سعد رضوی اور انس رضوی کو لاپتہ ہوئے 360 دن مکمل ہوگئے ہیں، اور ٹھیک پانچ دن بعد 13 اکتوبر کو ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ ریاست کی جانب سے تاحال دونوں بھائیوں کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں لائی گئیں، جبکہ دوسری طرف پارٹی کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں بھی تقریباً مفلوج دکھائی دیتی ہیں۔ نہ کوئی مؤثر مطالبہ، نہ میڈیا ٹاک اور نہ ہی کوئی احتجاج، جبکہ جیل سے باہر موجود قیادت اور کارکن بھی اس معاملے پر خاموش نظر آتے ہیں۔
یہی وہ رویہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سعد رضوی کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ ’’نچن آلیاں دے پتر کدی انقلاب نہیں لاندے‘‘، لیکن اگر موجودہ سیاسی رویوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اس حوالے سے داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے گزشتہ چار برس میں سخت حالات اور مشکلات کا سامنا کیا، لیکن اپنی سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر ترک نہیں کیں۔ حتیٰ کہ صنم جاوید اور فلک جاوید جیسے کارکنوں کو بھی مختلف اوقات میں تنقید کا سامنا رہا، مگر انہوں نے اپنے سیاسی مؤقف سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
میرا مقصد ٹی ایل پی کے کارکنوں یا اس کی قیادت پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اس تضاد کی نشاندہی کرنا ہے کہ جو معیار دوسروں کے لیے طے کیے جاتے رہے، کیا وہی معیار اپنے طرزِ عمل پر بھی لاگو کیے جا رہے ہیں؟ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اصولی مؤقف کی اصل آزمائش مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے۔بہرحال ہمارا مطالبہ ہے کہ دونوں بھائیوں کو سامنے لانا چاہئیے اور اگر کوئی الزام ہے تو اس پر قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئیے۔
سہیل آفریدی کا قافلہ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا ہے ان علاقوں میں کافی عرصے سے عصر یا مغرب کے بعد سڑک پر سفر محال ہے لیکن چار اکتوبر کی رات کے وقت اس قافلے کا کرک پہنچنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اگر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کام کریں تو ان علاقوں میں امن بحال کرنا کوئی مشکل نہیں ہے
شادی کو اک ماہ سے کم دن ہوے ہیں دلہن کے پیٹ میں دو ماہ کا بچہ ہے ۔ ملک کی نامور گائناکلوجسٹ جاہلوں کے ہتھے چڑھ گئی ۔۔
یہ سر پکڑے بیٹھی خاتون سیالکوٹ کی مشہور گائناکلوجسٹ ڈاکٹر ہیں ان کے پاس اک کیس ایا نئی شادی شدہ عورت کو شادی کے تین ہفتے بعد الٹیاں شروع ہو گی ۔۔۔
وہ اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس اس نے کہا کہ اسے تو دو ماہ کا حمل ہے۔
لڑکی کی ساس سیدھا اپنی بہو کو گھر لے گی گھر میں رولا مچ پڑ گیا ۔پورا خاندان جا پہنچا ڈاکٹر کے پاس ۔۔
دلہا کہے کہ ڈاکٹر صاحبہ ہماری شادی کو اک مہینہ بھی پورا نہی ہوا اور اپ کہتی ہو دو ماہ کا حمل ہے مطلب کہ یہ میرا نہی یا پھر اپ سے غلطی ہوی ہے ۔۔
ڈاکٹر نے سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے بچی سے پوچھا پریڈ کب اے تھے پورا حساب بنا کر ��یا کہ یہ بچہ تمھارا ہے یہ شادی کی پہلی یا دوسری رات حمل ٹھہرا ہے ۔۔
یہ لوگ پھر سے غصہ کریں دلہے کی ماں نے کہا نو بجے پیدا کر چکی ہوں تم ہمیں پاگل بنا رہی ہے لڑکے کی بہنیں باقی خاندان والے ڈاکٹر پر چڑھای کر دی ۔۔
