عالمی عدالت اور اقوام متحدہ میں آواز اٹھاو۔ کیونکہ پاکستان میں عوام مخلاف بندوق کے زور پر امپورٹڈ رجیم قابض ہے۔2022سےپاکستان کا بیڑہ غرق شروع ہے۔عدالتیں بھی یرغمال ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پرگلی محلوں سے قومی سطح پر ہروہ شخص جو پاکستان زندہ باد کو لیڈ کرتا ہے۔وہ اغواء ہوجاتاہے۔
اعلامیہ
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا ایک سربراہی اجلاس برخانہ محمود خان اچکزئی چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان منعقد ہوا،
اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ؛ سردار اختر جان مینگل سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی؛ بیرسٹر گوہر خان قائم مقام چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف؛ سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی؛ صاحبزادہ حسن رضا قائم مقام چیئرمین سنی اتحاد کونسل؛ سید زین شاہ سربراہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی؛ سینیٹر مشتاق احمد خان سربراہ پاکستان رائٹس موومنٹ؛ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر وائس چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان؛ محمد زبیر معاشی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان؛ ساجد خان ترین سینئر نائب صدر بلوچستان نیشنل پارٹی؛ عمار علی جان سیکرٹری جنرل حقوق خلق پارٹی ، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان؛ اور خالد یوسف چوہدری،ل لیگل کونسل بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان، شریک ہوئے۔
اجلاس میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ سے ملک کی پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال اور خیبر پختونخواہ کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت مذمت کی گئی ۔ گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ اور شب خون قرار دیا گیا۔ الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو فوری واپس لیا جائے۔ یہ اقدام صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ تمام صوبوں کے عوام کی توہین ہے، جس کے خلاف الائنس میں شامل جماعتیں پشاور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کریں گی۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی ، ریاست کی عوام پر دہشت گردی ، ریاستی اداروں کی سیاسی جماعتوں پر دہشت گردی ، کسی فرقہ کی دوسرے فرقہ پر دہشت گردی ، کی مذمت کرتی ہے اور نیشنل ایکشن پلان کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ نئی پالیسیاں اپنانے کے بجائے خیبر پختونخواہ اسمبلی سے منظور شدہ امن جرگہ کی مشترکہ قرارداد پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
شرکاء نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی، سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور تمام گرفتار اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی و رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین عمران خان کی بہنوں کی رہائی، عمران خان سے ملاقات اور ان تک ان کے ڈاکٹروں کی رسائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے بعد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات بند کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جاتی اور ان کی صحت کی معلومات نہیں مل جاتی، تب تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور مذاکرات کے تمام اختیارات صرف محمود خان اچکزئی کے پاس ہوں گے۔
