یہ کہنا تو بڑا اسان ہے کہ اپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اپ باوردی تھے اپ کو پستول نہیں نکالنا چاہیے تھا لیکن اگر اپنے اپ کو رکھ کر سوچیں اس ماحول میں کہ جب ایک مشتعل ہجوم اپ کی بیوی کو اپ کے ساتھ جو موجود خاتون ہے اس کو گالیاں دے رہا آپ کو خطرہ ہو کسی قسم کا نقصان پہنچا دے گا تو آپ اس صورت میں اس ہجوم کی منت سماجت تو نہیں کریں گئے آپ کوشش کریں گئے وہاں سے کسی طرح اپنی خاتون کو بچا کر نکل جائے اسکے لئے آپ کچھ نا کچھ تو کریں گئے اور وہ ہی کرنل صاحب نے کیا طلعت حسین
جب آپ پنجاب کی عوام کے گھروں کی دہلیز پر منرل واٹر پہنچا رہی ہوں
تو عوام کیوں پیچھے رہ جائے عوام بھی اپنے محسن کی تصویر کو منرل واٹر سے دھوسکتی ہے
عوام کی اس محبت کے جذبے کو کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا
#ڈالر_خور_یوتھیوبرز
@SHABAZGIL کُتے دیا پلیا۔ جب تم لوگ باجوہ کو اپنا باپ مانتے تھے تب تم سبکی ماؤوں کے ساتھ باجوہ سوتا رہا تھا۔ کھوتے دیا کھُرا اپنی بہنوں ماؤں کو پیش کرتے ہوئے تم لوگوں کو خاندانی روایات یاد نہیں آتی تھیں۔ تو کس قصور ہے
ایک سانس میں تلاوت اور پھر حاضرین کی قاری سے محبت۔۔۔❤️❤️
ایک بات جو میں نوٹ کی ہے، عقیدت مند نے قاری صاب کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی لیکن قاری صاب نے ہاتھ چومنے نہیں دیا۔۔۔
انٹرنیشنل میڈیا نے بھی یوتھوبڑوں اور تاریک انتشار کے جعلی ہرپیگینڈا کی ہنڈیا بیچ چوڑاہے پھوڑ دی۔
نہ نیازی پر تشدد ہوا اور نہ ہی وہ قید تنہائی میں ہے۔ تین سال کی قید میں نو سو ملاقاتیں کر چکا یعنی ہر دوسرے روز اس کی ملاقات ہوتی ہے، اگر یہ تنہائی ہے تو پھر قید کیا ہوئی
@Aleema_KhanPK@Noreen_KhanPK
مرشدی کی آہ و بکا
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا
شفا دکھا کے ہمیں تُو پمز لے گیا
ہم نے تو باندھ رکھے تھے شفا کے سبھی خواب
نسخہ مگر سرکار کا کچھ اور ہو گیا
کہتے تھے آنکھ دیکھنے شفا ہی جائیں گے
آنکھیں کھلیں تو راستہ پمز کا ہو گیا
ہم نے کہا کہ مرشد یہ وعدہ تھا شفا
بولے کہ وقت بدلا، ارادہ بدل گیا
گاڑی چلی تو دل میں شفا کی تھی آرزو
موڑ آیا ایک، خواب وہیں دفن ہو گیا
مرشد نے مسکرا کے کہا، فکر مت کرو
ہسپتال جو بھی ہو، علاج تو ہو گیا
ہم نے کہا حضور یہ کیسا ہے انقلاب
منزل شفا تھی، راستہ پمز کا ہو گیا
کاغذ پہ تھا شفا، لبِ مرشد پہ بھی شفا
عملی قدم اٹھا تو پمز ہی رہ گیا
اب پوچھتے ہیں لوگ کہ قصہ تھا اصل کیا
ہم نے کہا کہ وعدہ بھی “نظرِ ثانی” ہو گیا
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا
شفا دکھا کے ہمیں تُو پمز لے گیا
چاند رات!!
کوئی عاصم منیر کے خلاف بات نہ کرے کوئی ہسپتال کا رخ نہ کرے کوئی عدلیہ کے خلاف بات نہ کرے یوتھئے ایک دوسرے کو سمجھا رہے تھے اور پھر اچانک ۔۔۔۔۔
یوتھیو کو جمعہ مبارک
@LegiMian جتنے بھی یوتھئیے ہیں تمام پہ سمیت کانے دجال کے اللہ کی پھٹکار صاف جھلکتی ہے۔ کیونکہ جھوٹے بدکردار اور زانیوں کا صاف پتہ چلتا ہے انکی شکلیں دیکھ کر
یوتھیے اور ایکسپائرڈ آنٹیاں یوٹیومرز الشفاء ھاسپٹل کے باہر خالی گاڑیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے جبکہ فتنہ خان پمز ہسپتال میں تھا اور وہاں سے طبی معائنے کے بعد اڈیالہ پہنچ چکا تھا۔
راولپنڈی انتظامیہ چھاگئی، ویلڈن ویلڈن 👏
ک لراجہ بازار میں 4، 5 فٹ تک پانی کھڑا تھا، اور یوتھیے، پپلوتھیے ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ رہے تھے، آج یہ بازار میں ایک انچ بھی پانی نظر نہیں آرہا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف اور ان کی قیادت میں کام کرنے والی پنجاب بھر کی انتظامیہ قابل تعریف ہے.
@MaryamNSharif
#مریم_نواز_کا_پنجاب
عمران خان کا دورِ حکومت سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال تھا، انہوں نے طاقت کے نشے میں انسانیت اور اخلاقی قدروں کو پامال کیا گیا۔ وہ بے حس اور ظالم حکمران ایک بیمار قیدی کی تکالیف کا تمسخر اڑاتے اور بیماری پر گھٹیا سیاست کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے محسن اور شوکت خانم ہسپتال کے لیے سب سے زیادہ عطیہ دینے والے عارضہ قلب میں مبتلا قیدی، نواز شریف کی زندگی کو بدترین سیاسی انتقام کی خاطر داؤ پر لگایا۔جس شخص کی متعدد بار اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہو، جس کے دل کی نالیوں کا پروسیجر ہو چکا ہو اور جسے جیل کی سخت قید کے دوران بار بار انجائنا کے شدید دورے پڑ رہے ہوں، اس کے علاج میں 49 دن تک التواء پیدا کیا گیا تھا ، یہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک تو بعد میں نیب کی کسٹڈی میں گرنا شروع ہوئے تھے اور ان کے عارضہ قلب کی وجہ سے جان کو شدید لاحق خطرات لاحق ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود اس حکومت کے وزراء اور رہنما ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر مریض کے علاج، رپورٹس اور ہسپتال منتقلی کا مذاق بناتے رہے۔
نواز شریف ہی نے عمران خان کو گھر کے لیے دو پلاٹ دیے تھے اور شوکت خانم ہسپتال کے لیے بھی زمین کا عطیہ دیا تھا۔ خود عمران خان نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ہسپتال کی تعمیر پر کل 70 کروڑ روپے کا خرچہ آیا تھا جس میں سے 50 کروڑ روپے میاں شریف نے دیے تھے۔ یہی نہیں بلکہ عمران خان 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی نواز شریف ہی کی بدولت کپتان بنے تھے، ورنہ ان کا کرکٹ کیریئر اس سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا، مگر اس محسن کشی اور سیاسی بغض نے انسانیت اور اخلاقیات کے تمام تقاضوں کو یکسر فراموش کر دیا تھا ،پھر بھی ہم عمران کی صحت کے لئے دعا گو ہیں