جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے جوڈیشل نوٹ کے مطابق موجودہ انتخابات سے متعلق کیس پہلے سے لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیئے سپریم کورٹ کا مقدمے کی سماعت کرنا مناسب اور قابل سماعت نہیں یعنی بنچ میں شامل جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی فیصلے دے دیا ہے ۔
گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے 90 روز کروانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی کل کی سماعت کا تحریری حکم نامہ آج جاری ہو جائیگا ۔ اس حکم نامے میں تین سوالات جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے سوالات بھی شامل ہونگے۔ زرائع
فیئر ٹرائل کے حق کے تحت جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بینچ سے الگ ہوجائیں: فاروق نائیک نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی مشترکہ بیان عدالت میں پڑھا۔
دونوں ججز کے کہنے پر از خود نوٹس لیا گیا اس لیے دونوں بینچ سے الگ ہوجائیں،مشترکہ بیان
جب فاروق ایچ نائیک صاحب نے تین سیاسی جماعتوں کی جانب سے بنچ میں شامل دو ججز پر اعتراض عائد کیا تو اس وقت جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے چہروں پر پریشانی نمائیاں ہوگئی ۔۔ بظاہر دونوں ججز اس پر شدید پریشر میں آ چکے ہیں ۔
پی ڈی ایم میں شامل تین سیاسی جماعتیں 9 رکنی بنچ کے دو ججز پر اعتراض کرینگی۔ زرائع
مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کی جانب سے دو ججز جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الا حسن پر اعتراض کیا جائیگا۔ زرائع
مریم نواز نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی سٹیج پر لگی سکرین پر جنرل فیض،جسٹس ثاقب نثار،جسٹس کھوسہ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کی تصویریں چلوا کر انہیں پانچ کا ٹولہ قرار دے دیا ۔