بلوچستان میں خراب امن و امان کی وجہ وہاں کی غیر نمائندہ حکومت و وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیاں ہیں، جو عوام کے حقیقی ووٹوں سے قائم نہیں ہوئی۔بلوچستان کے معاملات طاقت سے نہیں بلکہ وہاں کے عوام سے مذاکرات سے حل کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
شرکاء نے ایمان مزاری ، ان کے شوہر ہادی چھٹہ ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام سیاسی قیدی رہا کئے جائیں۔
ملک میں عدلیہ کی آزادی کی محدود کرنے اور میڈیا پر پابندیوں کے بعد تحریک تحفظ آئین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے حالات ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آئین شکنی سے دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے رابطہ کرے گی۔
آزاد کشمیر جیسے حساس خطے کی بگڑتی صورتحال پر شرکاء نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام پر ایک جعلی نظام مسلط کیا گیا ہے اور عوام کو پانچ ماہ انٹرنیٹ اور بنیادی ضروریات سے محروم رکھ کہ دہشت گردی کی جا رہی ہے۔ جس کی مذمت کی جاتی ہے۔
پاکستان اس جعلی نظام اور حکومت کے بوجھ تلے دبا سسک رہا ہے اور عوام مہنگائی ، روزگار، بنیادی ضروریات سے محرومی اور زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم رکھی جا رہی ہے۔ جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں کے لئے اربوں کے مہنگے جہازوں میں عوام کا ٹیکس ضائع کر رہے ہیں۔
حسین احمد یوسفزئی:
ترجمان، تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان
@Real_MZubair عالمی عدالت اور اقوام متحدہ میں آواز اٹھاو۔ کیونکہ پاکستان میں عوام مخلاف بندوق کے زور پر امپورٹڈ رجیم قابض ہے۔2022سےپاکستان کا بیڑہ غرق شروع ہے۔عدالتیں بھی یرغمال ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پرگلی محلوں سے قومی سطح پر ہروہ شخص جو پاکستان زندہ باد کو لیڈ کرتا ہے۔وہ اغواء ہوجاتاہے۔
@GFarooqi کیونکہ جب عمران خان تھا تو سب ٹھیک تھا۔ پاکستان خوشحالی کی طرف گامزن تھا۔ اب2022 سے بیڑہ غرق شروع ہو چکا ہے۔
عوام سچ جانتے ہیں
عمران خآن زندہ باد
@AhmedMansorReal پنجاب میں نلیگ ساٹھ سال سے قابض ہے۔ لیکن ان کے گھر لاہور میں پچھلے سال متعدد اسکولوں کی چھتیں گریں۔ لیکن کسی صحافی کی بہن کو نہیں وڑا تھا۔
اب کے پی کی بات ہو رہی تو سب صحافیوں کی ماں کو وڑ چکا ہے
@GFarooqi سب فارم47ہی تو ہیں۔ یہ سارے بہن چود کل کو اخترمینگل اور ڈیزل کی طرح نیک بنیں گے۔ کوئی کہے گا ہمیں اغواء کیا گیا تھا۔ کوئی کہے گا میری ماں کو اٹھا لیا تھا۔ کوئی کہے گا میری بیٹی کو اٹھا لیا تھا۔ کوئی بیوی کا نام لےگا۔ بس اس طرح اپنی اپنی بےغیرتی کو اپنی عورتوں کے پیچھے چھپائیں گے۔
@AzazSyed@MuradSaeedPTI@SohailAfridiISF مراد سعید کی لوکیشن معلوم ہے۔ لیکن 2022سےاب تک کتنے لوگ خودکشیاں کر چکے، سال2026میں کتنی خودکشیاں ہوچکی ہیں۔ کتنی ہونے والی ہیں۔ ان کی لوکیشن بھی اس سائیکو کو معلوم ہیں یا نہیں ؟ بلوچستان میں کتنےپنجابی 5سال میں مارےجاچکے؟لوکیشن معلوم ہے؟خان کےدور میں امن کیسےتھا؟لوکیشن معلوم ہے؟
