Dedicating this song to Shaheed Ali Bilal, known affectionately as Zille Shah. He loved his country in a very special way. His violent death through custodial torture shows the depths to which the corrupt, ruthless & cruel ruling elite has sunk.
قصور میرا اتنا ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوں ، اور مجھے اس بات کا فخر ہے-
نہ میں انتشار پسند ہوں، نہ ہی میں نے کبھی انتشار پھیلایا ہے-
وڈیو ثبوت بھی ہے کہ میں لوگوں کو روک رہی ہوں-
#ReleaseDrYasminRashid
تاریخ ساز دن، تاریخ ساز لیڈر
میدان کھیل کا ہو یا سیاست کا - دونوں کا ناقابلِ شکست بادشاہ عمران خان
آج سے 34 سال قبل، 25 مارچ 1992 کو عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا۔
آج 34 سال بعد 25 مارچ 2026 اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے لڑتا امت مسلمہ کا لیڈر اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہے۔
خان کی قیادت جو ہمیشہ بہادر��، ایمانداری اور جیت کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور جیت اس کا مقدر ہے!
انشاء اللہ
#KaptaanAndHisTigers
#ShameOnJudges
ایران اور امریکہ کی شرائط میں فرق
امریکی شرط نمبر 1: ایران نے 60 پرسنٹ یورینیم جو کارآمد بنا لی ہے اسے امریکہ کے حوالے کر دیا جائے
شرط نمبر 2: ایران آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھول دے
ایرانی شرط نمبر 1: ایران پر پابندیاں ختم کر کے جینے کا حق دیا جائے
شرط نمبر 2: ایران کے نقصان کا ازالہ کیا جائے لگ بھگ (100 ارب ڈالرز ) ایران مانگ سکتا ہے
شرط نمبر 3: ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے سبب ٹول ٹیکس نافذ کرے گا جیسا کہ باقی دنیا میں ہوتا ہے
شرط نمبر 4: ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کی جائے گی ضمانتیں دی جائیں
شرط نمبر 5: حزب اللہ پر حملوں کا خاتمہ اور خلیج میں امریکی اڈوں کا مکمل اختتام کیا جائے
ایران اور امریکی مطالبات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ عمران ریاض خان
افغانستان کی پالیسی پر بولو تو کہتے ہیں افغانستان چلے جاؤ۔
ایران کے معاملے پر بولو تو کہتے ہیں ایران چلے جاؤ۔
کیوں یہ تمہارے باپ کا ملک ہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی 🔥
ایران کے تازہ حملے کے پس منظر میں اب سامنے آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ایران کا کویت کے بندرگاہ پورٹ شعیبہ پر امریکی فوجی مرکز (US tactical operations center) پر حملہ توقع سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ اس حملے میں 30 سے زائد امریکی فوجی اسپتال منتقل ہوئے، جن میں سے تقریباً 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں دماغی چوٹ، شیل کے ٹکڑوں کے زخم، اور شدید جلنے جیسے زخم لاحق ہوئےاس خبر کی تصدیق یروشلم پوسٹ نے کی ہے، جس کے مطابق ابتدائی طور پر امریکی دفاعی حکام نے زخمیوں کی تعداد کم ظاہر کی تھی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ حملے کی شدت زیادہ تھی اور اس کے جانی و جسمانی نقصان بہت زیادہ تھے۔
بریکنگ نیوز 🚨
ظالمو بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے 🔥
🇺🇸🇵🇰
امریکہ کا پاکستان کے آرمی چیف کو سخت پیغام: وقت ختم، پابندیوں کے لیے تیار ہو جاؤ
امریکی کانگریس کے 44 ارکان نے سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو ایک سخت خط لکھا ہے جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ صحافیوں، سیاسی مخالفین اور یہاں تک کہ امریکی شہریوں کے خلاف عالمی سطح پر کریک ڈاؤن چلا رہے ہیں۔
ثبوت بہت سنگین ہیں:
- امریکی صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، صرف اس لیے کہ انہوں نے فوجی کرپشن بے نقاب کی۔
- مشہور موسیقار سلمان احمد کے خاندان کو اغوا کیا گیا، ایف بی آئی اور سٹیٹ ڈی��ارٹمنٹ کی مداخلت کے بعد رہا ہوئے۔
- عام شہریوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں، عدلیہ کی آزادی ختم۔
- پرامن احتجاج کو جرم قرار دے دیا گیا۔
- 2024 کے الیکشن دھاندلی کا شکار، اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا گیا، میڈیا کو خاموش کر دیا گیا۔
- خواتین، اقلیتوں اور بلوچ کارکنوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
