اس میں کوئی شک نہیں کہ محترم اسحاق ڈار صاحب پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین وزیرخارجہ ہیں۔ پہلے انہوں نے وزیرخزانہ کے طور پہ اپنی محنت سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر ترقی کے راستہ پر چڑھایا اور اب ابھی انتھک محنت سے پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال کر ملک کو ایک گلوبل پاور بنا دیا ماشااللّہ
اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی ورنہ آزادی کوئی
پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملیں گی!!
اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا بھی اپنی آزادی کی تحریک شروع کرے!!
ہمارے بہت سارے بھائی ملک چھوڑ کر جانا پڑا ہے, یہ سب کی لڑائی ہے!!
کاشف عباسی
پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں کچھ پتے ہیں وہ رورل سندھ میں پاپولر ہیں ن لیگ کے تو پلّے ہی کچھ نہیں ہے میڈم پنجاب میں کوئی چھوٹے موٹے پروجیکٹ کر رہی ہیں لیکن اس سے ووٹر پر اور عوام پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ! نجم سیٹھی ۔۔۔
جب اپوزیشن جنرل باجواہ پر تنقید کرتی تھی تو اس وقت تو آپکو شدید تکلیف ہوتی تھی۔
ویسے اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جنرل عاصم منیر ڈکٹیٹر نہیں ہے۔ یہ ملک کا پہلا سی ڈی ایف ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق غزہ میں پاکستان پہلے مرحلے میں 3500 فوجی بیجھے گا، اسرائیل نے ترکی کی فوج قبول کرنے سے انکارلیکن پاکستان فوج پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے
70 ممالک سے رابطہ کیا گیا 19 ممالک نے فوج بیجھنے پر آمادگی ظاہر کی امریکہ کے مطابق پاکستان نے خود فوج کی آفر کی
شہباز گل
ن لیگ چاہتی ہے کہ ہم اگلے چار سال میں کچھ ایسے کام کریں تاکہ عوام میں ہماری کوئی عزت بن جائے کم ازکم چار ووٹ تو پڑ جائیں آج کی صورتحال یہ ہے کہ انہیں ووٹ نہیں پڑیں گے یہ چائتے ہیں عوام میں ہماری کوئی اسٹینڈنگ ہو یہ نہ ہو کہ فری اینڈ فیئر الیکشن ہوں اور عمران خان سویپ کر جائے ! نجم سیٹھی ۔۔
نو مئی والے دن جنرل فیض باہر تھا اور سارا عمل پلاننگ کے تحت ہوا تھا۔ فیض نیازی گٹھ جوڑ میں کچھ جنرل اور جج بھی شامل تھے۔
فیلڈ مارشل کی قسمت اچھی تھی کہ بچ گئے۔
عمران کو گرفتار کیا گیا تو پورے ملک میں شدید ردعمل آیا اور نو مئی والا احتجاج ہوا، جب سارے ملک میں دفاعی تنصیبات پر مشتعل کارکنان نے حملے کر دیے، آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی۔
آج وہ دو سال سے جیل میں ہے، اس کے بیٹے انٹرویو میں بتا رہے ہیں کہ وہ قیدِ تنہائی میں ہے، اسے مٹی والا پانی دیا جاتا ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے۔ اسے سترہ سال قید کی سزا ہوئی، مگر آج پورے ملک میں دس بندوں نے بھی کوئی احتجاجی جلوس نہیں نکالا۔
اسے کیا کہیں گے؟ کیا جماعت ختم ہو چکی ہے؟ بس سوشل میڈیا پر کمائی کی دکانیں باقی رہ گئی ہیں؟
جو آج توشہ خانہ والی سزا ہوئی ہے یہ بھی شرمناک ہے اس سے عدالتی نظام کا منہ کالا ہی ہوا ہے