@fkkundi اب کےپی میں بلوچستان کی طرح کا امن ہوگا۔پنجابی مارےجائیں گے، فورسزکوماراجائےگا۔مسنگ پرسنز اور اغواء میں اضافہ ہوگا۔نوگوایریا بڑھ جائےگا۔آپریشن آپریشن کےنام فنڈ فنڈکھیلاجائےگا۔ہرچیزکونقصان پہنچےگا۔اگرنہیں پہنچےگاتوکےپی سےنکلنےوالی لوڈر ٹرک/گاڑیوں کوآنچ تک نہیں آئےگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا قومی اسمبلی کی کاروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قرارداد پر اظہارِ خیال۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے 11 اکتوبر 2026 کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپوزیشن کے تمام اراکین خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں، اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور اسے کسی صورت منظور نہیں کرتے-
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان تحریک تحفظ ائین پاکستان کی میٹنگ میں شریک
محمود خان اچکزئی ، علامہ راجہ ناصر ، سلمان اکرم راجہ وغیرہ شریک - ملاقات میں خیبر پختونخوا میں گورنر و ایمرجنسی نفاذ اور اس کے بعد کی صورتحال پر غور جاری
@HamidMirPAK@CMShehbaz@PTIofficial اب کےپی میں بلوچستان کی طرح کا امن ہوگا۔پنجابی مارےجائیں گے، فورسزکوماراجائےگا۔مسنگ پرسنز اور اغواء میں اضافہ ہوگا۔نوگوایریا بڑھ جائےگا۔آپریشن آپریشن کےنام فنڈ فنڈکھیلاجائےگا۔ہرچیزکونقصان پہنچےگا۔اگرنہیں پہنچےگاتوکےپی سےنکلنےوالی لوڈر ٹرک/گاڑیوں کوآنچ تک نہیں آئےگی۔
@asmashirazi@FaisalVawdaPAK واوڈا کوسناتویہ کنفرم ہواکہ مقتدرہ اوراس کی پسند آج بھی2007سےپہلےوالی سوچ رکھتےہیں۔جبکہ اب توaiکازمانہ ہے۔پبلک ان سےزیادہ اوران سےپہلےحقیقت سےواقف ہیں۔ان کےگھروں،اداروں کےاندران کیلیے نفرت بڑھ چکی ہےپبلک تواگلی ایک صدر تک مقتدرہ کی پسندکوووٹ نہیں کرےگی۔
@HamidMirPAK اب کےپی میں بلوچستان کی طرح کا امن ہوگا۔پنجابی مارےجائیں گے، فورسزکوماراجائےگا۔مسنگ پرسنز اور اغواء میں اضافہ ہوگا۔نوگوایریا بڑھ جائےگا۔آپریشن آپریشن کےنام فنڈ فنڈکھیلاجائےگا۔ہرچیزکونقصان پہنچےگا۔اگرنہیں پہنچےگاتوکےپی سےنکلنےوالی لوڈر ٹرک/گاڑیوں کوآنچ تک نہیں آئےگی۔
@waqarsatti اب کےپی میں بلوچستان کی طرح کا امن ہوگا۔پنجابی مارےجائیں گے، فورسزکوماراجائےگا۔مسنگ پرسنز اور اغواء میں اضافہ ہوگا۔نوگوایریا بڑھ جائےگا۔آپریشن آپریشن کےنام فنڈ فنڈکھیلاجائےگا۔ہرچیزکونقصان پہنچےگا۔اگرنہیں پہنچےگاتوکےپی سےنکلنےوالی لوڈر ٹرک/گاڑیوں کوآنچ تک نہیں آئےگی۔
@HamidMirPAK پپلزپارٹی اپنی پیدائش سے آج تک آئین دشمن ہی رہی ہے۔ان کےنزدیک آئین صرف وہی ہےجو ان کی چوری کو تحفظ دے۔شریف خاندان تودہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے۔اور مقتدرہ کےنزدیک محب وطن وہی ہےجو ان کی پسندچوری اور چورخاندانوں کی پسند کوتسلیم کرے۔لیکن عوام اب ہاتھ سےنکل چکی ہے۔
@tariqafaq اس بےغیرتی سے پاکستان کےمسائل حل ہوجائیں گے؟ اس یہودی سائفرفارم47رجیم کاہرقدم ان کے اپنے خلاف ایک ثبوت ہےکہ یہ لوگ پاکستان دشمن ہیں۔امن دشمن ہیں۔ خانہ جنگی چاہتے ہیں۔
@HamidMirPAK میرصاحب، آپ کےپروگرام میں واوڈا کوسناتویہ کنفرم ہواکہ مقتدرہ اوراس کی پسند آج بھی2007سےپہلےوالی سوچ رکھتےہیں۔جبکہ اب توaiکازمانہ ہے۔پبلک ان سےزیادہ اوران سےپہلےحقیقت سےواقف ہیں۔ان کےگھروں،اداروں کےاندران کیلیے نفرت بڑھ چکی ہےپبلک تواگلی ایک صدر تک مقتدرہ کی پسندکوووٹ نہیں کرےگی۔
@HamidMirPAK اگر یہ رجیم مزید چار پانچ سال رہ گئی تو ایک اور1971کنفرم ہے۔ اور اگرکسی ایک کو غیرت آگئی تو شاید حالات کچھ کنٹرول ہوجائیں۔ ورنہ یہ نقوی سیٹ اپ سب برباد کردےگا۔ادارے کےاندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔ لوگ اپنےپروٹوکول اور ایس او پیز کی وجہ سےخود پر کنٹرول کرکےبیٹھے ہیں۔