اب جب ڈاکٹر کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ پھر بھی جھگڑا کر رہے تھے ڈاکٹر نے کہا کہ تمھاری لو میرج ہے لڑکے نے کہا ڈاکٹر نے کہا کہ تمھیں اس کے کردار پر شک ہے تو کہتا نہی ۔۔
ڈاکٹر نے کہا پھر تم اسے لیکر چلے جاو وہ کہے میں کیسے اس کو لے جاوں شادی میری اک ماہ پہلے ہوی ہے بچہ دو ماہ کا ہے اپ کہتی ہو یہ بچہ تمھارا ہے ۔۔
خیر ڈاکٹر نے پھر اسے اک بار سمجھایا حمل کی تاریخ پریڈ سے طے ہوتی جو Sac بنا ہو ہے وہ دو ماہ کا ہے ۔۔ انکی بات سمجھ نہی ای۔۔
ڈاکٹر نے جان چھڑانے کیلے کہا کہ تم اسے قبول کرو یہ بچہ تمھارا ہے تم ڈی این اے ٹیسٹ کروالینا سارا سچ جھوٹ س سامنے ا جاے گا ۔ تم لوگ جاہل ہو ۔۔ شوہر مان گیا ساس بضد تھی ۔
ڈاکٹر نے کہا انٹی اپ لوگ نو ماہ گنتے ہیں ہم دس ماہ گنتے ہیں پچھلا ماہ پریڈ والا شامل ہوتا ہے اس کیے بچے کی عمر دو ماہ ہے ساس کہے ابھی اٹھارہ دن ہوے ہیں دو ماہ بچے کی عمر ہے یہ ہمارا نہی ہے ۔
ڈاکٹر غصہ میں ا گئی کہا اس لیے میں کہتی ہوں کہ بچی کی شادی پریڈ کے دوران کریں جاہل معاشرہ ہے جتنا سمجھا لو یہ نہی مانیں گے ۔
یہ لوگ ہر اس بچی کو ازیت دیتے رہیں گے جو پہلی رات پریگنینٹ ہو گی ۔۔
یقین جانیے اس سب بحث میں اک عورت خاموش تماشای بنی رہی وہ تو دلہن جس نے نکاح کی شادی کی اج اس کے کردار پر انگلی اٹھ رہی تھی ۔
یہ مسئلہ کئی زندگیاں برباد کر چکا ہے ۔اج کے اس دور میں بھی لوگوں کو نہی پتہ نہ وہ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔
ڈاکٹر نے ہر طرح سے سمجھایا مگر کسی کو سمجھ نہی ایا ۔۔ مجھے نہی پتہ اس دلہن کا کیا بنے گا مگر ساس کی بحث سن کر مجھے نہی لگتا یہ قبول کرے ۔
پڑھتا جا شرماتا جا ۔۔ 🚨
پچھلے ساڑھے پانچ سالوں میں 7 کھرب 2 سو 75 ا��ب روپے آئی پی پیز کو دئیے
جبکہ ان سے بجلی ایک دھیلے کی بھی نہیں ملی مطلب ایک یونٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی ۔
صرف پچھلے سال 1کھرب 1 سو 49 ارب آئی پی پیز کو دئیے گئے
ان پیسوں سے 5 دیامر بھاشا ڈیم بن سکتے تھے
🚨ظلم در ظلم یہ بھی کہ 7275 ارب پہ ٹیکس بھی نہیں لیا گیا
رواں سال کے یعنی 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ایک ہزار 4 سو 30 ارب آئی پی پیز مالکان کو دیا جا چکا ہے
🚨اگلا ظلم سنیں
نیپرا کے ایک ملازم نے لگے ہوئے 108 پلانٹس کی انسپیکشن کرنا ہوتی ہے مطلب اس کی ڈیوٹی یہی ہے کہ اس نے ان پلانٹس کو چیک کرنا ہوتا ہے کہ کونسا پلانٹ چل رہا ہے یا کونسا نہیں چل رہا
اس نے پچھلے 6 سالوں میں صرف 30 پلانٹس کا وزٹ کیا
🚨اگلا ظلم سنیں
چئیرمین نیپرا کی تنخواہ 11 لاکھ تھی
جسے بڑھا کر 32 لاکھ کیا جا چکا ہے
ان درندوں کا نا پیٹ بھر رہا ہے نا نیت ، دولت کی ہوس ہے کہ ختم ہی نہیں ھو رہی ۔
معروف یوٹیوبر یاسر شامی
وہ دن اب دور نہیں جب عاصم منیر اور اس کے جرنیلوں پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قتل عام پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ ان بدمعاشوں کے ساتھی جن میں خواجہ آصف، احسن اقبال، عطاء تارڑ اور دیگر شامل ہیں ان کو بھی سخت ترین سزائیں ملیں گی۔ اور کتنی مائیں ان ظالم درندوں کے ہاتھوں اپنے بچے شہید کروائیں گی؟ ان کے ہاتھ اور ارادے اب روکنا ہوں گے۔
چلو اس خطے میں کسی میں تو غیرت ہے کہ نوجوانوں کی جانب سے بری طرح سے رد کیے جانے پر اسعفٰی دے دیا۔
یہاں تو ایسے بھی ہیں کہ جتنا رد کیے جاتے ہیں، جتنا ذلیل ہوتے ہیں، اتنا ہی زیادہ اقتدار سے چمٹ کر عوام کی زندگی عذاب بناتے ہیں۔