The capital police on Thursday arrested PTI-affiliated lawyer Mustafain Kazmi from his house. Later he was brutally beaten in police custody now in hospital.
قوم کی جانب سے انتخابات میں تاریخی مقابلے، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو عام انتخابات 2024 میں بے مثال کامیابی میسرآئی،کے بعد چیئرمین عمران خان کا(مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ) فاتحانہ خطاب
ووٹ ضرور دیں تبدیلی ووٹ سے۔۔
جو بھی شہری ووٹ والے دن پولنگ سٹیشن تک نہیں جاسکتا اسے مہنگائی اور دھاندلی کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں سوشل میڈیا پر مفکر بننے سے بہتر 8 فروری کو باہر نکلیں۔۔
”میرے پاکستانیو، اگلے تین دن آپ نے اپنے رشتے داروں اور محلے داروں تک میرے امیدواروں کے نام اور ان کے انتخابی نشان پہنچانے کی ذمہ دادی لینی ہے“
3rd authorised AI Generated Voice message of Founding Chairman PTI Imran Khan
عام انتخابات کے حوالے سے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام :
فروری 8 آزادی اور غلامی میں فرق کا دن ہے،
مجھے یقین اور اعتماد ہے کہ میری قوم آزادی کے ساتھ کھڑی ہے، اپنے ووٹ سے پاکستان کی آزادی کو محفوظ بنائے گی،
قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والا گروہ 8 فروری کو انتخاب پر ڈاکہ ڈال کر قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے،
قوم کو غلام بنائے رکھنے کیلئے لندن منصوبے کے تحت ایک سرٹیفائیڈ مجرم کو انصاف کا قتل کرکے وطن واپس لایا گیا ہے،
اس سرٹیفائیڈ مجرم کو عوام کی مرضی کے برعکس ملک پر مسلّط کرنے کیلئے ��دل کے نظام کو تباہ و برباد اور آئین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،
سیاست کے ریلو کٹّے کو میچ جتوانے کیلئے بلّے کا نشان چھین کر اکیلے میدان میں اتارا گیا ہے مگر اس کے باوجود بدترین دھاندلی کی کوششیں کی جارہی ہیں،
میری قوم خصوصاً ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور میرے کارکنان نے ہمّت اور دلیری سے ظلم کا مقابلہ کرکے میرا سر فخر سے بلند کیا ہے،
جیل میں بیٹھ کر اللہ کے فضل اور اپنی قوم کی مدد سے ان سارے مجرموں کو آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے شکست دوں گا،
رائے عامہ کے تمام آزاد اندازے تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت اور تین چوتھائی جیسی تاریخی اکثریت سے انتخاب کے اشارے دے رہے ہیں،
قوم آزادی کا انتخاب کرکے تحریک انصاف کو قانون کی حکمرانی، دستور کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کا مینڈیٹ دینا چاہتی ہے،
دستور مخالف قوتیں 8 فروری کا انتخاب لوٹ کر قوم کو غلام رکھنے میں کامیاب ہوئیں تو چور اُچکّے راج کریں گے اور ملک کی کشتی مزید بھنور میں اترے گی،
ظلم اور جبر سے ملک کو لاقانونیت کی راہ پر ڈالنے والوں سے اپنے ووٹ کی طاقت سے حساب لینا ہوگا،
دھونس اور دھاندلی کی بےپناہ ریاستی کوششوں کے باوجود عوام کو 8 فروری کو نکل کر آزادی اور غلامی میں سے کسی ایک کا فیصلہ کن انداز میں تعیّن کرنا ہوگا،
چاہتا ہوں میری قوم کا ہر فرد تیاری کرے اور اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان کو دستور و قانون کی راہ پر ڈالنے کیلئے 8 فروری کو ووٹ ڈالے اور اپنے ووٹ کی حفاظت یقینی بنائے-
پی ٹی آئی کراچی مجھے آپ کی مدد کی ضرور�� ہے۔ پولیس نے مہیسر ہاؤس، کراچی ایسٹ کا محاصرہ کر لیا ہے جہاں ہم رات 9.30 بجے ایک تقریب منعقد کر رہے ہیں۔ تمام سپورٹرز سے الآصف ایکوائر مین چورنگی پر پہنچنے کی درخواست ہے۔ وہاں سے ہم کنونشن
Since a “farcical” vote of no confidence in 2022, @ImranKhanPTI argues in a guest essay that Pakistan’s establishment “is not prepared to provide any playing field at all, let alone a level one” for his party https://t.co/sL5n7V3XqQ
پی ٹی آئی کیا کیا چیزیں دستاویزی شکل میں جاری نہیں کر سکی،
1.کس کس ڈی سی اور اے سی کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟
(کیونکہ ڈی سی اور اے سی بطور آر او اور اسسٹنٹ آر او لگائے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے مطابق ان سب کو کچھ عرصہ پہلے چینج کیا گیا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں، پی ٹی آئی کو تحریری رپورٹ شائع کرنی چاہیے تھی کہ الیکشن کمیشن نے کیسے جھوٹ بولا )
