اتنی خوف کے نام نہیں لے سکتے !
عمران احمد خان نیازی !
کوئی شرم، کوئی حیا ہوتی ہے جو آپ لوگوں میں ذرا سی بھی نہیں پائی جاتی!
عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور ڈاکٹر فیصل سلطان و ڈاکٹر عظمیٰ خان کی موجودگی کا حکم دیا تھا۔ لیکن آپ نے پمز ہسپتال اور وہ بھی محض چند گھنٹوں کے ڈرامے کے بعد فجر سے پہلے انہیں واپس اڈیالہ کے سیل میں منتقل کر دیا گیا۔
خان صاحب نے ہر ڈیل سے صاف انکار کیا، جس کی پاداش میں انہیں طبی سہولیات سے محروم کر کے واپس قید کر دیا گیا۔ طویل قیدِ تنہائی، آنکھوں کی تکالیف اور بلڈ پریشر کے مسائل کے بعد اچانک 'صحت مندی' کا اعلان محض پروپیگنڈا اور ن لیگ کی ایک اور غلیظ چال ہے۔
عدالت اور عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا رہی ہے، ان اقتدار کے پوجاریوں سے قوم کو کسی خیر کی امید نہیں!
#ImranKhan #SupremeCourtOfPakistan
سلمان صفدر کےساتھ آپ کی جب عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے آپ کو ہدایت کی تھی کہ مشال یوسفزئی کو پارٹی سے فارغ کیا جاۓ: صحافی
بالکل مجھے ہدایات آئیں تھی میں اسے سینٹ سے تو نہیں نکال سکتا تھا لیکن پارٹی سے فارغ کر سکتا تھا لیکن میں اس وقت پارٹی میں فساد نہیں ڈالنا چاہتا تھا کیونکہ یہ اکیلی نہیں اس کے پیچھے ایک پورا گروہ ہے
جناب @salmanAraja صاحب نکالیں اس کو پارٹی سے جو گروہ پیچھے ہے اسکو بھی بے نقاب ہونے دیں پاکستان تحریک انصاف بہت بڑی پارٹی ہے ایک سینیٹر کی سیٹ اور چند لوگوں کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خالی جگہ پر کرنے کے لئے ہزاروں لوگ لائن میں ہیں۔
اس کے گھر میں کچھ چیز یں عجیب تھیں۔ سب سے بڑی پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ اس نے باورچی خانے میں رکھا ہوا تھا جس پر تیل کے نشانات اور گیلے ہاتھوں سے پکڑنے کے نشانات نمایاں تھے، دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے برامدے کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی بہت بوسیدہ سے تھے، ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دیکھا، اور ایک لاؤنج میں۔
میں نے سوچا یہ تو خاصی پڑھی لکھی ہے، یقینا کئی بار قرآن کی طرف پیٹھ بھی ہو جاتی ہو گی، بڑی بے ادبی کی بات ہے… اسے تو لگتا ہے کہ اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں
میرے دل میں غبار سا اٹھا اور شاید چہرےکا رنگ بھی بدل گیا تھا
اس نے بھانپ لیا تھا تبھی بولی۔دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔اس لیے جگہ جگہ قرآن رکھ دیے ہیں جہاں ذرا فرصت ملتی ہے ۔اٹھاکرپڑھ لیتی ہوں ۔دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل مجھے تو اسی میں ملتا ہے۔
میں کچھ سمجھ نہیں پائی۔۔. وہ پھر گویا ہوئی
باجی اللّٰہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابّا نے مجھے بتائی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس سے دوستی کر لو ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو ۔یہ کتاب تمھیں ہر بات کا جواب دے گی اور تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔
بس جب سے یہی سہیلی ہے میری، اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ ۔اور یہ کتاب ہے ہی ایسی کہ ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔کئی مسئلے تو چند آیات پڑھتے ہی سُلجھ جاتے ہیں۔ جہاں سے مجھے اپنے جوابات مل جاتےہیں ان آیات کو میں نشان زد بھی کر لیتی ہوں ۔
جب پھر سےکوئی مسئلہ پیش آۓ تو ان ساری آیات کو جلدی سے کھنگال لیتی ہوں۔کبھی کبھار کسی مسئلہ کا حل ملنے میں یادہ وقت بھی لگ جاتا ہے، اور کبھی تو کتاب کھولتے ہی حل سامنے نظر آجاتا ہے... تو ایسے وقت اپنے رب کی محبت میں میرے آنسو بہنے لگتے ہیں...بس اسی لیے ان نسخوں کی یہ حالت ہو گئی ہے
اب کل ہی کی بات دیکھیے... میری نند آئی ہوئی تھیں۔ میں انھیں کھانا کھلا کر فارغ ہوکر باورچی خانے کی طرف جا رہی تھی کہ ان کی کچھ تلخ باتیں میرے کانوں میں پڑیں ، افسوس اور رنج سے میری حالت بہت خراب ہوئی کہ اتنی مشقت، اور پھر یہ جزا
دل دکھا ہوا تھا… تو یہی باورچی خانے والا قرآن کھولا، ایک آیت میرے سامنے تھی۔ "برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو“
بس کیا ہوا کہ دو روز پہلے اپنے لیے جو بندے لائی تھی، لا کر بہت پیار سے نند کو پہنا دیے. وہ خاموشی سے کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی۔پھر رو پڑی۔میں نے اسے گلے لگا لیا۔تو بولی: " بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے مجھے بھی منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دیجیے گا مجھے۔آپ میری اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر، اللہ آپ کو بہت خوش رکھے، آباد رکھے