- امریکی شہریوں کو پاکستان کی فوج کی طرف سے امریکی سرزمین پر بھی ہراساں اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
کانگریس نے صاف الفاظ میں کہا ہے:
جنرل عاصم منیر اور ملوث تمام افسران پر گلوبل میگنٹسکی پابندیاں، ویزا بین، اور اثاثے منجمد کیے جائیں۔
عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اب خالی چیک نہیں چلیں گے۔
اب خاموشی نہیں چلے گی۔
امریکہ آمروں کا ساتھی نہیں بنتا۔
ماخذ: @FirstPakGlobal، @RepCasar، @RepJayapal
ایک بے نامی سینیٹر کی بیہودہ گفتگو پہ پاکستان تحریک انصاف کا ردِ عمل:
پاکستانی عوام نے بے نامی جائیدادیں سنی ہونگی، بے نامی بینک اکاؤنٹس بھی دیکھے ہیں اور بے نامی لین دین بھی بہت دیکھ چکے ہیں مگر ملک کے سیاسی کباڑ خانے سے پچھلے کچھ برس برس میں ایک نیا تماشہ بھی نکلا ہے، ایک بے نامی سینیٹر! یہ وہی شخص ہے جو ہر وقت پھ��ے ہوئے مائیک کی طرح مسلسل شور مچاتا رہتا ہے، اور جس کی پوری سیاست صرف غیر مہذب زبان، دھمکیوں اور بازاری جملوں پر کھڑی ہے۔
اس بے نامی سینیٹر نے جو رکیک، گھٹیا اور لچر زبان استعمال کی، وہ اس کے اپنے ذہنی معیار اور "غیر سیاسی" ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کل تک یہی شخص عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں اپنا ’’والد جیسا‘‘ قرار دے کر سیاسی سایہ تلاش کرتا تھا، اور آج اپنی سیاسی یتیمی چھپانے کے لیے اسی عمران خان اور ان کی فیملی پر حملہ آور ہے۔
عمران خان اور انکی اہلیہ محترمہ بشریٰ عمران صاحبہ جو اس وقت سیاسی انتقام پر مبنی ڈھائی سو سے زائد جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں انکے بارے اس طرح کی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔
عمران خان سر جھکانے کے بجائے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ بے نامی کردار اپنی پوری زندگی دوسروں کے اشاروں پر بول کر گزارتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے منہ سے نکلنے والے ہر جملے میں بدزبانی ہے، منفی سوچ ہے اور ایک شدید خوف چھپا ہوا ہے۔
اس شخص کا عدالت کے فیصلے کے بارے میں ’’ایسی کی تیسی‘‘ کہنا کسی سیاسی جماعت یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست عدالتِ عالیہ کی توہین ہے، پہلے بھی یہی بے نامی کباڑی سینیٹر سپریم کورٹ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ چکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی عمران خان کی فیملی، وکلاء اور رفقاء کی ملاقاتوں کو بنیادی حق قرار دے چکی ہے۔ اسکے باوجود عدالت کے احکامات کی تذلیل کرنا اور فیصلوں کو روندنے کی دھمکی دینا نہ صرف جرم ہے بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ یہ شخص خود کو قانون سے بڑا سمجھتا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کے بارے میں جو بازاری زبان اور دھمکیاں دی گئیں، وہ لاقانونیت اور سیاسی غنڈہ گردی کا ثبوت ہیں۔ ایک غیر منتخب، بے اختیار، بے مقصد سینیٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے حامل وزیراعلیٰ کو بیہودہ دھمکیاں دے۔ ایسا رویہ نہ س��اسی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی قانونی۔
رہی بات اُس کے بلند بانگ دعوؤں اور گیدڑ بھبکیوں کی تو قوم جانتی ہے کہ یہ اس بے نامی شخص کی صرف ٹویٹر اور ٹاک شوز کی آوازیں ہیں اور حقیقی سیاسی وزن سے خالی۔
جنہیں اپنی پہچان بنانے کے لیے دوسری طاقتوں کے کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سیاسی رہنما نہیں، سیاسی بھانڈ ہوتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عمران خان کی عزت، انکی فیملی کی حرمت، اور عدالتوں کے فیصلوں کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ فیملی ملاقات کو سیاسی کہہ کر روکنے کی کوشش دراصل اس ذہنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے جو ان قوتوں کو عمران خان کے بڑھتے ہوئے ��وامی اعتماد سے لاحق ہے۔
عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون زبان درازی کر رہا ہے، کون عدالتوں کو للکار رہا ہے، کون دھمکیوں کے ذریعے سیاسی ماحول کو آلودہ کر رہا ہے، اور کون جمہوری قدروں پر کھڑا ہے۔
وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے اور وہ فیصلہ ہمیشہ عمران خان کے حق میں آیا ہے، اور آئندہ بھی آئے گا۔
منجانب
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف