بریکنگ نیوز ۔۔۔۔۔۔!
عمران ریاض نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیلئے اہم ویڈیو پیغام جاری کر دیا۔۔۔۔🚨
عمران ریاض کے مطابق جب بھی احتجاج ہوتا ہے لوگ سڑکوں پر مرتے ہیں ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے
اس وقت میڈیا سمیت تمام اداروں کو ریاست کیساتھ کھڑا ہونا چاہئیے
پرستش اس کی فطرت ہے،یہ دیوانہ نہ بدلے گا
چراغوں کے بدل جانے سے پروانہ نہ بدلے گا
بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی بدل جانے سے میخانہ نہ بدلے گا
جو ممکن ہو تو سچ مچ کےاجالے ڈھونڈ کر لاؤ
چراغِ مضمحل کی ضو سےغم خانہ،نہ بدلے گا
کمی ہےاس میں کرداروں کی،مقصدکی،تاثرکی
فقط سرخی بدل جانے سےافسانہ نہ بدلے گا
سروں پر تاج رکھ لینے کو سلطانی نہیں کہتے
نہ بدلا ہے یہ اندازِ گدایانہ، نہ بدلے گا
کسی گوشےسےکوئی غزنوی اٹھے تو ہم جانیں
بتانِ خود تراشیده سے بت خانہ نہ بدلے گا
دلوں کی تیرگی کا کچھ کرو اے اہلِ کاشانہ
فقط جشنِ چراغاں سے یہ کاشانہ نہ بدلے گا
اقبال عظیم
عمر نذیر بیکری نے چند روز قبل خواجہ ڈڈو مہران پر الزام لگایا کہ اس نے اوور سیز کشمیریوں سے تین کڑور چندہ ایکشن کمیٹی کے نام پر لیا اور کھا گیا۔ خواجے نے پہلے تو اس لتاڑا لیکن آج دونوں میں صلح ہو گئی اور الزام امان کھوتی والا پر لگا دیا۔
یہ کن کترے نہ پاکستان کے وفادار ہیں، نہ کشمیر کے اور نہ ہی ایک دوسرے کے
پھلوں کو کلو کے
حساب سے تولا جاتا ہے۔
جواھرات کو قیراط کے حساب سے تولا جاتا ہے۔
سونے کو گرام کے
حساب سے تولا جاتا ہے۔
لوہے کو ٹنوں کے
حساب سے تولا جاتا ہے۔
مگر سورۃ الزلزال میں بتایا گیا ہے کہ
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ
ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
نیکیوں کو زرات کے حساب سے تولا جائے گا
تا کہ اہل ایمان کو ایک ذرے کے برابر نیکی کا بھی اجر عطا کیا جا سکے۔
قیامت کی ٹیکنالوجی
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.
تحریر: اسٹرائیکر راجپوت
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں او�� انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے ��یالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت ��ڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط ��ھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا ا��لہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟
👇
حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،
حضرت سعید لبن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔
کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا او��قتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرا چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے،حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بد کاری سےبچتاتھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کاحریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ تھی؟"ظلم "
اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا.وہ الله کے بندوں، اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا وہ ��ظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا،
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی جسے زمہریری کہاجاتا ہے،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارےجسم پرچھا��اتی تھی ،وہ کانپتا تھا،آگ سےبھری انگیٹھیاں اسکےپاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسےاحساس نہیں ہوتاتھا،حکیموں کو دکھانےپر انہوں نےبتایاکہ پیٹ میں سرطان ہے,ایک طبیب نےگوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگےکے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گئے حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج،
جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا…
آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھاکہ بچنےکا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کوبلایاجو بڑی کراہت کےساتھ حجاج کےپاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کوپڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹادیناکیوں کہ لوگ مجھے مرنےکےبعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔اگلےدن حجاج کا پیٹ پھٹ گیااور اسکی موت واقع ھو گئی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتاھے لیکن جب ظالم سےحساب لیتاھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سےکانپ��ے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کےظلم سےھم سب کومحفوظ رکھے..!! آمین"
