کوفہ میں جس مقام پہ مولا علیؑ کا گھر ہے، اس کی دیوار کے بلکل ساتھ ہی ایک کھلا میدان ہے جہاں اب جھاڑیاں اور گھاس وغیرہ ہے، بیتِ علیؑ کے صدر دروازہ کے سامنے کھڑے ہوکر دیکھیں تو چمکتا دمکتا ایک سنہری گنبد نظر آتا ہے، یہ گنبد مسجد کوفہ میں ہے، مولا علیؑ کے گھر کے ساتھ جو میدان ہے وہاں صدیوں پہلے دارالامارہ تھا جہاں کسی زمانے کوفہ کا گورنر ابن زیاد تخت پہ اپنے غرور تکبر کے ساتھ براجمان نظر آتا تھا، مسجد کوفہ میں جو گنبد ہے اس کے نیچے امام علیؑ کے بھتیجے اور امام حسینؑ کے چچا زاد جناب مسلم بن عقیلؑ کی مرقد منور ہے،
جناب مسلم بن عقیلؑ کو امام حسینؑ نے اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر امامؑ کو خط لکھ کر آگاہ کریں۔ کوفہ پہنچنے کے بعد پہلے دن ہی ہزاروں لوگوں نے امام حسینؑ کے حق میں بیعت کی، حکومت کو اطلاع ملتے ہی کوفہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا، شیعانِ علیؑ کو قید میں ڈالنا شروع کردیا گیا، کوفہ سے باہر کسی بھی شخص پہ نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ آخر نوذولحج کو حضرت مسلم بن عقیلؑ کو تنہاء دیکھ کر گھیر لیا گیا، ہاشمی خون تھا ، جھکنا ان کے خون میں شامل ہی نہیں تھا جس قدر ہوسکا جنگ کی، کئی یزید کے پالتو کتوں کو واصل جہنم کیا آخر قید کرکے ابن زیاد کے سامنے پیش گیا، ابن زیاد نے کہا مجھے اپنا امیر تسلیم کرو جناب مسلم کا تاریخی جملہ جو آج بھی مشہور ہے، آپ نے فرمایا میرے "امیر فقط حسین ابن علیؑ" ہیں، آخر سزائے موت سنائی گئی، دارالامارہ کی چھت پہ لے جاکر ہاتھ باندھ کر چھت سے نیچے پھینک دیا گیا، آپکے ساتھ جانثار ساتھی ہانی بن عروہ کو بھی شہید کیا گیا ، اس کے بعد سر قلم کرکے دونوں لاشوں کو رسیوں سے باندھ کر کوفہ کی گلیوں میں پھرایا گیا، بعد میں لاشے کو کوفہ کے صدر بازار پہ لٹکایا گیا۔ یوں مسلم بن عقیلؑ کربلاء کے معرکہ کے پہلے شہید ٹھہرے۔ ہانی بن عروہ کے قبیلہ کے لوگوں نے مزاحمت کرکے ان دونوں شہداء کے جسد مسجد کوفہ کے احاطہ کے قریب دفن کردیا۔
اس واقعہ کو کئی سو سال گزر گئے، آپ آج کوفہ جائیں تو ابن زیاد کے اس دارالامارہ کے کہیں نشانات نہیں ملتے اور نہ ہی ابن زیاد کی قبر کا کسی کو پتہ مگر کوفہ کا وہ مظلوم جس کی لاش کی پامالی کی گئی ان کی قبر آج مرجعِ خلائق ہیں ۔
معصوم۔ع کا فرمان ہے کہ کفر کی حکومت رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں۔ اور آج یزید اور اس کے چاہنے والوں کا کہیں نام و نشان نہیں مگر حق پرستوں کی قبور بھی آج وسیلہِ نجات بن چکی ہیں۔
نو ذلحج شہادت حضرت مسلم بن عقیل و ہانی بن عروہ۔
علی اصغر
@Khurram85881594@Eshaal0 حلال اور حرام ان جیسے لوگوں کے دماغوں میں اب ایک جیسا ہی ہے، اس لئے لوگوں میں شک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حلال کو حرام اور حرام کو حلال میں گڈمڈ کرتے ہیں ایسے لوگ، یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ یہاں پڑھا لکھا بھی اکثر جاہل ہی ہوتا ہے،
باقر العلوم امام محمد باقر ص فرماتے ہیں۔۔
“حضرت فاطمہ ص کی اطاعت تمام مخلوقات پر واجب ہے، چاہے وہ جنات ہوں یا انسان ، چرند ہوں یا پرند ، ملائکہ ہوں یا انبیاء۔۔”
🔹امام باقر علیہ السلام نے فرمایا::_
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت۔
اور جس شان سے روزِ غدیر ولایت کا اعلان کیا گیا، کسی اور چیز کا اس انداز میں اعلان نہیں ہوا۔
📕الکافی، ثقة الإسلام کلینی، ج2، ص21
@SyedMMehdi 🔹امام باقر علیہ السلام نے فرمایا::_
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت۔
اور جس شان سے روزِ غدیر ولایت کا اعلان کیا گیا، کسی اور چیز کا اس انداز میں اعلان نہیں ہوا۔
📕الکافی، ثقة الإسلام کلینی، ج2، ص21
🤍🤍
देने वाले ऊपर वाले है जब सब मिल जाए तो उन्हें नहीं भूलना चाहिए वरना कब कैसे बदल जाता कोई नहीं समझ सकता है इसलिए ईश्वर को धन्यवाद करते रहना चाहिए...!!
@Eshaal0 یہ بھی ایک زندگی ہے جو ایسی کھوج کو خود نہیں پورا کر سکتے وہ لوگ پھر فقراء اور اولیاء کے در پر جاتے رہتے ہیں جہاں سے روحانی فیض اور سکون پا سکیں، زندگی میں کوئی ایک مقصد ضرور ہونا چاہیے جس سے زندگی کی تکالیف کا احساس بھی کم ہوتا ہے،
مرتضی' ع کو خانہ زادِ ربِ اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمّبر ص نے بڑا گھر دیکھ کر
1 ذوالحج❣
ﻋَﻘـﺪِ مــولا ﺍَﻣِــﯿﺮِﺍﻟﻤــﻮﻣﻨﯿﻦؑ
ﻭ ﺳــﯿﺪة ﻧِﺴــﺎﺀِ ﺍﻟﻌــﺎﻟَﻤِـﯿﻦؑ
بہت بہت مــبارک💐🎉