جاوید لطیف سلیکٹو ہو کر کہتے ہیں پہلے بھی یہ ہوا تھا بتائیں کب اس طرح کا ٹرائل ہوا
کیا دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا ہوتا ہے یہ تو ایک مذاق ہوا ہے
محمد زبیر
خان کا ایمان۔۔۔
بھٹو کو جب پکڑ کر جیل میں ڈالا تو اسے یقین تھا کہ اسے زندہ نہيں چھوڑیں گے۔ وہ سگریٹ کے کش لگاتا اور ہر کسی سے کہتا تھا جنرل ضیاء اسے پھانسی لگائے گا۔ اس نے تو سگریٹ کی ڈبیاں جمع کرکے ان پر چھوٹی سی کتاب بھی لکھ دی کہ "اگر مجھے قتل کر دیا گیا۔"
عمران خان کا ایمان ہے کہ وہ جیل سے رہا ہوگا۔ وزیراعظم بنے گا اور پاکستان کی سربلندی کا وہ سفر شروع ہوگا جس کے خواب آنکھوں میں سجائے ہمارے اجداد نے یہ ملک بنایا تھا۔ اسیری کی سختیاں کپتان کے ایمان کو متزلزل نہیں کر پائیں۔ جب بھی جنرل کوئی نئی آفر بیجھتا ہے تو وہ مسکراتا ہے۔
اور اسی یقین کے ساتھ خان صاحب عبادت کررہے ہیں، قرآن شریف اور دوسری کتب کا بغور مطالعہ کررہے ہیں۔ نوٹ بنا رہے ہیں۔ اور مستقب�� کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
مثبت سوچ سے بڑی کوئی طاقت نہيں ہے۔ کامیابی کے سب سوتے اسی سے پھوٹتے ہیں۔ کوئی طاقت ایسے ایمان والے شخص کو شکست نہيں دے سکتی۔ جو کوشش کرے گا ذلیل ہوگا۔
ایم بی ایس نے عمران کو تحفہ دیا
عمران نے پیرنی کو پاس کیا
پیرنی نے لاہور کے سنار کو دیا
سنار نے دس ارب روپے کے تحفے کی قیمت انسٹھ لاکھ لگائی
جان کی امن کے لیے قومی خزانے میں انتیس لاکھ جمع کروایا
تحفہ بشری کو واپس کر دیا گیا
پھر بشری نے ہار گوگی کو دیا
گوگی نے وہ تحفہ دبئی میں جا کر بیچا
اور رقم لے کر جزائر مالٹا بھاگ گئی۔
🙂🙂🙂
کاشف عباسی کی یہ گفتگ�� سنی تو میرا ذہن ماضی میں چلا گیا۔
جولائی 2018 میں جب آج ٹی وی کی انتظامیہ نے عاصمہ شیرازی کو فون کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے گرفتاری دینے پاکستان آ رہے ہیں آپ کا ویزا لگا ہوا ہے کسی اور کے پاس نہیں آپ فوری لندن چلی جائیں کیونکہ سارا میڈیا اسی جہاز پر واپس آ رہا ہے، عاصمہ شیرازی نے لندن پہنچ کر نواز شریف اور مریم نواز کے انٹرویوز کیے جو چینل کے لیے ایکسکلوسیو تھے، چینل پر پروموشن چلتے ہی جنرل فیض نے مالکان کو فون کر کے کہا یہ انٹرویوز چلے تو اس کے بعد چینل نہیں چلے گا۔ انٹرویوز روک دیے گئے۔
ساری فلائیٹ اینکرز اور صحافیوںں سے فُل تھی مگر جب عاصمہ شیرازی واپس پہنچیں تو ان کے لینڈ کرنے سے پہلے "صرف ان کے" خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کا طوفان آ چکا تھا، جیسے باقی میڈیا صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ٹھیک کر رہا تھا صرف عاصمہ شیرازی نے غلط کیا تھا۔ واپسی کے چند روز بعد عاصمہ شیرازی کو رابطہ کر کے بتایا گیا کہ آپ کے نام پر ادارے نے کراس لگا دیا ہے۔ اب آپ نہیں بچیں گی۔
الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو بنک سے کال آئی کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ اسٹیٹمنس نکلوائی گئی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا مکمل ٹیکس آڈٹ ہوا، ان کی والدہ، بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ہو��ے۔ عاصمہ شیرازی کے ایک قریبی دوست کے دوست ایسٹ ریکوری یونٹ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے احکامات کے مطابق عاصمہ شیرازی کے خلاف پورا یورپ، یوکے، امریکا چھان مارا مگر ہمیں کچھ نہیں ملا۔
اسی دوران عاصمہ شیرازی کے گھر میں دو بار نامعلوم افراد گھسے، ایک شخص کی س��تھ والے گھر سے ریکی کرنے کی نشاندہی ہوئی، پولیس نے عاصمہ شیرازی اور محلے کے معتبر لوگوں کو جمع کیا اور کہا آپ کو معلوم ہے یہ کون لوگ تھے، ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔
سوشل میڈیا پر آئے روز کمپین کے بعد ایک کالم کو بے بنیاد بنیاد بنا کر نیشنل براڈ کاسٹ پر عاصمہ شیرازی کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، پروگرام ہوئے، سوشل میڈیا پر حجاب میں لپٹی طوائف سات روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک وفاقی حکومت کی پوری وفاقی کابینہ نے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی مہم میں فخریہ حصہ لیا۔
اس سے پہلے غداری کا ٹرینڈ حامد اور عاصمہ شیرازی کے خلاف چلا۔ اسد طور معاملے پر پریس کلب کے باہر تقریر کرنے پر عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے خلاف بغاوت کے مقدمات۔ تضحیک، تذلیل، گالم گلوچ اور پتا نہیں کیا کیا اس دوران ہوا۔ یہاں تک کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
مگر تب سب ٹھیک تھا، کئی صحافی دوستوں کے گھر پی ٹی آئی کے راہنما بیٹھ کر پلاننگ کرتے تھے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی کیسے کرنی ہے، الزام کیا لگانا ہے، ٹرینڈ کیا ہونا چاہیے۔ اسی دوران کئی صحافی دوستوں نے پی ٹی آئی کی قربت میں عاصمہ شیرازی کا سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا۔
بات سمیٹتے ہوئے: جو آج غلط ہے تب بھی غلط تھا۔ مگر تب کئی دوستوں کی دوستیاں ان کی اخلاقیات کی راہ میں رکاوٹ تھیں، سب اچھا لگ رہا تھا، آج سب برا لگ رہا ہے مگر ہے تو وہی صورتحال۔
موجودہ صورتحال میں میری ہمدردیاں اور دعائیں کاشف عباسی اور ان کے فیملی کے ساتھ ہیں۔ ان پر پابندی اور سختیوں کا کوئی جواز نہیں۔
فیلڈ مارشل اپنے دائیں طرف شہباز شریف اور بائیں طرف آصف زرداری کو بٹھا کر کہتے عمران خان بڑا کرپٹ ہے اس نے توشہ خانہ سے گفٹ لیا
فیلڈ مارشل صاحب آپ پانچ دن کی سزا دیں یا پچاس سال کی جس دن عوام نے عمران خان کی آواز پر لبیک کہہ دیا نہ سزا رہنی ہے اور نہ ہی آپ کا نام و نشان
شہزاد اکبر
تحفہ بیچنا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن 8 کروڑ روپے مالیت کا تحفہ صرف 50 لاکھ میں خرید کر بعد ازاں 8 کروڑ میں فروخت کرنا، اور قومی خزانے میں محض 50 لاکھ روپے جمع کرانا نہ صرف غیر قانونی بلکہ صریحاً غیر اخلاقی عمل ہے۔
50 ہزار سال سزا بھی سنا دے کوئی فکر نہیں۔۔ میری لاش جیل سے نکل سکتی ہے لیکن عمران خان کے نظریے کو نہیں چھوڑ سکتا، عمر سرفراز چیمہ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#ReleaseSohrabBarkat