پاکستان کے نوجوان کیسے تھے، کیا بولتے تھے، کیا شعور تھا، کیا معیار تھا، سوچ کی کیا کلاس تھی۔ اور اب۔۔اندھے، گونگے، بہرے یوتھیے۔
اسٹوڈنٹ یونینز پر پابندیاں لگا کر یہ سوچ، سیاسی شعور ختم کر دیا گیا اور اب سوشل میڈیا پر ہر یوتھیا خود کو عقل کل سمجھتا ہے۔ دیکھیں
اسلام آباد میں اس سال مچھروں کا طوفان آ چکا ہے۔ ہر سال ایسا ہوتا تھا کہ مچھروں کے موسم سے پہلے اور دوران اسپرے کیا جاتا تھا اور فاگنگ کی جاتی تھی۔۔ کیا اس سال بھی ایسا کوئی پروگرام ہے؟ #CDA
Israeli Prime Minister Netanyahu claims that social media accounts from ‘basements’ of Pakistan have badly hurt relationship between Israel & American people.
ایمان مزاری اور ہادی کو جیل میں 100 دن مکمل
دونوں میاں بیوی کیخلاف بےبنیاد مقدمات ہیں
ایمان مزاری اور ہادی کو مقدمات ختم کرکے فوری رہا کیا جائے، سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا مطالبہ
#100DaysBehindBars#ReleaseImaanAndHadi
فنانشل ٹائمز:
اسرائیل نے ایران کے میزائل حملوں کو روکنے کے لیے متحدہ عرب امارات کو لیزر سسٹم فراہم کر دیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑے دفاعی تعاون کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔ یاد رہے کہ 2020 کے ابراہام معاہدوں سے قبل دونوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں قائم کیا گیا تھا۔ ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام “اسرائیل کا دوست ہونے کی اہمیت” کو ظاہر کرتا ہے۔
معاملے سے واقف دو افراد کے مطابق، اسرائیل نے جلدی میں ایک ہلکا پھلکا نگرانی کا نظام اسپیکٹرو بھی فراہم کیا، جس نے متحدہ عرب امارات کو آنے والے ڈرونز، خاص طور پر “شاہد” ڈرونز، کو تقریباً 20 کلومیٹر دور سے شناخت کرنے میں مدد دی۔
مزید برآں، اسرائیل نے اپنے آئرن بیم لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی فراہم کیا۔ یہ لیزر سسٹم قلیل فاصلے کے راکٹوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے رواں سال کے آغاز میں لبنان سے آنے والے حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
یہ دونوں ہتھیار دفاعی نوعیت کے ہیں اور انہیں آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام کے ساتھ شامل کیا گیا، جو پہلے ہی متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا جا چکا تھا۔ اس کے ساتھ اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی “درجنوں” تعداد بھی نظام چلانے کے لیے بھیجی گئی۔
ذرائع کے مطابق مزید ہتھیار اور اسرائیلی اہلکار بھی خلیجی ریاست میں تعینات کیے گئے۔ ایک ذریعے نے کہا: “زمین پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم نہیں ہے۔”
اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز (جو اسپیکٹرو بناتی ہے) اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز (جو آئرن بیم کی بنیادی ڈویلپر ہے) نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع اور متحدہ عرب امارات نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اسرائیل نے مغربی ایران میں مختصر فاصلے کے میزائل لانچ کی تیاریوں سے متعلق اہم حقیقی وقت کی انٹیلیجنس بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ شیئر کی۔ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی میں عرب ریاست کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔
جنگ کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی فوج نے کچھ ایسے ہتھیار بھی فراہم کیے جو یا تو ابتدائی مرحلے میں تھے یا ابھی مکمل طور پر اپنے ریڈار نظام سے مربوط نہیں کیے گئے تھے۔ ایک ذریعے کے مطابق: “ہم نے انہیں براہِ راست آزمائش کے مرحلے سے نکال کر امارات کو دے دیا۔”
ایک اور ذریعے نے اس قریبی تعاون کو یوں بیان کیا: “ہم نے انہیں اپنی انتہائی حساس معلومات تک رسائی دے دی۔”
ابراہام معاہدوں کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت چار عرب ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہوئے، جس کے بعد دونوں کے درمیان معاشی اور فوجی روابط میں تیزی آئی۔ اس سے قبل اسرائیل متحدہ عرب امارات کو باراک اور اسپائیڈر فضائی دفاعی نظام بھی فروخت کر چکا ہے۔
فروری میں ایران پر امریکا-اسرائیل مشترکہ حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ اس اتحاد کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے جدید ترین دفاعی نظام خلیجی ریاست کو منتقل کیے۔
ابوظہبی نے عرب و مسلم دنیا کے کمزور ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرے گا۔
ایک مغربی عہدیدار کے مطابق، متحدہ عرب امارات ایران کا بڑا ہدف اس لیے بھی بنا کیونکہ اس نے ابراہام معاہدوں کو “جوش و خروش” سے قبول کیا۔
ایران کی خطے بھر میں جوابی کارروائی — جس میں ہزاروں میزائل اور ڈرون شامل تھے — نے امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا، جن میں سے بعض کی قیمت لاکھوں ڈالر ہوتی ہے اور انہیں تیار کرنے میں مہینے لگتے ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق، عارضی جنگ بندی تک پہنچنے تک امریکی فوج اپنے جدید ترین تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کے نصف ذخائر استعمال کر چکی تھی۔
اس صورتحال نے کم لاگت اور تیز رفتار دفاعی نظاموں کی ضرورت بڑھا دی، جن میں یوکرین کے تیار کردہ وہ نظام بھی شامل ہیں جو ایران کے “شاہد” طرز کے روسی ڈرونز کے خلاف استعمال کیے گئے۔
شاہد ڈرونز اپنی چھوٹی جسامت اور کم حرارتی نشان کے باعث نشاندہی میں مشکل ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات اب اپنے پرانے سائیڈ وائنڈر فضائی میزائلوں کو زمین سے فائر کیے جانے والے نظام میں تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس تبدیلی کے ذریعے ان میزائلوں میں حرارت پر مبنی نشانہ سازی کی جگہ “غیرفعال لیزر سینسر” نصب کیے جائیں گے، جو ایلبٹ کے اسپیکٹرو نظام کے ساتھ مل کر ڈرونز کی نشاندہی اور انہیں تباہ کرنے میں مدد دیں گے۔
Trump: I have great respect for Pakistan, Islamabad, Prime Minister and Field Marshal. Pakistan is doing everything for negotiations even right now, since trip is long one so we are doing it telepathically.
شاہراہ دستور پر کھڑی بلند و بالا عمارت Constitution 1 کے حوالہ سے 30.9.1989 کو ميرے ماموں انعام الحق مرحوم نے بطور چئرمين CDA اپنے قلمی اعتراضات اور تحفظات تحرير کئے تھے، جس کی پاداش ميں اُنہيں چئیرمين کے منصب سے ہٹا ديا گيا مگر اُن کا مُختصر note تاريخ ميں گواہی دے رہا ہے
پلیز وہ کلپ بھیجیں ناں جس میں عاصمہ شیرازی نے کہا ایران اچھا اور عرب ممالک گندے ہیں!! جس پر آپ پراپگنڈا کر رہی ہیں۔۔!!!!
باقی آپ کہنا چاہ رہی ہیں کہ ایک صحافی کو ایران اور اسرائیل کے حق میں برابر بات کرنی چاہئے کیونکہ صحافی غیر جانبدار ہوتا ہے۔ یعنی کہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت جس کو پوری دنیا جارحیت کہہ رہی ہے اس کی طرفداری بھی ضروری ہے۔۔ کمال کے لوگ ہیں، بھئی واہ۔۔
پہلی بات میرا تعلق ن لیگ سے نہیں ہے اور شاید پہلی بار میں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عاصمہ اب بہت زیادہ ایران کی حمایت پر آ گئی ہیں۔
انکی ٹوئٹس دیکھ کر لگتا تھا اس جنگ میں وہ چاہتی ہیں ایران جیتے۔یہ سوچ ہر پاکستانی کا حق ہے مگرصحافی کا نہیں۔
ایک صحافی کا کام ایمانداری سے خبر دینا ہے‘ کسی فریق کی حمایت میں سر گرم ہونا نہیں۔عاصمہ صحافت کا پلیٹ فارم چھوڑیں پھر شوق سے جس ملک کی چاہے حمایت کریں‘ میں تنقید نہیں کرونگی۔
میں آپکو انکی کئی ٹوئٹس دکھا سکتی ہوں لیکن یہ وقت کا ضیاع ہو گا‘ کیونکہ آپ نے ماننا نہیں۔آپکی تسلی کےلئے کچھ ٹوئٹس لگا رہی ہوں مگر جب آپ مانیں گے نہیں تو وقت کیوں ضائع کریں۔
معذرت آپ غلط کہہ رہی ہیں اور جھوٹا پروپگنڈا کر رہی ہیں۔
"ایران اچھا ملک ہے، عرب ممالک خراب ہیں" یہ عاصمہ شیرازی نے کہاں کہا ہے۔۔ ثبوت پیش کریں پلیز۔ اور اب بھاگنا نہیں ہے۔
کتنی عجیب بات آپ نے کی‘ فرض کریں آپ 1 لاکھ مجھے قرض دیں ‘ اپنی ضرورت پڑنے پر مانگ لیں تو کیا مجھے آپ سے ناراض ہونا چاہیے۔
پیسہ منہ پر مارنا نہیں سر۔۔۔قرض واپس کرنا لکھیں۔
دوسری بات‘ آپکی بیگم صاحبہ 2 ماہ سے قوم کے ذہن میں یہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ ایران اچھا ملک ہے‘ عرب ممالک خراب ہیں‘ وغیرہ۔۔۔۔یہ صحافت نہیں #شیعت کی تبلیغ ہے اسے صحافت مت کہیں اور قوم کو دھوکہ نہ دیں!
غریب کے لیے قانون الگ۔۔ امیر کے لیے الگ۔ اسی وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ دو ماہ میں کچی آبادیوں اور اسٹام پر بکنے والے چند مرلہ گھروں کو ایک نوٹس چسپاں کر کے گرا دیا گیا، لوگوں کو کوئی مالی معاونت نا ملی اور اشرافیہ کے غیر قانونی ٹاور پر کمیٹی بن گئی۔ آگے دیکھتے ہیں۔
خالد المعینا، سیاسی تجزیہ کار عرب نیوز:
امریکا اور اسرائیل نے پورے خطے کو بڑی کامیابی سے کنفیوژن کا شکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا بیان بہت سخت ہے اور وہ ایک تسلسل سے ایران سے سعودی عرب کے اچھے تعلقات کی کوشش کرتے رہے۔ ایران کی جانب سے اہم اثاثوں پر حملے مسئلے کا باعث بن رہے ہیں۔۔ امریکی پورے خظے کو اس مسئلے میں الجھانا چاہ رہے ہیں اس میں پاکستان کا نام بھی آ رہا ہے آرمینیا اور آذربائیجان کا بھی، امریکہ اور اسرائیل کا مڈل ایسٹ میں حالیہ حملوں کا مقصد اسرائیل کو پھیلانا ہے۔
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
اچھا تو امریکا اسرائیل کی جارحیت کے باوجود ایران کی مخالفت یعنی اسرائیل کی حمایت آپ کے خیال میں ریاست کی پالیسی ہے؟ یا آپ کی؟ یا آپ کی جماعت کی؟؟ میرا تو ایسا خیال نہیں، یہ آپ کی اپنی گھٹیا رائے ہو سکتی ہے جس کا آپ برملا اظہار فرما رہے ہیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں ایران کو گالیاں دی جائیں اور اسرائیل اور امریکا کو شاباش دی جائے؟؟ اپنے ہدایت کاروں سے پوچھ لیں ان کی گائیڈ لائن ہے کیا۔
سولہ گھنٹے پہلے موصوفہ نے اسکرین شاٹ لیا پھر شوہر نامراد سے کہا آپ اسے شئیر کر دیں اور موصوفہ اسے آزادی اظہار رائے کے ساتھ جوڑ کر صحافت کے پیچھے چھپ گئی
ایران جا کر ایران کی ریاستی پالیسی کے خلاف کالم لکھیں پھر پتہ چلے گا آزادی کیا ہوتی ہے
تم لوگوں کو یوتھیے ٹھیک رگڑتے ہیں
اچھا تو آپ اس خلیجی ملک کی وکالت کر رہے ہیں جس کے پیسے پاکستان نے اس کے منہ پر مارنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ پاکستان کی خودمختاری زیادہ اہم ہے۔۔ تو آپ اُن کی محبت میں وہاں منتقل ہو جائیں، آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ باقی رہی بات صحافت اور پاکستان کے مفاد کی تو اس پر آپ کے لیکچر کی ضرورت نہیں۔ آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ اپنی چھوٹی اور ناقص رائے کی بنیاد پر گھٹیا الزام لگائیں اور گھٹیا زبان استعمال کریں اور ایک عالمی بحث کو عقیدے سے جوڑ کر اپنی سوچ مسلط کریں۔ اس سے آپ جس جماعت کے سوشل میڈیا پرچارکر بنے ہوئے ہیں اس کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
انکل اچھا ہوا آپ ٹائم لائن پر خود تشریف لائیں ہیں
شیطان امریکہ شیطان اسرائیل کی جارحیت پر لعنت ہے مسلمان ملکوں میں پراکسیوں کے زریعے فتنہ فساد پھیلانے والوں پر بھی لعنت ہے معاشی دہشتگردی پھیلانے والوں پر بھی لعنت ہے خامنہ ای کی آڑ میں سکردو میں فوجی جوان جلانے والوں پر بھی لعنت ہے
بات خلیجی ممالک کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی ہے جو آپ کی اہلیہ کئی ہفتوں سے کر رہی ہیں لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرے میں صرف اس لئے ڈال رہی وہ ایران سے عشق کرتی ہیں
ریاستی پالیسی میں کہا لکھا ہے آپ ایران کو فوقیت دے کر دوسرے ملکوں کے خلاف کالم لکھیں ؟
ہماری جماعت میں خواجہ سعد رفیق ایران کے گُن گاتا ہے ہم نے انہیں بھی خواجہ آصف کے طالبان بیان یاد کروا کر ہوش کے ناخن لینے کا کہا ہے
آخری بات ہم والنٹیر ہیں کسی حکومتی گروپ کے پیڈ ملازم نہیں ہیں شکریہ
@asmashirazi@asmashirazi
آپ ملک کی مایہ ناز صحافی ہیں۔ آپ ہمیشہ جمہور کے ساتھ کھڑی رہی ہیں، مگر صحافتی اصولوں کے ساتھ۔ اگر کبھی آپ سے اختلاف بھی ہوگا تو وہ حدِ ادب کے ساتھ ہوگا۔
Difference of opinion exists and it should be respected ❤️👍
آپ کو اسرائیل کی حمایت کا فریضہ یہودی لابی نے سونپا ہے یا امریکیوں نے یا آپ کی جماعت نے؟؟ آپ ثابت کریں کہیں عاصمہ شیرازی نے سعودی عرب کے خلاف بات کی ہے۔ اس وقت پوری دنیا ایران کی حمایت میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بات کر رہی ہے تو وہ پاسداران کے کہنے پر کر رہی ہے؟ @KeepsamM