Via Facebook
تمہارے لَب اِس صَدی کا
سَب سے دِل آویز فِتنہ ھیں۔
تمہاری سانولی گَردن
سَوا دو سو بَرس سے بھی پُرانی
شراب کی بوتل کے جیسی ٫ بیش قیمت ھے
تمہاری نیند میں ڈُوبی ھُوئی آنکھیں
ھزاروں مئے کَدوں کے
بند ھونے کی خبر دینے کو کُھلتی ھیں
تمہاری زُلف میں گُھومے ھُوئے
ھاتھوں کے چُھونے سے
کسی بھی چیز میں
کافُور کی تاثیر آ جائے
تمہارے خوبصُورت ھاتھ
جس کے ھاتھ لگ جائیں
وہ دُنیا فَتح کر جائے۔
تمہارے اُجلے پاؤں سے نِکلتی
دُودھیا کرنیں کِسی بھی دِن
چَٹانوں کو جَلا کر ایک نئی تَلمیح کی
بُنیاد رَکھ دیں گی۔
تُمہارے تیسرے تِل تک
جو پہنچے وہ سِکندر ھے
میں اِس سے قبل اِس سَیّارے پہ
بَس حیران پِھرتا تھا
تُمہارا یہ جِسم دُنیا سے
میرا پہلا تعارُف ھے۔
میرا دل کرتا ہے ایسا کمرہ ملے جہان چیخ چیخ کر روؤں
انکھوں میں انسو ۔۔ یہ شیخ رشید کو کیا ہو گیا
میں مروں تو یاد رکھنا میں نے عمران خان ۔۔
وہ نام لے کر گالی دیتے تھے ۔۔
@shkhrasheed
ایک طرف چاچو پکڑائی نہیں دے رہا، دوسری طرف حافظ نے ٹھوکا ہوا ہے اور تیسری طرف بلاول بھی ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے، چیک کرو ۔۔۔ اتنی بڑی اکانومی اور جمہوریت والے ملک ہندوستان کو ان تینوں حضرات نے اپنی قیادت میں انٹرنیشنل لیول پر اکیلا کر دیا۔
https://t.co/KNEEEIpkTp
🚨🚨Big News
افغان طالبان کے کمانڈر سعیداللہ سعید نے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب
کرتے ہوئے کہا کہ:
"امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان میں لڑنا جائز نہیں"
مختلف گروہوں میں شامل ہو کر بیرون ملک جہاد کرنے والے ��قیقی مجاہد نہیں،ایک جگہ سے دوسرے جگہ حملے کرنے والے افراد کو مجاہد کہنا غلط ہے، جہاد کا اعلان یا اجازت دینا صرف ریاستی امیر کا اختیار ہے کسی گروہ یا فرد کا نہیں،اگر ریاستی قیادت پاکستان نہ جانے کا حکم دے چکی ہے تو اس کے باوجود جانا دینی نافرمانی ہے، اپنی انا یا گروہ کی وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا جہاد شریعت کے مطابق فساد تصور کیا جائے گا، کمانڈر سعیداللہ سعید
تحریک طالبان افغانستان کے امیر کے بیان اور اسلامی تعلیمات کے برعکس نور ولی محسود فتنہ الخوارج کا سربراہ کافر دشمن ممالک کے ساتھ تعاون کو اپنی شریعت کے تحت جائز سمجھتا ہے
ایک ویڈیو پیغام میں فتنہ الخوارج کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ غیر مسلم دشمن ریاستوں سے معاہدے کرنا اور امداد لینا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے تحت جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری بھی ہے۔
اپنے موقف کو ��ذہبی تناظر میں بیان کرتے ہوئے، ٹی ٹی پی کے سربراہ نے کہا کہ جب ضروری سمجھا جائے تو "کفار" قوموں سے اتحاد اور حمایت جائز ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ���’یہ دونوں جائز ہیں اور بعض اوقات، غیر مسلم طاقتوں کے ساتھ معائدہ کرنا ناگزیر ہے‘‘۔
یہ بیان پاکستان کے دہشت گردی کی ہندوستانی سرپرستی کے دیرینہ موقف کو تقویت دیتا ہے۔
اس ویڈیو میں مزید دیکھیں
ایک سابق تحریک انصاف کے کیمپین چلانے والے نے قوم سے معافی مانگ لی اور کہا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی تحریک انصاف کے لئے کام کرنا،اس جنگ نے ان کے بدن��ا اور گندے چہروں سے نقاب اٹھادیا ھے۔
ساتھ ھی علیمہ خان سمیت سارے تحریک انصاف کو ملک کے لئے دیمک کہا۔
عرب سوشل میڈیا پر ایک عربی کا شاندار کمنٹ ملاحظہ کیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بہت وقت گزر گیا۔ ان محروم آنکھوں نے ایک ہی منظر بار بار دیکھا ۔
کا فروں کو مسلمانوں پر آسمان سے آگ اور لوہا برساتے ہوئے۔
کبھی عراق کے آسمان شعلوں سے بھر گئے،
کبھی فلسطین کی گلیاں خون سے رنگین ہو گئیں،
کبھی افغانستان کے پہاڑ لرز اٹھے،
اور کبھی شام و لبنان کی زمین پر آسمان سے قیامت نازل ہوئی۔
لیکن آج...!
آج ان آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جس نے برسوں کی پیاس بجھا دی۔
ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے شاہینوں نے گاؤ پوجنے والوں پر آسمان سے آگ برسائی۔
دل کی دھڑکنیں سجدہ ریز ہو گئیں۔
ایسا سکون دل میں اترا جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔
اے اللہ! تیرے ہی لیے ہے تمام تعریف۔
ہزار بار شکر کہ تو نے ہمیں یہ دن دکھایا۔
یہ تیرا ہی فضل ہے کہ مظلوموں کی دعائیں سنی گئیں،
اور ظالموں پر آسمان سے بجلی گری!