@farzanaalispark تاریک انصاف نے ہی دہشتگردوں کی آبادکاری والے پراجکٹ کو لانچ کیا تھا۔ اے این پی اور قومپرست جماعتوں کے علاوہ کسی نے بھی اس جرم کے خلاف آواز بلند نہی کی۔ اب بھی کسی کو شک ہے کہ پی ٹی آئی کس کی پراجکٹ ہیں تو انکو گنڈاپور اور سیف کیا لگتے ہیں؟
یہ ایک انتہائی بے غیرت اور بے شرم شخص ہے، جس کا نام رضوان راضی ہے۔ یوٹیوب پر "راضی نامہ" کے نام سے پروگرام کرتا ہے۔ یہ شخص پختون دشمن ہے اور پختونوں کو ’’افغان گانڈو‘‘ کے نام سے پکارتا ہے۔ یہ شخص منظور پشتون کو بس کنڈکٹر کہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پختون دھماکے خود کرتے ہیں۔ اس وڈیو کو پختون اتنا شیئر کردیں، تاکہ اس کو اپنی نانی یاد آجائے۔ تمام پختون یوٹیوب پر اس شخص کے چینل کو اتنا رپورٹ کریں کہ اس کا چینل ہی بند ہو جائے۔
کائرہ صاحب سنجیدہ سیاست دان ہیں۔ انکو ضرور علم ہوگا کہ پنجاب میں بھی بہت بڑی آبادی سرائیکی اور پھوٹوہاری ہے پھر پنجاب کے ساتھ بھی کوئی اصطلاح جوڑ دی جائے، یہی حال سندھ اور بلوچستان کا بھی ہے۔ صوبوں کو ثقافتی، لسانی اور تاریخی بنیادوں پر تشکیل دیا جانا چاہئے۔ پختونخوا کے ہزارہ کی اکثریتی آبادی تاریخی، ثقافتی اور نسلی لحاظ سے پشتون ہی ہیں۔ دو ضلعے تو نسلی لحاظ سے بھی پشتون ہیں۔ دو اور ضلعوں میں آدھی آبادی نسلی پشتون ہیں۔ اے این پی کی نظر میں پشتون صرف نسلی یا لسانی اکائی نہیں بلکہ سیاسی اکائی بھی ہے۔ اے این پی تکثیریت پر یقین رلھتی ہے اسلئے اپنے دور حکومت میں پشتو کے ساتھ ساتھ ہندکو، سرائیکی، کھوار اور توروالی کو بھی نصاب میں لازمی مضمون کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا۔
ڈاکٹر شاہنواز شہید کی بیٹی کا کہنا ہے کہ خلیل کنبھر،DIG ، SSP اور SHO پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے۔
اس بچی کا مطالبہ سو فیصد درست ہے اور پولیس افسران کی 120 دن کی معطلی کافی نہیں ہے بلکہ ان چار افراد پر قتل کا مقدمہ درج کرکے فوری گرفتار کیا جائے اور انصاف ھوتا نظر آنا چاہیے
جمہوریت اور آئین کی فائر وال نے آمریت کے وائرس سے کاروباری معاہدہ کر لیا
جی ہاں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن نے فوج کے ذیلی ادارے ڈی ایچ اے کیساتھ کاروباری مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کر دئیے ہیں۔ اِس ویڈیو میں ڈی ایچ اے کے ایک بریگیڈئیر سیکریٹری اور ایک ریٹائرڈ کپتان کی سربراہی میں قائم FGEHA کی ایک نمائندہ نے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سیکریٹری کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئیے جسکے تحت DHA اسلام آباد میں وکلا کی رہائشی منصوبے کے کمرشل پلاٹوں کے عوض اُنکے رہائشی منصوبے کی ڈیویلپمنٹ کریگا۔
