ز بیخودی طلبِ یار میکند حافظ
چو مفلسی که طلبکارِ گنجِ قارون است
(حافظ شیرازی)
بے خودی کے سبب 'حافظ' یار کی طلب کرتا ہے۔۔۔ اُس مُفلِس کی طرح کہ جو خزانۂ قارُون کا طلب کار [ہوتا] ہے۔
ہم فاتحین کے جاہ و جلال کو بھول جاتے ہیں
مگر اہل جنوں کو
تاقیامت یاد رکھتے ہیں!
سکندر اعظم کا دل
ایک قتل گاہ کی مثال تھا
لیکن قیس کے دل میں
ایک عالی شان معبد کھڑا ہے
سکندر اعظم کی فتوحات
رذالت آمیز شکست کے مترادف ہیں
اور قیس کی شکست
فتح و نصرت کی معراج۔
نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں
مصرے اٹکے ہوے ہیں ہونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں
اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم
سادے کاغذ پہ لکھ کے نام تیرا
بس تیرا نام ہی مکمل ہے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی
*گلزار*