2.کس ریٹرنگ آفیسر نے بطور ڈی سی کتنے ایم پی او جاری کیے؟
(یہ تحریری طور پر جاری کرنے سے موقف درست ثابت ہوتا کہ انتہائی جانبدار بیوروکریٹس کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے )
3.الیکشن کمیشن میں کتنی شکایات درج کیں؟
(الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ صرف 47 شکایات آئی ہیں، پی ٹی آئی نے تحریری طور پر کچھ جاری نہیں کیا کہ کتنی شکایات دائر کی ہیں )
4.کتنے ایسے کیسز عدالتوں میں گئے جہاں آر او کاغذات نامزدگی جمع نہیں کررہے تھے اور عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی
5.کتنے آر اوز کے خلاف الیکشن کمیشن کو تحریری درخواستیں دیں؟
6.ویڈیوز ایک جگہ کرکے سپریم کورٹ جمع نہیں کرائی گئیں کہ آر اوز کے دفاتر کے باہر اور اندر کیا ہورہا ہے
7.قاضی فائز عیسٰی صاحب نے جس کیس میں آر اوز کو بحال کیا، وہ کیس pending ہے، اس میں تمام ایشوز درخواست کی صورت میں دائر کیے جا سکتے تھے اور قاضی فائز عیسٰی صاحب کو بتایا جا سکتا تھا کہ آپ کے بحال کیے گئے ہیرے آر اوز یہ کھلواڑ کررہے ہیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا
8.جمعرات اور جمعہ کو سپریم کورٹ کا بنچ نہیں تھا لیکن دونوں دن جلدی سماعت کی تحریری درخواست دائر نہیں کی گئی کیونکہ قاضی فائز عیسٰی صاحب چڑھائی کرتے ہیں کہ اگر اتنا ارجنٹ معاملہ تھا تو آپ نے جلدی سماعت کی درخواست کیوں نہ دی؟؟
9.الیکشن کمیشن نے اس سماعت میں کیا کیا جھوٹ بولے؟ یہ تحریری طور پر جاری نہیں کیا گیا
10. کل کتنے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں اور کتنے تائید و تجویزکنندہ کو اٹھ��یا گیا، اس پر دیکھتے ہیں کہ کل تک کوئی رپورٹ جاری ہوتی ہے یا نہیں.
عدالتوں میں تحریری رپورٹس اور درخواستوں سے ہی کام چلتا ہے، سوشل میڈیا پر کی گئی ٹویٹس سے نہیں،. ویسے تو عدالتوں کو سب پتا ہوتا ہے لیکن قاضی فائز عیسٰی صاحب پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسے شو کراتے ہیں جیسے انہیں تو کچھ پتا ہی نہیں، اس لیے ان کو تحریری طور پر آگاہ کرکے ایکسپوز کرنا ضروری ہے کہ آپ کے ہیرے یہ کرتوت کررہے ہیں
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اپنے اہلِ خانہ کے ذریعے 24 اکتوبر 2023 کو قوم کے نام بھجوایا گیا پیغام
میرے پاکستانیو!
گزشتہ چند روز کے دوران ہم نے اپنی آنکھوں سے قانون کو ایک مذاق بنتے دیکھا۔
جو کچھ ہماری نگاہوں کے سامنے ہورہا ہے وہ ایک لندن منصوبے کا ہی شاخسانہ نہیں بلکہ ایک ���لندن معاہدے“ کا نتیجہ ہے جو ایک بزدل بھگوڑے اور کرپٹ مجرم اور اس کے سہولت کاروں کے مابین طے پایا۔
معافی کا پروانہ ہاتھ میں تھما کر عدالتوں سے سزا یافتہ ایک مجرم کی پھر سے سیاست میں واپسی کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ ریاستی اداروں کو تباہی کے گھاٹ اتارا جائے۔ چنانچہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے نظامِ انصاف کا مکمل انہدام اور تباہی ہے۔
میرے پاکستانیو!
ہمیشہ یاد رکھو کہ میرے خلاف جتنے بھی مقدمات ہیں وہ مکمل طور پر جعلی، من گھڑت اور سراسر سیاسی اہداف کے تحت قائم کئے گئے ہیں تاکہ مجھے انتخابات کے بعد تک جیل میں رکھ سکیں یا اگر اس سے بھی ان کا جی نہ بھرے تو انتخابات بھی لمبے عرصے تک مجھے قیدی ��نائے رکھیں۔
تاہم میری قوم میں بڑھتا ہوا شعور اور بند کمروں میں تیار کی جانے والی سازشوں کیخلاف زور پکڑتی مزاحمت انہیں خوفزدہ کرتی ہے۔
فی الوقت جسمانی لحاظ سے میں ٹھیک ٹھاک (فِٹ) ہوں۔ اگر میرے جسم پر کسی قسم کا ضُعف یا کمزوری طاری ہوتی تو مجھے اس کا احساس ہوجاتا۔ مگر یہ پہلے ہی دو مرتبہ دن دیہاڑے میری جان لینے کی کوشش کرچکے ہیں۔
چونکہ میں اپنا ملک چھوڑ کر جانے پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گا چنانچہ اس بات کا قوّی امکان ہے کہ یہ جیل میں میری جان لینے کی ایک اور کوشش کریں۔ یہ کوشش مجھے آہستہ آہستہ زہر دینے (سلو پوائزننگ) کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔
ہماری جدّوجہد اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ آپ کو اپنے حقوق اور اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی خود سے لڑنی پڑے گی۔ میں نے اپنے وکلاء اور تنظیمی ذمہ داران کو ہدایات بھجوا دی ہیں کہ ملک بھر میں کنونشنز منعقد کئے جائیں اور ج�� بھی انتخابات کا موقع آئے اس کے لئے بھرپور انتخابی مہم چلائی جائے۔