یہ ویڈیو صرف ایک معاہدے کی ویڈیو نہیں بلکہ جنرل مشرف کیخلاف وکلا تحریک چلانے والی سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے منہ پر ایک تھپڑ ہے، اِس ویڈیو میں آئی ایس پی آر کی مدد سے بنائی گئی اُس فلم کا گانا لگایا گیا ہے جس کو آشر عظیم نے پروڈیوس کیا تھا (پھر ملک چھوڑ کر چلے گئے) اور اُس فلم میں سیاستدانوں کیخلاف گھناؤنے پراپیگنڈے پر نوز شریف کی حکومت نے ۲۰۱۷ میں پابندی لگائی گئی تھی۔ اِس فلم کے ایک سین میں سندھ کا ایک چیف منسٹر سی ایم ہاؤس میں ایک لڑکی کا ریپ کرتے دکھایا گیا اور پس منظر میں دیوار پر بظاہر بے نظیر بھٹو کی تصویر بھی لگی دکھائی گئی تھی جس پر سب سے پہلے سندھ حکومت نے اس فلم کو سندھ میں بین کیا تھا، اس ویڈیو کے پس منظر میں جو گانا ہے “تم اپنے نظریے پاس رکھو ۰۰۰ ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں" بظاہر آمریت کے وائرس کا جمہوریت کی فائر وال کو ایک پیغام اور زوردار طمانچہ ہے۔ جنرل مشرف کیخلاف کامیاب تحریک سے دنیا میں عزت کمانے والے کالے کوٹ آج پلاٹوں کی لالچ میں کالے بوٹ چمکانے کے لئیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان وکلا کے معائدے کی تقریب میں تین وزرأ وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ پیچھے کھڑے تالیاں بجا رہے ہیں اور بقول مریم نواز کے یہ حکومت بھی نواز شریف کی ہے۔
کالے کوٹوں اور کالے بوٹوں میں کاروباری شراکت داری متعلق نئے انکشافات سے بھرپور ایک انٹرویو دیکھیں ایم جے پر اگلے بیس منٹ میں۔
جماعت اسلامی کا دھرنا مہنگی بجلی اور آئی پی پیز معاہدوں کے خلاف ہے لیکن حافظ نعیم صاحب تقاریر قومپرستی کے خلاف کررہے ہیں۔ کراچی کا رہائشی کو وزیرستان اور باجوڑ میں لگی آگ کا کیا علم ہے؟ اس آگ کو لگانے میں ماضی میں انکا کافی کردار بھی رہا ہے۔ اپنی ہی پارٹی کے اس شخص کو بھی سٹیج نہیں دیا جارہا ہے جو اس آگ اور پختونوں کے قتل عام اور درپیش مسائل کی مذمت کرتا ہے۔ عوام کو وفاق اور اسکے دستور پر اکھٹا کرنا ہوگا۔ ہر شہری کو اسکا حق اور اختیار ملے گا اور یہ آئین میں ریاست مان چکی ہے۔ ہم یہ سوال اٹھاتے رہیں گے کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں جو بیانیہ ہے اصل مسئلہ اس میں ہے۔
صوبائی حکومت کا باچا خان گریٹر ایجوکیشنل کمپلیکس کی زمین بیچنےکا فیصلہ/ عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے ترجمان ارسلان خان ناظم کا ردعمل:
🟥باچا خان گریٹر ایجوکیشنل کمپلیکس کی زمین بیچنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، ارسلان خان ناظم
🟥تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عملی طور پر تعلیم دشمنی پر اتر آئی ہے
🟥یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صوبے کے تعلیمی اداروں کیلئے فنڈز کا انتظام کریں
🟥پچھلے 11 سال سے صوبائی حکومت اس معاملے سے غافل کیوں رہی تھی؟
🟥عدالتی فیصلے کا رونا رونے والے پچھلے ایک دہائی سے صوبے پر مسلط ہیں
🟥اتنے عرصے میں صوبائی حکومت اراضی کیلئے پیسوں کا انتظام کیوں نہ کرسکی؟
@ArsalanKNazim
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
Urgent attention!
Currently, the Pakistani Army and FC have launched another brutal and violent attack on the peaceful Baloch National Gathering sit-in in Gwadar.
Surrounding the sit-in from all sides, they have indiscriminately fired upon peaceful protesters and subjected them to severe violence, resulting in multiple injuries and the arrest of hundreds.
