شہر سے باہر کی وِیرانی بسانا تھی مُجھے
اپنی تنہائی پہ کُچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا
اپنی آنکھیں دَفن کرنا تھیں غُبارِ خاک م��یں
یہ سِتم بھی ہم پہ زیرِ آسماں ہونا ہی تھا
بے صدا بستی کی رَسمیں تھیں یہی مُحسنؔ مِرے
مَیں زُباں رکھتا تھا مُجھ کو بے زُباں ہونا ہی تھا
اَب کے بارِش میں تو یہ کارِ زَیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بَستِیوں کو بے نِشاں ہونا ہی تھا
کِس کے بس میں تھا ہَوا کی وَحشتوں کو روکنا
برگِ گُل کو خاک، شُعلے کو دُھواں ہونا ہی تھا
مُجھ کو رُکنا تھا اُسے جانا تھا اگلے موڑ تک
فَیصلہ یہ اُس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا