زندگی کیوں نہ تجھے وجد میں لاؤں واپس
چاک پر کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس
دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی
تجھ کو ناراض کروں ، روز مناؤں واپس
وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی
کچھ بہانہ تو ملے دوڑ کے آؤں واپس
وقت کا ہاتھ پکڑنے کی شرارت کر کے
اپنے ماضی کی طرف بھاگتا جاؤں واپس
دیکھ میں گردشِ ایام اٹھا لایا ہوں
اب بتا، کون سے لمحے کو بلاؤں واپس؟
یہ زمیں گھومتی رہتی ہے فقط ایک ہی سمت
تُو جو کہہ دے تو اسے آج گھماؤں واپس
آج کال پر میں نے اپنی بھولی سی ماں کو ہنسایا۔ اتنی خوشی ہوئ روح تک سیراب ہو گئی۔ تب سے اب تک مسلسل اس لمحے کو سوچ کر خوش ہوں کہ وہ مسکرائ اور میری وجہ سے بار بار میرے ساتھ ہنسی۔ دل چاہا وقت روک لوں یا ایسا کچھ بولتی جاؤں کہ ول بس ہنس��ی جاۓ خوش رہے۔۔
~" عورتیں کُچھ بھی______ ضائع نہیں کرتی ~"
° وہ سِھجتی ہیں،° سَنبھالتی ہیں° ڈھکتی ہیں °
~° اُمید کی آخری حد تک ~°
" کَبھی ٹَانکا لگا کہ کَبھی دُھوپ دِیکھا کر "
~° کَبھی تُوڑ کر_____ کَبھی جُوڑ کر ~°
!!!! دِیکھا ہوگیا نَاں
، صُبح کی رُوٹی شَام کو کَھاتے ہوئے"
" بّاسی سَبزی میں ______ تڑکّا لگاتے ہوئے "
!!!! دِیواروں کی سِلنگ تَصویروں سے چُپھاتے ہوئے
" بَچے ہوئے سے اپنی تَھلی سَجھاتے ہوئے "
، پَھٹے ہوئے کپڑے ہو ، ٹوٹا ہوا بٹن ہو
" گَلا ہوا پَھل ہو یا پِھر تَکلیف دیتا رِشتہ "
وہ سِھجتی ہیں، سَنبھالتی ہیں ،ڈھکتی ہیں، باندھتی ہیں