At this moment, the Pakistani state is committing extreme oppression and tyranny against peaceful protesters in Gwadar. The entire city has been held hostage at gunpoint by the Pakistani military. We are not being allowed to evacuate the injured, nor are ambulances being given passage.
Now, the scenes in Gwadar are nothing short of apocalyptic!
I urge you all to immediately write to human rights organizations, journalists, and anyone concerned with human rights, as thousands of lives are currently at extreme risk in Gwadar.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
صوبے کے 26 جامعات پچھلے ایک سال سے وائس چانسلرز سے محروم ہیں اور متعدد کے پاس اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں دینے کےلیے فنڈز نہیں۔ جامعات شدید مالی و انتظامی بحران سے گزر رہی ہیں۔ اس کا حل صوبائی حکومت نے جامعات کی زمینوں کو نیلام کر کے نکال رہی ہے۔
#SaveBachaKhanEducationComplex
پختون قوم اور سرزمین کا سب سے اہم مسئلہ بدامنی ہے، اگر کوئی یہ کہتا کہ بدامنی پوری ریاست یا پورے ملک کا مسئلہ ہے تو یہ جھوٹ ہے۔ پچھلے ایک سال کا ریکارڈ نکالا جائے، 99 فیصد بدامنی کے واقعات پختونخوا میں ہوئے ہیں۔ ہم اس پر ہرگز خوش نہیں ہوتے کہ دوسرے صوبوں میں اسطرح کے واقعات ہوں، بلکہ ہمیں یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ مسلسل بدامنی صرف پختونخوا میں کیوں ہے؟ بدامنی کی وجہ سے ہماری معیشت تباہ ہوگئی ہے، یہاں سے سرمایہ دار اور کارخانہ دار پنجاب اور دوسرے محفوظ صوبوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ جو سرمایہ کار یہاں باقی ہیں انکو بھی مختلف طریقوں تنگ کیا جارہا ہے، ان سے بھتوں کے مطالبے ہورہے ہیں۔ عوام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔
نثار باز
رکن پختونخوا اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
بلوچستان کی اکیسویں صدی کی بانڑی۔ گہرے ذاتی زخم کھانے کے باوجود خود کو مظلومیت کے خول میں بند کرنے کی بجائے مزاحمتکار اور مزاحمت کی سالار بننے والی ڈاکٹر ماہ رنگ انسانی سماج کے امراض کی سپیشلسٹ ہیں۔ ان کے تشخیص کردہ امراض میں خطرناک ترین مرض غلامی ہے جس کا علاج سیاسی مزاحمت ہے۔
حکومت وقت سے اپیل کرتا ہوں گہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے اور عمران کو قید کرنے جیسے ایشوز سے نکل آئے۔ اپوزيشن سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ قیدی نمبر 804 کی سیاست چھوڑ دیں۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت اور اپوزيشن سمیت تمام سیاسی جماعتیں انفرادی اور اشخاص سے جڑی سیاست سے بالاتر ہوکر قوم کو درپیش معاشی اور دہشتگردی کے مسائل پر توجہ دیں۔ ہمیں عوام کے مسائل کیلئے بات کرنی چاہیئے، اے این پی اس سلسلے میں عنقریب ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔ کانفرنس میں پاکستان کی تمام مختلف مکتبہ فکر کی سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
بنوں میں دہشتگردی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی پر حملہ پشتون نسل کشی کا تسلسل ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ عجیب ریاست ہے، لوگ امن مانگنے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ریاست ان کا قتل عام کرتی ہے۔
یہی صورتحال بلوچستان میں ہے۔ بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قومی اجتماع کا انعقاد کرنے جارہی ہے، لیکن ریاست قومی اجتماع کو روکنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کا استعمال کررہی ہے اور انتہائی پرتشدد رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یہ بلوچستان اور پختونخواہ کی صورتحال ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ریاستی ظلم اور جبر کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ ریاست بلوچ اور پشتون نسل کشی ختم کرنے کے بجائے پرامن اجتماعوں پر حملے کررہی ہے، لیکن نام نہاد مین اسٹریم میڈیا، صحافی، اور سیاستدان مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی ریاست کی طرح صرف بلوچستان اور پختونخواہ کے وسائل نظر آتے ہیں جبکہ ہونے والی ظلم اور بربریت پر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
میں بلوچ اور پشتون قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا کریں۔ ہم مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اپنی سرزمین سے اس ظلم اور بربریت کا خاتمہ کریں گے۔
#StopStateTerrorism
#StopPasthunGenocide
جرنیل گریسی کی باقیات تمہیں عوامی طاقت کے آگے سرنڈر ہونا پڑے گا ورنہ یہ تمہیں بہا لے جاٸےگا
بنوں میں عوامی طاقت کا زبردست مظاہرہ ٠ فاششٹ ریاستی اداروں کی طرف سے عوام پر سیدھی گولیاں چلاٸی گٸ جو انتہاٸی شرمناک عمل ہے
#StopStateTerrorism#SupportBannuResistance#بنوں_اولسی_پاسون
خیبر پختونخوا بار کونسل نے بنوں میں امن کی خاطر نکلے ہویے نہتے اور پرامن عوام پر سیکیورٹی اداروں کی طرف سے گولیاں برسانے کے خلاف کل بروز ہفتہ صوبہ بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ تمام بار ایسوسی ایشن بنوں واقعے کے خلاف زبردست احتجاج کریں گے
#StateAttackedBannuPeaceMarch
تاریخ گواہ رہے کہ بنوں کی غیور عوام آج جب ہزاروں کی تعداد میں امن کے لیے اور ریاست کی طالبان سے منسلک دوغلی پالیسی کے خلاف نکلے تو ریاست نے ان کا استقبال گولیوں سے کیا
اٹک کی اُس پار پالیسی کچھ اور ہے - وہاں فیض آباد میں دھرنوں کے شُرقہ کو پیسے بانٹے جاتے ہیں - اٹک کے اس پار اپنی ہی مٹی پہ امن کے خواہشمند افراد کو گولیاں ماری جاتی ہیں ۔
وطن کی مٹی، گواہ رہنا
اگر علی امین غنڈا پور میں غیرت ہے اور واقعی پاکستانی دھشتگرد قاتل فوج کا ٹاؤٹ نہیں بلکہ عوام کا وزیراعلی ہے تو آج بنوں میں بےگناہ پشتونوں کا خون بہانے پر عاصم منیر اور بنوں کینٹ کمانڈر کے خلاف مقدمہ درج کرے
#StateAttackedBannuPeaceMarch
بنوں امن مارچ کے شرکاء پر براہ راست فائرنگ شرمناک ہے۔ یہ انسانیت سوز عمل ثبوت ہے کہ ریاست امن کی بجائے شدت پسندی کے ساتھ کھڑی ہے۔ دنیا کا کونسا قانون اور مذہب اس طرح کے عمل کی اجازت دیتا ہے؟ کیا پختونوں کا امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ جرم اور اپنے تحفظ کیلئے آواز اٹھانا گناہ بن گیا ہے؟ فیض آباد میں پرتشدد مظاہرے ہوتے ہیں، شرکاء کو انعام میں کھڑک دار نوٹ ملتے ہیں، پرامن اور نہتے پختون امن کیلئے نکلتے ہیں تو انکو تحفے میں گولیاں دی جاتی ہیں۔ یہ ہے وہ دو قومی نظریہ جسکی ہم مخالفت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی بنوں میں نہتے اور پرامن عوام پرفائرنگ کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ یہ ناروا عمل عوام کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش ہے۔ فائرنگ کن کے حکم پر کس نے کرائی، تحقیقات کرا کر سازش میں ملوث تمام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی بنوں امن مارچ کے شرکاء کے ساتھ کھڑی ہے۔
مېژه بني ګل شې امن غوړي!
مېژه ګرده پشتینخو شې امن غوړي!
#بنو_پاڅون
#پښتونخوا
#امن
This is the ultimate result of systematic depoliticisation and securitisation on campuses. When all avenues for dialogue, debate and entertainment are closed, the young minds resort to violence.