یہ سب سن کرخوشی ہوئی، دل کا اطمینان اور سکون بھی ملا۔۔۔ اسی طرح آج جب آپ آئیں، میں کھانا بنا چکی تھی۔دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے کھانے میں۔۔۔اسی وقت حسبِ عادت قران کھولا، سامنے لکھا تھا۔
" اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔“
میں نے پریشانی چھوڑ کر اس ذات کا شکر ادا کیا ۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔سوچا مٹر پلاؤ بنا لیتی ہوں ، اسی وقت پڑوس سے بریانی کی بھری ہوئی ڈش آگئی۔۔۔یہی نہیں، میاں بھی آفس سے آتے ہوئے حلیم ساتھ لیتے آۓ۔ یعنی اللہ نے فوراً ہی میرا مسئلہ حل کر دیا اور بندوبست کر دیا۔
اسی لیے تو بس باجی، ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔
ابھی پچھلے دنوں کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔بڑی پریشان تھی،قران کھولا تو لکھا تھا:
"استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دوں گا، مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا۔اور باغات اور نہریں عطا کروں گا ۔"
میں تو حیران رہ گئی ایک استغفار کے اتنے فائدے
پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ استغفارپڑھتے رہے ۔سید الاستغفار کا بھی ورد رہا ۔آپ یقین جا نیے جلد ہی اس کے ایسے اثرات ظاہر ہوئے کہ پریشانیاں دور ہوکرحالات بہتری اور خوش حالی کی طرف جانے لگے...
وہ انتہائی سادگی سے قرآن کو سینے سے لگاۓ لگاتار بولتی چلی جا رہی تھی، اور میں بہت شرمندہ تھی
آج تک میرا قرآن سے ایسا کوئی تعلق نہیں بن سکا تھا، قرآن سے ایسی رہنمائی مجھےمیسر نہیں تھی کیونکہ میں نے تو قرآن پر بیش قیمت غلاف چڑھوا کر اسے سب سے اوپر والے شیلف میں رکھ دیا تھا...
اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگ
میں نے قرآنِ مقدس کے ظاہری رکھ رکھاؤ پر جتنی توجہ دی کاش اتنی ہی توجّہ اس کی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی۔ تو اس کے اصل پیغام سے محروم ہونے کے بجائے آج اس کا یہ قرب اور یہ اعجاز میرے نصیب میں بھی ہوتا....
منقول
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
علیمہ خان کہتی رہیں کہ ڈی چوک نہیں اڈیالہ جایا جائے۔ مگر اڈیالہ تو راولپنڈی میں آتا ہے
سہیل آفریدی کو شاید سختی سے ہدایت تھی کہ راولپنڈی کی طرف رخ نہیں کرنا ۔ اس لئے اسلام آباد کی کال دی گئی۔
اسلام آباد تو کھلی شکارگاہ ہے۔ راولپنڈی گنجان آباد ہے جہاں ضرورت پڑنے پر ہر گلی محلہ پناہ گاہ بھی ہے اور مورچہ بھی۔
علیمہ خان کو خود آگے آنا پڑے گا ورنہ اول تو یہ لوگ مارچ لیکر نکلیں گے نہیں۔ نکلے تو پرامن مارچ کے نام پر لوگ مروا کر واپس بھاگ جائیں گے اور احتجاج یا تحریک کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔
اور اتنی ہی مہلت اس رجیم کو عمران خان سے چھٹکارے کیلئے درکار ہے
قصور جرنیلوں کا بھی نہیں بلکہ یہ ادارے کی تربیت ہے، ان کے پاس ملک چلانے کا وژن ہی نہیں ہے، ان کی تربیت ہی نہیں بحث، اجتہاد اور اختلاف رائے کی، چرچل نے کہا تھا جرنیل کا کام جنگ لڑنا ہے، فیصلہ سازی کی صلاحیت ان کے پاس ہوتی ہی نہیں ہے، ان (جرنیلوں) کو بس ایسا ٹارگٹ دینا چاہیے جیسے جاؤ! پہاڑ پر چڑھائی کر کے فتح کر لو، جب ان کو ملک چلانے کا کہو گے نہیں چلے گا۔ عمران خان
#pakistan @ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کوئی بھی دنیا کا نظام لے آئیں اس کے اوپر شریف اور زرداری بیٹھا دیں وہ سارے نظام کرپٹ ہو جائیں گے، آج نواز شریف کو کسی طرح انگلینڈ کا وزیرِ اعظم بنا دیں میں آپ کو گارنٹی کرتا ہوں کہ دس سال میں وہ ملک مقروض ہو جائے گا اور پاکستان سے کہے گا کہ ہمیں قرضہ دو۔ عمران خان
اگر ہمارے حقوق ہیں تو پاکستان کے لیے ہمارے فرائض بھی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر بتا رہے تھے ریاست کہ جو ریاست کے خلاف کھڑا ہو گا غدار ہوگا، تو میں انہیں بتا دیتی ہوں کہ ریاست کہتے کس کو ہیں۔ ریاست یہ عوام ہے۔ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں ہوتے، ریاست عوام ہوتی ہے۔ علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan #ImranKhan #AleemaKhan
@Aleema_KhanPK
@ikhan_17 یہ خنزیر پھر بیچ میں پھڈا ڈالنے گھس گیا۔بشرہ بی بی کا راستہ روکا اسے اغوا کروایا اور خود بارہ ضلعے ناپنے چل نکلا۔پھر بونگے کو ہپناٹائز کیا اور اب علیمہ آپکو پھدُو بنانے میں کامیاب ہوگیا۔یہ احتجاج تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
@ikhan_17 میڈم آ زمانے ہوئے کو دوبارہ آ زماءی گی آ پ یہ محترم چلتی تحریک کو بریک لگا دیتے ہیں، ڈی چوک پہنچ کر بارہ اضلاع کراس کرنا ہو یا پھر خان صاحب کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج میں سہیل آ فریدی پر ڈومینینٹ ہو گئے اور اب پھر ماحول گرم ہے تو پھر آ گئے موصوف
When someone says: "I don't know how to help"?
But all I'm asking is for people share and leave a dot.
3 replies — even dots — can save my children 💔
To donate 👇👇
https://t.co/1DQVZlU15j
ڈکٹیٹر کا پیشاب ڈکٹیٹر کی خواہش پر اس کو وردی والا صدر بنوانا چاہتا ہے اور بس۔ قومی مسائل کا حل عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے میں ہے، ناکہ نئے صوبے بنانے میں۔ عوامی مینڈیٹ پر حکومت بنے، فوج واپس بیرک میں جائے، انوسٹر کانفیڈنشن بحال ہو، تو ملکی معیشت بھی ٹھیک ہوسکتی ہے۔ پھر چاہے عوام کی مرضی سے نئے صوبے بنائیں جائیں یا موجودہ صوبوں کو حقیقی خودمختاری مل جائے، ہر حال میں خیر ہوسکتی ہے۔ مگر اس سب کی راہ میں ایک وردی والا کالا کتا حائل ہے، جسے کنواں سے نکالنا ہوگا۔
اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ سوال:
۱) جب آپ اپنے مسلمان بھائی اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولی چلاتے ہیں، آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں اور آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہو سکتے ہیں؟
اگلے سوال خاموش تماشائیوں کے لیے:
۲) کیا آپ اپنے بڑوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اپنے شہریوں کو کیوں مارنا پڑ رہا ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی ہے؟
۳) کیا آپ اپنے بچوں کو قتل کی روزی کھلا کر فخر محسوس کرتے ہیں؟ آپ ٹیم قتل عام نہیں ہیں؟
۴) آپ کے گھر والے مطمعین ہیں آپ کی اس نوکری سے جس سے کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی خاندان کا قیمتی شخص اپنے بچوں سے اور والدین سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ آپ کے بچے شاید اچھی تعلیم حاصل کر جائیں اور آپ کے والدین اچھے ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں، مگر یہ ایک انتہائی خودغرض فیصلہ ہے آپ کا اور آپ کی پوری فیملی کا۔
۵) پچھلے چار سال میں کتنی بار خیال آیا کہ سوال پوچھیں قتل عام کروانے والے بڑوں سے؟ ہم نے سنا تھا فیڈبیک لی جاتی ہے ادارے میں اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں جتنا ظلم ہوا ہے وہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ برکت ہی اٹھ گئی ہے ملک سے، ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آرہی ہے۔
۶) جب یہ ظلم کا زمانہ ختم ہوگا اور جب آپ لوگوں میں جائیں گے تو اپنی کیا شناخت کروائیں گے؟ اور جب وہ پوچھیں گے کہ آپ نے کس طرح آواز اٹھائی ظلم کے خلاف تو کیا کوئی جواب ہوگا؟
۷) جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے، تو وہ کس طرح آپ پر فخر کریں گے اور کیا وہ اپنی شناخت میں آپ کا ذکر کریں گے؟
۸) ڈی چوک، مرید کے، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے شہداء جن کو اللہ کی فوج کے سپاہیوں نے گولیاں مار کر شہید کیا، آپ کے خواب میں اگر آکر سوال پوچھیں گے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
فوری طور پر توبہ کرنے کا وقت ہے یہ۔ اللہ سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ بہت ہی غلط کر رہے ہیں، آخر میں پچھتاوا ہوگا اور آگے شاید معافی کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ دل دکھانا مقصد نہیں ہے اس تحریر کا، پاکستانیوں کی جان قیمتی ہے، یہ احساس دلانا اور ان کو بچانے کی عاجزانہ کوشش ہے!
پاکستان زندہ باد!
”عاصم منیر بھی (یحییٰ خان کی طرح) اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک میں ظلم کر رہا ہے،اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔“ عمران خان
@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan