Today, Pakistan Army extrajudicially killed and dumped the bodies of five Baloch youths in Panjgur, #Balochistan. 3 of the victims have been identified as Zia, Inam, & Majid Baloch. All 3 were forcibly disappeared by Pakistani forces during a marriage ceremony on 30 April 2023.
پنجگور میں پولیس نے مزید پانچ لاشیں اسپتال منتقل کر دی ہیں، تاہم تاحال لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ پولیس کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ پانچوں لاشیں کہاں سے برآمد کی گئیں۔
29 جون 1976, یعنی پچاس سال قبل ڈان میں شائع ہونے والی خبر
’بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا‘
پچاس سال گزرنے کے باوجود اقتدار میں موجود لوگ آج بھی وہی پرانا اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔
آخر بلوچستان کی ترقی کا یہ سفر حقیقت میں کب شروع ہوگا؟
بشکریہ سینئر صحافی @balocharif11
کوئٹہ سے خواتین و بچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
اب ریاست بتائے بلوچ کے ڈیڈھ سال کا بچہ کیسے دہشت گرد ہوگیا، یا ایٹمی ریاست کے آگے ہر سانس لینے والا زندہ بلوچ خطرہ تصور کیا جاتا ہے ؟
فلسطینی بچوں پر آنسو بھانے والے پاکستانیوں کبھی بلوچستان پر بھی نظر گھمائیں۔
یہ منظر بلوچستان کے علاقہ سرانان پولیس تھانے کی ہے جہاں سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کو سرعام دن دھاڑے عوام کی موجودگی میں دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے ، ایسا کبھی کسی نے سوچا نہ تھا کہ ایسے دن بھی دیکھنے کو ملیں گے
مرچی وھد است کہ مئے رھشون یک مُشت ءُ تپاک بہ بنت اگاں مرچی یک مُشت ءُ تپاک نہ بوت اَنت گُڑاں اے نازرکیں تاریک کسر ءَ ماپ نہ کنت پرچہ کہ مرچی بلوچ راج ءِ وجود ءِ مسئلہ اِنت.
#BalochFightForHumanRights#Balochistan#14thAugustBlackDay
پنجگور ٹیچنگ ہسپتال میں پانچ لاشیں منتقل، دو کی شناخت ہوگئی
پنجگور ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال میں گزشتہ شب پانچ افراد کی لاشیں منتقل کی گئیں جن میں سے دو افراد کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ باقی تین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق 19 اگست کی شب تقریباً ساڑھے 11 بجے پانچ افراد کی لاشیں ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کی گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے لاشوں کی وصولی کی تصدیق کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کردی۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق قتل کیے گئے افراد میں ظاہر ولد ناصر، ساکن پروم، اور حافظ عمران ولد منظور احمد، ساکن وشبود شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق باقی تین افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے اور ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور دیگر تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔
کوئٹہ سے دو بلوچ خواتین اور 2 بچے جبری طور پر لاپتہ
ریاستی سیکورٹی فورسز نے 19 اگست 2026 کی صبح 4 بجے کوئٹہ سے حمیرا ولد عبدل رسول اور نجمہ ولد عبدل رسول نامی خواتین کو دو بچوں سمیت جبری طور پر لاپتہ کردیا ۔۔
بلوچستان میں نه بچے محفوظ ہیں اور نا ہی بوڑھے اور خواتین۔ روز کئی لوگ جبری گمشدگی کا شکار بنائے جاتے ہیں ۔
#SaveBalochWomen #SaveBalochChildren
اپیل بلوچ راج سے ۔
ایسے تمام اکاؤنٹس جو بلوچ دشمنی پر مبنی نفرت انگیز اور جھوٹے پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کی انگیجمنٹ نہ کریں۔ انہیں جواب دینے کے بجائے بلاک کریں۔ جھوٹے پروپیگنڈے کو توجہ دینا اسے مزید پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