دعویٰ ک��ا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
For your information, I would like to inform you that Allah Almighty has sent us into this world to test us. Satan's followers are present in the world. They are working with Muslims, especially the political pawns of Muslim governments. They create such situations that due to economic hardship and poverty, Muslims turn to Europe and other types of followers of the Antichrist sit on social media and talk such nonsense about Muslims.
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حالیہ پہلی کمی سے پاکستان میں جیٹ فیول (Jet A-1) کی قیمت 56.97 روپے فی لیٹر کم کر دی گئی تھی اس کمی کے بعد نئی قیمت 238.87 روپے فی لیٹر ہوئی جو پہلے یہ قیمت 295.84 روپے فی لیٹر تھی۔اب پھر 7.15 روہے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے اور یوں نئی قیمت 231.72 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے اس کمی کے ساتھ غریبوں کیلئے جہاز کی بزنس کلاس کے کرائے بھی کم کر دیئے گئے ��یں۔جبکہ موٹر سائیکل والا رکشے والا 299 روپے فی لیٹر کے حساب سے پیٹرول خریدے گا۔غریب نے ریلیف لینا ہے تو موٹر-سائیکل اور رکشہ بیچے کر جیٹ لے لے۔
مرضی ہے کیا کر سکتے ہیں؟
ایک سچ اور ہمارا بے حس نظام
کیا اپ جانتے اس شخص کو جسے پاکستان نے ہٹایا دنیا نے Times Square پر سجایا۔
سابق چیئرمین نادرا طارق ملک نے ایک ڈیٹا نکال کر دکھایا تھا جس نے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ وہ انکشاف یہ تھا کہ 20 لاکھ پاکستانی ہر سال بیرونِ ملک جاتے ہیں مگر ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے۔
یہ کوئی اندازہ نہیں تھا یہ سب نادرا کے اپنے ڈیٹا بیس سے نکلا ہوا ڈیٹا تھا جسکی اک ٹھوس حقیقت تھی۔
یہ وہ ڈیٹا تھا جو طاقتوروں کے چہروں سے نقاب اٹھا سکتا تھا اور یہی اس کا جرم بھی ثابت ہوا۔اسکو جانا پڑا
طارق ملک نے نادرا کے تحت پاکستان میں 14 کروڑ 50 لاکھ شہریوں کو رجسٹر کیا جو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا۔
انہوں نے Roshan Digital Accounts کے لیے محفوظ تصدیقی نظام بنایا جس کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 7 ارب ڈالر سے زائد پاکستان بھیجے۔
انہیں دنیا کے 25 بہترین ڈیجیٹل شناختی دماغوں میں شامل کیا گیا اور New York کے Times Square پر Nasdaq ڈیجیٹل اسکرین پر پاکستانی پرچم کے ساتھ ان کی تصویر چلتی رہی۔
لیکن پاکستان نے اس بہترین دماغ سے فائدہ نہی اٹھایا ۔ کیونکہ اشرافیہ بے نقاب ہو جاتی
طارق ملک نے جون 2023 میں اپنی میعاد پوری ہونے سے ایک سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ اپنے تین صفحات کے استعفے میں انہوں نے لکھا: میں ایک سیاسی طور پر بوجھل اور پولرائزڈ ماحول میں کام کرنا مشکل پاتا ہوں جہاں پیشہ ورانہ دیانتداری کی بجائے سیاسی وفاداری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعظم سے یہ بھی گزارش کی کہ ان کی جگہ کسی ریٹائرڈ افسر کو نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے کسی ماہر کو لایا جائے۔
پھر کیا ہوا؟
استعفے کے بعد معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا
FIA نے طارق ملک اور 12 دیگر افسران کے خلاف 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی مالی بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا۔ الزام یہ تھا کہ سمارٹ شناختی کارڈز 3 سینٹ فی کارڈ مارکیٹ ریٹ کی بجائے 99 سینٹ فی کارڈ خریدے گئے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں 14 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
FIA نے ان پر سفری پا��ندی بھی عائد کر دی۔
اصل سوال
طارق ملک نے جو ڈیٹا نکالا اس نے یہ ثابت کیا کہ لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک آتے جاتے ہیں پیسہ باہر لے جاتے ہیں مگر ٹیکس؟ وہ نہیں دیتے۔ اور یہ لوگ کوئی عام آدمی نہیں یہ وہ طبقہ ہے جو نظام چلاتا ہے۔
اسی سچ نے طارق ملک جس نے دنیا میں نام روشن کیا اسے مجرم بنا دیا گیا۔
یہاں سے اندازہ لگا لجیے کیسے چن چن کر پورے پاکستان سے کرپٹ ناتجربہ کار لوگ ڈھونڈے گے انہیں عہدے دیے گئے اب ملک کی حالت اپکے سامنے ہے ۔
سلمی بٹ خو بتا چکی ہیں کہ انہوں نے سی ایم پنجاب کو کہا کہ وہ اس وازرت کا تجربہ نہی رکھتی انہوں نے کہا تم کر لو گی ۔ باقی انکے فنی ٹوٹے مجھ�� بتانے کی ضرورت نہی ہے وڈا ٹوٹا چھوٹا ٹوٹا نکا ٹوٹا والا کلپ دیکھ لجیے ۔
دوسری طرف خواجہ اصف کی بھانجی لگا دیا گیا شیزا فاطمہ جن کا کوی تجربہ نہی ہے وہ عوام کے گھروں پر قابض ہونے کیلے ٹاور بل لے ائیں ۔
یہ تو صرف دو مثالیں ہیں باقی جس وزارت کو دیکھیں کارکردگی گوگل کر لجیے گا ۔ فری میں بلڈ پریشر بڑھ جاے گا ۔
جب سی ایم پنجاب خود فرما چکی ہیں کہ ہم پاکستان کے بہترین دماغ ایکسپورٹ کریں گے تو اس سے اندازہ لگا لجیے گا کہ ملک کو کیسے چلایا جارہا ہے ۔
*🎯 اصلاحِ نفس اور ضرورتِ مرشد*
عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ "جب انسان دین کے ماحول پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے چار بڑی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں:
➊ نفس ➋ شیطان ➌ ماحول ➍ معاشرہ
نفس اور شیطان تو ہر وقت انسان کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، "نفس" ایک اندرونی دشمن ہے جو خواہشات کے ذریعے گمراہ کرتا ہے، جبکہ "شیطان" ایسا دشمن ہے جو وسوسوں اور ترغیبات کے ذریعے انسان کو راہِ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، یہ انسان کی رگوں میں بھی دوڑتا ہے اور باہر سے بھی حملے کرتا ہے، اس کے ساتھ "ماحول" بھی انسان کو گناہ کی طرف مائل کرتا ہے، اور "معاشرہ" جب عمومی طور پر بے دینی کی طرف چلا جائے تو دین پر استقامت مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
ان چاروں رکاوٹوں سے بچاؤ اور اصلاحِ نفس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دور میں ایک عمومی کام عطا فرمایا ہے، اور وہ تبلیغ کی مبارک محنت ہے، اگر آدمی اس کام میں آداب و صفات کے ساتھ باقاعدگی سے وقت لگاتا رہے تو اس کی ایسی تربیت ہوتی ہے جو بسا اوقات کسی شیخ کی صحبت کا اثر بھی پیدا کر دیتی ہے۔
بڑے حضرت عارف باللہ حضرت سید رضی الدین احمد فخری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ "تبلیغ کا کام دراصل ایک چلتا پھرتا مدرسہ اور چلتی پھرتی خانقاہ ہے، جہاں انسان عملی طور پر سیکھتا اور سنورتا ہے۔"
پھر حضرت مرشدی رحمہ اللہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ "بسا اوقات انسان کی روحانی ترقی میں ایسی رکاوٹیں آجاتی ہیں جو محض تبلیغی ماحول سے بھی دور نہیں ہوتیں، ایسی کیفیت میں کسی ایسے مرشد کی ضرورت ہوتی ہے جو فرداً فرداً رہنمائی کرے اور باطنی اصلاح میں مدد دے۔ اسی لئے بیعت اور اصلاحی تعلق کی ضرورت پیش آتی ہے، تاکہ شیخ اپنے مرید کی روحانی رکاوٹوں کو پہچان کر وہاں سے نکال سکے۔"
لہٰذا آدمی کو جس شیخ سے مناسبت ہو، اسے چاہیئے کہ اس سے اصلاحی تعلق قائم کرے تاکہ وہ اس کی دینی و روحانی ترقی میں معاون ثابت ہو، بغیر مناسبت کے ��رف ظاہری تعلق مطلوبہ فائدہ نہیں دیتا۔
راقم نے بچپن ہی سے گھر میں تبلیغی ماحول دیکھا اور الحمدللہ آج تک کسی نہ کسی درجہ میں اس بابرکت کام سے وابستگی رہی ہے، جب بیعت کا ارادہ ہوا تو ذہن میں کوئی خاص بات نہ تھی، ایک دن ایک دوست کے ساتھ جامعہ اشرف المدارس گلشنِ اقبال کراچی میں حاضری کا موقع ملا، جہاں عارف باللہ حضرت حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کی اصلاحی مجلس جاری تھی، اس مجلس میں ایک بات سنی جو ہمیشہ کے لئے ذہن میں نقش ہوگئی، آپ نے فرمایا: "ہماری مجلس میں وہ آئے جس کا ہم سے خون میچ ہو"، یعنی شیخ اور مرید کے درمیان فطری مناسبت اور قلبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
پھر اپنے شیخ ا��ل حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ سے یہ بات بھی سنی کہ "مجھ سے فوری بیعت نہ کرو، پہلے دو ماہ میری مجلس میں آؤ، اگر فائدہ محسوس ہو تو پھر بیعت کرو۔"
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصلاحِ نفس میں جہاں شیخ کی اہمیت مسلم ہے، وہیں مناسبت اور تدریج بھی ضروری ہے۔
حضرت رحمہ اللہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ "اگر انسان اپنے شیخ کے کہنے کے مطابق چلتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستے کھول دیتے ہیں اور اس کی مدد فرماتے ہیں۔
اصلاحِ نفس یقیناً ایک بنیادی ضرورت ہے، عمومی اصلاح کا ایک بڑا ذریعہ تبلیغی محنت ہے، لیکن خصوصی اصلاح کے لئے کسی اللہ والے سے تعلق اور اس کی رہنمائی ناگزیر ہے۔
حضرت مرشدی رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے تھے کہ "تبلیغ کے کام میں شخصیت نہیں ہوتی، یہاں شخصیت نہیں چلتی، یہ کام بغیر کسی شخصیت کے بھی چلتا رہتا ہے، جبکہ تصوف میں اصل چیز شخصیت اور شیخ سے تعلق ہے، جب تک شیخ سے مناسبت اور عملی ربط نہ ہو، حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔"
✍️ مفتی سفیان بلند
مؤسس معهد الإمام سفیان الثوری