سانحہ اے پی ایس پشاور
حملے کی منصوبہ بندی افغانستان کے صوبے کنڑ میں کی گئی تھی۔ حملہ آور تنظیم کا بیس کیمپ افغانستان تھا اور حملے کے ماسٹر مائنڈ خراسانی کو اس وقت کی افغان حکومت نے افغانستان میں چار گھر دے رکھے تھے۔ حملے کی قیادت نعمان شاہ ہلمند نامی افغانی کر رہا تھا۔ پاکستان میں حملہ آؤروں کے سہولت کار بھی افغانی تھے۔
اس حملے پر پوری دنیا نے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ لیکن افغانیوں نے اس عظیم سانحے پر بھی "خوند ی شتہ" یعنی "مزہ آیا؟" کے سٹیٹس لگائے تھے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اے پی ایس کا حملہ افغانیوں کا پاکستان کو لگایا گیا سب سے گہرا زخم ہے تو غلط نہ ہوگا۔
اس حملے میں مجموعی طور پر 149 لوگ شہید ہوئے جن 134 بچے تھے۔ جب کہ 121 زخمی ہوئے تھے۔ سکول میں موجود 950 بچوں اور استاتذہ کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا تھا۔
جون 2014ء میں دہشت گردوں نے کراچی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر حملہ کر دیا۔ ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کی۔ جس کے جواب میں پاک فوج نے فاٹا میں آپریشن ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف سب سے بڑا آپریشن لانچ کیا۔
اس آپریشن کے لیے ملک بھر میں جگہ جگہ سیکیورٹی پر تعئنات فوجیوں کی تعداد کم کر دی گئی اور زیادہ تر فوج دہشتگردوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کے لیے وزیرستان بھیج دی گئی۔
1/6
Hey Beloved,
Psalms 139:16 Like an open book, you watched me grow from conception to birth; all the stages of my life were spread out before you, The days of my life all prepared before I'd even lived one day.(MSG)
BE YOU, THE GOD YOU