سہیل آفریدی نے سارا گھناؤنا بیانیہ واڑ دیا!!🛑
کور کمانڈر اور آئی جی FC نے تیراہ سے لوگو کو بے گھر کرنے کے احکامات جاری کئیے!!
🛑کل ڈی جی نے پھر میرے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کیا!!
ہمیں پہلے جنازوں پر بلایا جاتا تھا, اب وہاں بھی نہیں بلاتے, جنازوں پر بھی گندہ کھیل!! بیشرم لوگ
قائداعظم نے دو ٹوک وصیت میں کہا تھا کہ پالیسی بنانافوج کا نہیں بلکہ سویلینز کا کام ہے، فوج کا کام صرف ملک کا دفاع ہے۔ مگر افسوس! قائداعظم کی بات پر 76 سالوں میں عمل نہ ہوا، بلکہ چار بار مارشل لا لگا اور جمہوری حکومتوں کے تخت الٹ دئیے گئے!شاہزیب خانزادہ
آج @ajmaljami صاحب کے سوال کہ کیا کمانڈر سٹرٹیجک کمانڈ دوسری فورسز سے بھی ہو سکتا ہے؟
جواب فرمایا: میں کوئی لیگل یا آئینی ایکسپرٹ ہوں؟ خود آئین پڑھیں
حالانکہ تھوڑی دیر قبل حضور آرٹیکل 17/19 کی تشریح کر کہ خود بتا چکے تھے کہ
چونکہ آخر میں subject to reasonable restrictions وغیرہ لکھا ہوا ہے تو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو بنیادی طور پر عدالت کا کام ہے
جہاں دس منٹ میں گول پوسٹ ہی move ہو جائے، وہاں ہم بےچارے کیا کر سکتے ہیں 🙏🙏
Seems like he has forgotten 2019.
Lets revise history: Speaker Ayaz Sadiq’s recollection of February 27, 2019 about General Bajwa.
Thank God we had a brave Prime Minister in Imran Khan who made the courageous call about retaliating and then Pakistan Air Force made the whole Nation proud!
عمران خان۔۔۔۔نیشنل سیکورٹی رسک، سیکورٹی تھریٹ، بیرونی ہاتھوں میں کھیلنے والا، بھارتی ایجنڈے پر چلنے والا، غدار ؟؟؟
جب منصور علی خان صاحب نے پوچھا کہ ماضی میں یہ سب کچھ فاطمہ جناح سے نواز شریف تک کے لئے کہا گیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے جواب دیا
"پاکستان کی تاریخ میں، کبھی پاکستان کی فوج نے،کسی شخص کے بارے میں اس طرح کا بیانیہ نہیں رکھا"
عرض یہ ہے کہ میری ذاتی لائیبریری میں کتابوں اور اخبارات کے کم از کم 11 ایسے حوالے موجود ہیں جن کے مطابق ، پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل اور فوجی آمر جنرل ایوب خان نے خود اور ان کی فوجی حکومت نے فاطمہ جناح کو نیشنل سیکورٹی تھریٹ، سیکورٹی رسک، بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دیا
فی الحال اتنا ہی باقی پھر اس پر کسی وی لاگ یا بلاگ میں تفصیلی بات ہوگی
جب 27 ویں آئینی ترمیم ہورہی تھی تو اسپیکر قومی اسمبلی نے اراکینِ اسمبلی کو آپشن دیا کہ جو بزرگ ہیں ،بیمار ہیں یا تھک گئے ہیں ،وہ بیٹھ کر ہاتھ کھڑا کردیں تو بھی ان کا ووٹ کاؤنٹ ہو جائے گا لیکن میاں نواز شریف نے اس آپشن کو اڈاپٹ نہیں کیا ،انہوں نے 59 بار اٹھک بیٹھک کرکے 27 ویں آئینی ترمیم کو ووٹ دیا ،اس لیے یہ دعویٰ ��لط ہے کہ میاں نواز شریف کو سید عاصم منیر کے سی ڈی ایف بننے سے کوئی مسئلہ ہے ،
جس دن فیلڈ مارشل کی چھڑی سید عاصم منیر کے حوالے کی گئی ،اس دن نواز شریف ایوان صدر میں ہی تھے ،عامر الیاس رانا
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
ال��ام لگانا اسان کام ہے لیکن ڈیفنڈ کرنا مشکل🚨
اختیار ولی !! خیبرپختونخوا سے باقاعدہ کچھ صحافیوں کیلئے لفافے آتے ہے اب اس میں ہے یا نہیں لیکن انکی سائڈ اس نے لینی ہے
ایثا رانا !! میں اس ٹائم وضو میں ہوں اللہ کو خاضر جان کر کہتا ہوں کہ جس نے لفافہ لیا ہوں وہ نیست نابود ہو
خواجہ آصف… جو جنرل باجوہ اور جنرل فیض دونوں سے فیض یاب ہوتا رہا، آج انہی پر تنقید کے تیر چلا رہا ہے!
یہ جلیبی جیسا پلٹنے والا شخص بتائے… 2018 اور 2024 میں الیکشن کیسے جیتا؟
2018 کی رات تو جنرل باجوہ سے کہہ رہا تھا: “میں لُٹ گیا ہوں… میرا کچھ کرو!”ارشادبھٹی🚨
سابق جسٹس عبادالرحمان لودھی کا انکشاف 🔥🔥
میں پنڈی میں جج تھا اور پنڈی میں کچھ لوگوں کو میرے فیصلے پسند نہیں آئے تو مجھے بہاولپور بھجوا دیا گیا۔ بہاولپور میں بھی ہائیکورٹ کا جج ہی تھا میرے پاس پنجاب کی مشہور حکمران خاندان کی شوگر ملز جو کہ رحیمارخان میں ہے اسکا کیس آگیا ، انکی کوشش تھی کہ میں یہ کیس نہ سنوں لیکن انہوں نے بے شمار سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہوا تھا میں نے آرڈر کردیا اسکو واگزار کروانے کا تو مجھے وہاں سے پھر ملتان ٹرانسفر کروا دیا گیا تاکہ میں شوگر ملز کا کیس نہ سنوں۔
یہ کون سا حکمران خاندان ہے جسکی شوگرملز ہیں؟؟
بنی گالہ کے ملازمین نے اس خاتون کو سب بتایا ،کوثر کاظمی
کون سی خاتون ؟ نعیم پنجوتھہ
وہ صحافی خاتون ،کوثر کاظمی
اچھا اچھا جو ن لیگ کی کارکن ہے ؟ ٹھیک ہے ،نعیم پنجوتھہ
یہ لندن نہیں جائیں گے کوثر کاظمی
جی بالکل نواز شریف جاۓ گا خان نہیں نعیم پنجوتھہ
آپ مقبولیت کے بت کے پیچھے نہ چھپیں کوثر کاظمی
جی چلو شکر ہے مان لیا عمران خان مقبول ہیں لیکن ہمیں ثبوت دو تب شو آگے چلے گا .نعیم پنجوتھہ
اکانومسٹ کی سٹوری کے بعد موصوفہ ٹویٹ کرتی ہیں کہ یہ سب میں نے اپنے کالم کہانی بڑے گھر کی میں سالوں پہلے ہی بتا دیا تھا اور اب بول رہی کہ میں نے بشری صاحبہ کے بارے میں کب لکھا؟
پنجاب حکومت کا امن و امان کا دعوی اپنی جگہ لیکن اقبال سنگھیڑا کیسے پولیس حراست سے فرار ہوگیا ؟ دوسرا علی پور مظفرگڑھ میں ویڈیو سکینڈل آیا ہے اور پولیس تاحال کوئی گرفتاری نہیں کرسکی
خاکسار کا وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری سے سوال
یہ کون سا پاکستان ہے؟ یہ کون سی انسانیت ہ��؟ یہ کون سا دین ہے؟ ایسا ظلم تو کوئی کافر بھی نہیں کرتا۔ کسی کی ناموس کے ساتھ اس طرح کھیلنا، کسی کی بہنوں کو بے دردی سے مارنا، انہیں سڑکوں پر گھسیٹنا—یہ کون سے اخلاق، کون سی شریعت اور کون سی ریاست کی تصویر ہے؟ کیا یہ اسلام ہے؟ کیا یہ پاکستان ہے؟ کیا یہ قرآن ماننے والوں کا طرزِ عمل ہے؟
آج اڈیالہ جیل کے باہر پنجاب حکومت کے اشارے پر پنجاب پولیس نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہنوں اور دیگر عورتوں پر جو سفّاکی کی ہے، وہ انسانیت کے چہرے پر طمانچہ اور ریاستی طاقت کے بدترین استعمال کی مثال ہے۔ یہ ظلم صرف ظلم نہیں یہ اُس کردار کی زندہ تجدید ہے جس نے اہلِ بیتؑ علیھم السلام کی عورتوں پر ہاتھ ڈالا تھا۔
یہ وہی روش ہے جو یزید کی فوج نے اختیار کی تھی، جب اہلِ بیتِ رسول علیھم السلام کی مقدس خواتین کی چادریں چھینی گئیں، ان کی حرمت پامال کی گئی، اور انہیں ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ آج جو کچھ ہوا ہے، وہ اسی یزیدی سوچ کا جدید روپ ہے۔ یزید کی فوج جب چاہے نام بدل لے، چہرہ بدل لے، مگر اس کے کردار کی بدبو زمانہ پہچان لیتا ہے۔
خواتین کی حرمت پر ہاتھ ڈالنے والے نہ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں، نہ پاکستانی کہلانے کے۔ یہ وہی یزیدی کردار ہیں جنہوں نے تاریخ کو خون میں ڈبویا تھا، اور آج پھر اسی کردار نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے۔ ایسے ظلم کے سامنے خاموش رہنا بزدلی ہے، اور اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہر غیر�� مند انسان پر فرض ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو