کے مکافات عمل کاشکارہوں گے ۔
الطاف حسین
ایران پر امریکی حملے پر عوام سے خطاب
22جون 2025
پاکستان کی جانب سے امریکہ کے صدرڈونلڈٹرمپ کیلئے امن کے نوبل پرائزکی سفارش انتہائی شرمناک ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی حکومت نے سفارش کی ہے کہ امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کوامن کا نوبل انعام دیاجائے جوکہ انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نےالیکشن میں کامیابی کےبعدکہاتھا کہ ''میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ بند کرادوں گا،یوکرین اور روس کےمابین جنگ بند کرادوں گا اس کے باوجودایک طرف اسرائیل غزہ میں روزبمباری کرکے معصوم فلسطینی بچوں، خواتین ، نوجوانوں اور بزرگوں کی لاشوں کا ڈھیر لگارہا ہے ،پناہ گزینوں کے کیمپوں میں امداد کے لئے جمع ہونےوالے فلسطینیوں پر بمباری کررہاہےاور بھوک وپیاس سےروتے بلکتے فلسطینی بچوں کاروزانہ قتل عام کررہاہےاورصدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی کھل کرحمایت کررہے ہیں لیکن غیرت وحمیت سے عاری پاکستان کے حکمراں ،صدرٹرمپ کو امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش کررہے ہیں۔
پاکستان کےغیورعوام ،سیاستداں اور اینکرپرسنز جو الطاف حسین پر دہشت گردی اور ملک دشمنی کے جھوٹے الزامات لگاتے ہیں وہ پاکستان کے حکمرانوں سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ امریکی صدر کوکس بات پر امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش کی جارہی ہے ؟
کیاامریکی صدر نے پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادی ہیں؟
کیا انہیں غزہ میں معصوم فلسطینی بچوں ، خواتین ، نوجوانوںاور بزرگوں کے قتل عام پر نوبل انعام دیاجائے؟
کیا انہیں یمن اور شام میں قتل وغارتگری اوراسے تباہ کرنے پر انعام دیاجائے؟
کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے Weapons of mass destruction (WMD) کاجھوٹا الزام لگاکر عراق کو تباہ کردیا،اسی طرح مصر، لیبیا ، اردن ، شام،افغانستان اوریمن کو تباہ کردیاگیا اوراب ایسا ہی الزام لگاکر ایران پر حملہ کردیاگیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے نام نہاد حکمران صدرآصف زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوران کے پیادے امریکی صدر ��ونلڈ ٹرمپ کو فلسطینیوں، عراقیوں، شامیوں، یمنیوں، افغانیوں اور ایرانیوں کے قتل عام پر امن کا نوبل پرائز دینے کی سفارش کررہے ہیں جوکہ انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
پاکستان کے جوحکمراں یہ عمل کررہے ہیں وہ پاکستان کی تباہی و بربادی کاسامان کررہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کواس کی کھل کرمذمت کرناچاہیے۔
الطاف حسین
ایران پر امریکی حملے پرعوام سے خطاب
22، جون 2025ء
2/2
The Pakistani government claimed that a luncheon was hosted in his honor yet, curiously, not a single image of that event has surfaced. Only a menu card appeared on social media, raising further doubts.
More troubling still is the fact that just four days after this meeting, the U.S. launched its assault on Iran. Who provided the operational support or staging grounds for this attack? Did Pakistan, knowingly or unknowingly, play a role? Given Pakistan’s unfortunate historical precedent of being used by foreign powers particularly during the U.S.-led war in Afghanistan these suspicions are not without basis.
Once again, I reiterate my long-standing warning: #Pakistan must not allow itself to be used in proxy wars or dragged into the interests of global superpowers.
In the aftermath of this reckless attack, the world now watches closely. How will #Russia and #China respond? The geopolitical signs point toward the ominous possibility of a Third World War. The flames of this conflict, if not extinguished immediately, could engulf entire regions and destabilize the world order irreparably.
It is true that America is a global superpower and few can challenge it militarily. However, power does not absolve responsibility. The actions undertaken by the United States represent not strength, but tyranny. They echo the Yazidi spirit, the spirit of brutal oppression. Those who orchestrate or facilitate the massacre of innocent civilians will not escape the divine justice of God. The consequences of such cruelty are inevitable, be it through divine retribution or the unstoppable force of historical reckoning.
Altaf Hussain.
Public Address on the U.S. aggression against Iran
Dated: June 22, 2025
Altaf Hussain condemns U.S. attack on #Iran as barbaric and a brazen act of aggression
#IsraeliranWar#IranIsraelConflict
The recent #U.S. airstrikes on Iran's nuclear infrastructure mark one of the most brutal, tyrannical, and blatant acts of aggression in modern history. The methodical deployment of thousands of tons of bunker-buster bombs by the United States against a sovereign nation's strategic facilities showcases not only unrestrained military savagery but also the utter disregard for international law and human dignity.
This unprovoked and unilateral assault was not merely the act of one state it was facilitated, either directly or indirectly, by several other nations and international stakeholders who must share in the responsibility for this blatant violation of Iran’s sovereignty. The United Nations, too, must answer for its silence and inaction.
A critical question must be asked: what was the legal and moral justification for this ruthless attack on Iran? Did Iran strike American territory? In the context of the recent Iran-Israel conflict, was it Iran that initiated aggression, or was it Israel? If Israel attacked first, then what warranted this violent U.S. intervention against Iran?
Under the United Nations Charter, every state regardless of its size, power, or alliances is guaranteed territorial integrity, sovereignty, and security. Iran is a sovereign nation, and its nuclear installations are integral to its national defense infrastructure. By targeting these facilities, the United States has not only breached international law but has torn apart the very fabric of the global order and made a mockery of the United Nations Charter.
President @realDonaldTrump , upon assuming office, promised to end the Russia–Ukraine war and the #Gaza conflict. Yet, instead of diffusing tensions, he has ignited a new conflict. While Israel continues to bomb #Palestinian camps in Gaza, killing women, children, and the elderly many of them in starvation has the U.S. taken any steps to restrain Israel’s atrocities? Has President #Trump called upon #Israel to halt its daily airstrikes? Has he done anything to prevent Israel’s ongoing aggression against Iran?
On the contrary, by launching an offensive against Iran, President Trump has abandoned diplomacy and embraced war. His actions directly contradict his public commitments and reveal a dangerous double standard. The United States, rather than playing a peacemaking role, has now aligned itself with the perpetrators of violence.
The U.S. assault on Iran is not just a violation of international norms—it is an egregious assault on human rights. President Trump’s decision to bomb Iran in support of Israel has bloodied America’s moral standing on the global stage. The U.S. must now answer not only to the United Nations and the international community but also to the American people, whose name and resources are being used to perpetuate this aggression.
I, Altaf Hussain, and the MQM categorically condemn this cruel and tyrannical attack in the strongest possible terms. We call upon all political, religious, and civil rights organizations and every individual who believes in humanity to raise their voice against this injustice, this brutality, and this clear-cut violation of peace.
It is particularly alarming that this incident follows Pakistan’s military leadership’s recent visit to the United States. On June 14, 2025, while the U.S. celebrated its 250th military parade, Pakistan’s Field Marshal General Asim Munir was in the United States. Although the U.S. State Department officially claimed it had not invited him, this raises critical questions.
If General #AsimMunir was not invited, what prompted his visit? Why did Pakistan’s top military official reportedly seek a meeting with President Trump so desperately? When the meeting finally took place, no official photographs were released. 1/2