For now Imran Khan sits in a seven-by-eight-foot cell, with only an exercise bike and a few books for company. But the former prime minister could still have a hand in the fate of Pakistan’s leadership https://t.co/xOv7t2XwLs
This verdict, which is an affront to the right to a fair trial, demonstrates how Pakistan’s anti-terrorism laws are being cynically misused to silence peaceful dissent.
https://t.co/X2cpyNzCG0
Not just cricket lovers, but anyone committed to democratic values should back Greg Chappell and the group of former captains on this: the continued incarceration of Imran Khan is a BLOT on the Pakistani state. Nearly three years in jail, with Pakistan’s most popular political leader effectively kept out of the political arena, raises troubling questions about democracy, due process and the rule of law.😡
مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا ہو جانا پاکستان کے ساتھ غداری ہے، جیسے شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں سزا دینا اس ملک کے ساتھ غداری تھی۔ ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک، سب جرنیلوں نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو فروغ دیا ہے۔ غدار مہرنگ نہیں، غدار تم ہو!
ایک آرمی چیف دنیا کے اسٹیج پر ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم کی آئینی حیثیت کو ثانوی کر رہا ہے، جو پہلے ہی غیر آئینی وزیرِ اعظم ہے۔
اس کی آئینی سزا عاصم منیر کو ہی بھگتنی پڑے گی!
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
#whereisimrankahn
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
جن شہباز گل ، مرزا شہزاد اکبر پر بدترین جسمانی تشدد ہوا ، تیزاب پھینکا گیا ، اہلخانہ اٹھائے گئے ان پر الزام تراشیاں وہ کررہا ہے جو گنڈاپور حکومت میں بھی تھا سہیل آفریدی کی حکومت میں بھی ہے۔ جو وفاق سے غیر ضروری تعاون کا بھی حامی ہے۔ جو بجٹ سرپلس کا بھی حامی ہے۔ جو عسکری منرلز بل کا بھی داعی تھا۔ جسے عمران خان حکومت میں ٹویٹس کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔
مزمل اسلم جیسے لوگ تحریک حقیقی آزادی پر بوجھ ہیں۔ شہباز گل اور مرزا شہزاد اکبر اس جدوجہد کے درخشاں ستارے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ شکر خور عسکری اثاثے قربانیاں دینے والے اور مشکلات جھیلنے والے لوگوں کو اوورسیز ، ڈالر خور اور اس طرح کے الزامات لگا کر اپنا آپ چھپانا چاہتے ہیں۔مزمل اسلم اب بیرسٹر سیف جیسے انجام کے لیے تیار رہے۔
This is the only story that matters when it comes to Pakistan. 👇
For nearly 3 years former Prime Minister Imran Khan has been in a death cell, and from what the reports suggest, has gone blind in one eye due to torture at the hands of the current brutal military dictatorship in Pakistan. And for last 6 months especially he has been in total isolation facing psychological torture with no meetings with family.
This is how terrorists are treated in prison cells the way former Prime Minister, a Cricketing Hero, and someone who built cancer hospitals for the poorest in the country is being treated.
At the moment there is no proof of his life and has become a missing person by an illegitimate military regime. This unpopular regime is only able to maintain its grip on power through foreign endorsement and backing from Western liberal democracies, Arab Monarchies, and the US that find a compliant military dictator in Pakistan to be more useful than a stable and sovereign democracy.
The ultimate price of a dictatorship is paid by the 240 million people in the country.
Free Imran Khan!
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
اب نہیں تو کب؟ 🚨
جس طرح کشمیر اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہے، اگر اسی طرح پورا پاکستان نکل آئے تو عمران خان کی رہائی یقینی ہے!
طاقتور کو صرف عوامی سیلاب ہی روک سکتا ہے۔ مزاحمت ہی واحد راستہ ہے! ✊🔥
ہم ڈرے سہمے ہوئے پنجابی جنہوں نے کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہونا تھا آج کشمیریوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ ظالم کیخلاف ہمارے حصے کی جدوجہد بھی کریں تاکہ شاید ہمیں غیرت آجائے!
کشمیر کو جلیانوالہ باغ بنا دیا گیا ہے، اپنے ہی بیٹوں پر گولیاں چلائیں گئیں، انکی لاشیں گرائی گئیں، کوئی اس پر بات کریگا؟
اسے پہلے 9 مئی کو قتلِ عام ہوا، ڈی چوک پر اپنے ہی شہریوں کا خون بہایا گیا۔ مریدکے سے پختونخوا تک، بلوچستان سے راولاکوٹ تک، اس ملک کو قبرستان بنا دیا گیا ہے۔
ان حالات کا ذمعہ دار عاصم منیر ہے۔ پاکستان پاکستانیوں کا ہے تم جرنیلوں کا نہیں! اپنے بیرکوں میں واپس جاو نہیں تو پورا پاکستان کشمیر بن جائیگا!
Pakistani authorities must take immediate steps to deescalate the situation and practice restraint and strict adherence to international standards on the use of force.
https://t.co/Dwlq5CAKbi
مرض بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔
غاصب عاصم منیر کے حکم پر نہتے اور پُرامن پاکستانیوں کے قتلِ عام کے پانچ ہولناک واقعات:
1. لاہور، 9 مئی 2023
2. اسلام آباد ڈی چوک، 26 نومبر 2024
3. آزاد کشمیر، 1 اکتوبر 2025
4. مریدکے، 13 اکتوبر 2025
5. راولاکوٹ، 8 جون 2026
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔”
- عمران خان
#ذہنی_مریض
Leaked document shows that the Pakistani military-backed government stopped polling results from coming out in Gilgit-Baltistan elections. Reports of massive rigging have poured in from the region.