It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
بلاول صاحب کہہ رہے ہیں کہ وزیر دفاع کو کابینہ سے نکالو، حامد میر
دیکھیں ابھی پتہ نہیں بلاول کو سیریس لیتے ہیں یا نہیں لیتے، میں کیا کمنٹ کروں، میں بات ہی نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ گلگت میں کیا ہوا ، بلاول ناراض ہوگئے، بجٹ میں محسن نقوی آیا ، ہاتھ سے پکڑا ، بیٹھایا راضی ہو گیا، گلگت میں وزیراعلی بنایا، اس کے بعد کوئی نہیں رہا، کوئی تقریر نہیں ہے، کشمیر میں اس وقت فراڈ الیکشن چل رہا ہے، ہم نے توبائیکاٹ کر دیا تھا اس الیکشن سے کشمیری بھی پیچھے ہٹ گئے،شاہد خٹک
🚨روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کیسے کیا جائے گا؟
خاور گھمن نے کہا کہ اتنی اہم پریس کانفرنس ہوئی، مگر اس میں کسی صحافی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ایسے افراد کو بٹھایا گیا جن کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کون ہیں۔
جس پر حسن نے کہا کہ ممکن ہے وہ کمپنی کے ملازمین ہوں، لیکن صحافیوں کو ضرور بلانا چاہیے تھا، کیونکہ ان کے سوالات سے بہت سی باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین درست فیصلہ نہیں، کیونکہ اس سے عوام غیر یقینی کا شکار ہوں گے۔ بہت سے لوگوں نے تو اسی وجہ سے اپنی گاڑیاں بھی کھڑی کر دی ہیں۔
کیا اب مولانا کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہو گا یا پھر کوئی مدرسہ کی زمیں کا کیس نیب میں فائل کیا جاے گا؟ NCCIA کا نوٹس نکلے گا یا پھر انکے کسی بھانجے کو فوجی عدالت سے سزا سنائی جاے گی؟
کیا انکی جماعت کو کسی قاضی سے بین کروایا جاے گا یا پھر پھر انکی کابینہ کے لوگوں کی قطار در قطار پریس کانفرنسز ہونگی جس میں وہ مولانا سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟؟
ویسے سوال سارے ہی غور طلب ہیں @OfficialDGISPR
اپوزیشن کا کام آواز اٹھانا ہوتا ہے، میں تحریک انصاف کو جمہوری پارٹی مانتا ہوں، کیونکہ عوام نے ان کو ووٹ دیا ہے، آج قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان تقریر کرتے ہیں مگر قومی اسمبلی میں اُن کی تقریر کو بلیک آؤٹ کر دیا جاتا ہے، تو مجھے بتائیں نا آپ تحریک انصاف کو جلسے کرنے دیتے ہیں، نا مولانا کی تقریر قوم تک پہنچتی ہے تو پھر اپوزیشن کی آواز قوم تک کیسے پہنچے گی؟ حافظ حمد اللہ
میرے کپتان والے منسور کو ایٽار رانا نے آج ٹھیک سمجھایا ہے کہ
میرے کپتان میرے کپتان صرف کہنے سے نھیں بنتا ،
اس کے لیے ایٽار رانا کی طرح زمینی حقائق بھی پہلے تسلیم اورپھر ہمت کر کے منہ سے اٽر انداز ہونے والے فورم سے بولنے پڑتے ہیں!!!
لیکن خیر منسور جیسوں کا تو ایک ہی نعرہ رہے گا پھر بھی کہ
ہاۓ منافقت ، تیرا ہی آسرا
مریم نواز بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جاہل بھی ہے
اس ویڈیو میں آپ دیکھیں کے ایک طرف مریم نواز اعلان کررہی ہے کہ " طلباء کو 1 لاکھ Free الیکٹرک بائیکس " دی جائیں گی
یہ جملہ بول کر پورے حال سے تالیاں بٹور کر اگلے ہی لمحے بتا دیا کہ " Free کا مطلب 15000 ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ ماہانہ قسط ہوگی " 😂
ایک وفاقی وزیر ہیں، لاہور میں ان کی ایک سوسائیٹی بھی ہے، ایک چینل کے مالک بھی ہیں۔ اپنی سوسائیٹی آتے ہیں۔ واپسی پر لاہور ملتان نیشنل ہائی وے پر ساری ٹریفک رکوا لی جاتی ہے۔ پولیس اہلکار نہیں، بلکہ سوسائیٹی کے اپنے گارڈز ہی ٹریفک رکواتے ہیں۔ سنا تھا پنجاب میں گارڈ کلچر ختم ہو چکا
یہ وہی مداری ہیں جنہیں جب راولپنڈی کے جی ایچ کیو سے ڈگڈگی بجائی جاتی ہے تو یہ سرکس کے جوکروں کی طرح میدان میں آ کر اپنا تماشا شروع کر دیتے ہیں۔ آج مولانا کا یہ نیا “ڈانس” بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کی توجہ عمران خان سے ہٹا دی جائے، مگر سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ عمران خان کے بیانیے کو زندہ رکھیں تاکہ عوام حقیقت نہ بھولیں۔
مہنگائی کے دور میں یہی لوگ “مہنگائی، مہنگائی” کا شور مچاتے تھے، مگر اقتدار میں آتے ہی مہنگائی دگنی اور تگنی ہو گئی۔ اب نہ وہ شور سنائی دیتا ہے، نہ ہی بکاؤ صحافیوں کی زبان کھلتی ہے۔ البتہ اس مسلط نظام میں صرف ایک شخص ہے جو ٹوٹ نہیں رہا بک نہیں رہا اور وہ ہے عمران خان اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔
عمران خان ہمارے لیے اسٹینڈ لے کر جیل میں قیدِ تنہائی میں ہے، اور اس کی بہنیں اپنے بھائی کے لئے نکلتی ہیں،
اس ملک میں بھٹو کو پچاس سال بعد انصاف ملا، نسلا ٹاور والے لوگ مر گئے انہیں تین سال بعد انصاف ملا، آج ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ غلط تھا، سائرہ بانو
فوج نے ڈالروں کے عوض روس کے خلاف جنگ لڑی امریکہ نے پیسے آفر کیے تو ہم نے کہا کہ یہ تو peanuts🥜ہیں پھر انہوں نے ہماری زیادہ بولی لگائی تو ہم روس کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے ! وزیر دفاع خواجہ آصف ۔۔
یہ میں نہیں کہہ رہا وزیر دفاع کہہ رہا ہے کہ فوجی کرائے کے ٹٹو ہیں ، کراؤ پرچہ ۔۔
مولانا صاحب آپ اپنے ضمیر کا ایکسرے کریں آپ نے فوج کے بارے میں یہ بات کیسے کہی ! عون چوہدری
عون چوہدری کو ضمیر کے ایکسرے کی بھی ضرورت نہیں اس کا تو ضمیر ہے ہی نہیں ، فوج اگر واقعی شہادت کے جذبے سے سرشار ہے تو عاصم منیر اپنے بھتیجے کو سول سروس میں کیوں لایا ؟ بھیجو اس کو بلوچستان