@tristao_fa80090@__PASMANTAP اپ دین اسلام کو قبول کرو، یہ جو اپ لوگ غلط راستے پہ جا رہے ہو، دیکھے اس صلیب نشان نے خود ایک قتل کیا، اس کا مطلب ہے کہ یہ غلط راستہ ہے
To all my Christians brothers, with a heart full of love, I am calling you to come and accept Islam the true religion, the only religion accepted by God, before it's too late🙏
May Allah guide us all🙏
مراد سعید کی یہ پوری تقریر سن لے۔ اپ کو خیبر پختون خوا میں گورنر راج کے بارے میں معلوم ہو جاۓ گا۔ کہ کیسے پانچ کروڑ ووٹرز کے منتخب حکومت کو گرایا گیا۔ پوری سن لے تاکہ گیم سمجھ آجاۓ
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر ب��ی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
عمران خان گرفتار
بشری بی بی گرفت��ر
علیمہ خان گرفتار
نورین نیازی گرفتار
ڈاکٹر عظمی خان گرفتار
حسان نیازی گرفتار
قاسم زمان گرفتار
شرجیل نیازی گرفتار
شاہ محمود قریشی گرفتار
ڈاکٹر یاسمین راشد گرفتار
عالیہ حمزہ گرفتار
حماد اظہر گرفتار
میاں محمود الرشید گرفتار
اعجاز چوہدری گرفتار
عمر سرفراز چیمہ گرفتار
وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار
شاہد خٹک گرفتار
جنید اکبر گرفتار
خالد خورشید گرفتار
عبداللطیف چترالی گرفتار
صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اغوا
صوبائی وزیر فضل شکور اغوا
صاحبزادہ حامد رضا گرفتار
فردوس رائے گرفتار
صنم جاوید گرفتار
فلک جاوید گرفتار
عبدالسلام آفریدی گرفتار
م��مد ریاضُ گرفتار
سلطان روم گرفتار
یامین خان گرفتار
محمد اعظم خان گرفتار
فتح الملک ناصر گرفتار
داوڑ کنڈی گرفتار
بابر سلیم سواتی گرفتار
1500 کارکنان ایک دن
اور 1000 کارکنان ایک دن میں گرفتار
14* کارکنان 26 نومبر کو شہید
25 کارکنان 9 مئی کو شہید
8 کارکنان جیل میں علاج نا ہونے کے سبب شہید
1200 کارکن زندگی موت کی کشمکش میں ہیں تاحال مختلف انجریوں کا شکار ہیں
قاسم سوری جلا وطن
ڈاکٹر شہباز جلاوطن
ہمارے جیسے کئی لوگ جلاوطن
کئی کے رشتے ٹوٹ گئے
کئی تاحال لاپتہ
سلمان اور جہانگیر دوبئی میں گرفتار
سینکڑوں پاسپورٹ بلاک
سینکڑوں شناختی کارڈ بلاک
سینکڑوں کاروبار تباہ
بس کر دو یار ہزاروں گھر اجڑ گئے ہیں لوگوں کی زندگیاں آسان کرو ایک جماعت سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو پاکستان پر رحم کرو
یہ 22کروڑ کا ملک اب منافقت سے نہیں چل سکتا یہ کوئی طریقہ نہیں ایک جرنیل مجاہدین بناۓ اور دوسرا انہیں دہشتگرد کہے پچھلے 70سالوں سے یہ چل رہا ہے اگر ایسا چلتا رہا خدانخواستہ خدانخواستہ پھر مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ہو سکتا ہے
رانا ثناء اللہ جمہوریت پسند والا
جب جرنیل حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں تو جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں اگر وہ جھوٹی کہانیاں نہ گھڑیں تو حکومت کیسے گرائیں
یہ اپنی من پسند کی حکومتیں بناتے ہیں، جرنیلوں کا کام حکومتیں بنانا نہیں ہے جرنیلوں کا کام بیرکوں میں ہے
امیرالمومنین نواز شریف
@fkkundi اگر حکومت کے تمام سیاستدان اور میڈیا چینلز یہ بات کر رہے ہیں کہ kpk اور بلوچستان میں دہشت گردی دِن بدن بڑھ رہی ہے تو سکیورٹی کی یہ زمہ داری سیکیورٹی اِداروں کی ہے یا سیاست دانوں کی
اور 80 سال سے اگر یہ کنڑول نہیں ہو رہی تو یہ سکیورٹی اِداروں کی قابلیت اور صلاحیت پر کھلا سوالیہ نش
@murtazasolangi سولنگی صاحب، آپ نے بلاول کی قابلیت کا مقدمہ کھولا، مگر ثبوت پیش کرنے کی باری آئی تو نانا اور والد کو لے آئے۔ پوری تحریر پڑھ کر ایک سوال رہ گیا: **اس میں بلاول کی اپنی کارکردگی کہاں ہے؟**
بزرگوں کی خدمات اپنی جگہ، مگر نانا کی تاریخ نواسے کی کارکردگی نہیں بن جاتی۔ نسب نامے کو سیv
سولنگی صاحب، آپ نے بلاول کی قابلیت کا مقدمہ کھولا، مگر ثبوت پیش کرنے کی باری آئی تو نانا اور والد کو لے آئے۔ پوری تحریر پڑھ کر ایک سوال رہ گیا: **اس میں بلاول کی اپنی کارکردگی کہاں ہے؟**
بزرگوں کی خدمات اپنی جگہ، مگر نانا کی تاریخ نواسے کی کارکردگی نہیں بن جاتی۔ نسب نامے کو سی وی سمجھ لیا جائے تو پھر قابلیت جانچنے کے لیے کارکردگی نہیں، شجرۂ نسب مانگنا چاہیے!
آپ خود دونوں کو ہم عمر کہتے ہیں، پھر ایک کو بار بار ’’بچے‘‘ کہہ کر بلاول کی بزرگی ثابت کرتے ہیں۔ عمر برابر، مگر احترام کا پیمانہ الگ؟ یہ کون سا علمی تجزیہ ہے جس میں دلیل دینے سے پہلے پسندیدہ شخصیت کو فاتح اور مخالف کو کم سن قرار دے دیا جائے؟
اور یہ ’’ہزار گنا آگے‘‘ ہونے کا حساب کس ترازو پر ہوا؟ کوئی فیصلہ، کوئی پالیسی، کوئی قابلِ موازنہ نتیجہ؟ جہاں ثبوت درکار تھا، وہاں آپ رسی، گڑھا اور پھندا لے آئے۔ استعاروں کی اتنی فراوانی، دلیل کی اتنی قلت!
سہیل آفریدی سے کارکردگی ضرور مانگیے، مگر بلاول کو بھی اسی امتحان میں بٹھائیے۔ **آپ کی تحریر میں ایک سے جواب طلبی ہے، دوسرے کے لیے خاندانی حوالوں پر پورے نمبر۔**
بلاول کی برتری ثابت کرنے نکلے تھے؛ فی الحال اپنی طرف داری ثابت کرکے لوٹے ہیں۔
محسن نقوی کو زرداری اپنا بیٹا کہتا تھا زرا سوچیں اسکا کیریکٹر کیا ہوگا،
اس نے 2008 میں 35 لاکھ روپے نیب کو واپس کیا تھا اور تسلیم کیا تھا کہ میں نے چوری کی ہے۔
عمران خان
بطور صحافی میں وفاقی حکومت اور کسی صوبے کی لڑائی پہلی دفعہ نہیں دیکھ رہا کچھ سال پہلے شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کو جائز قرار دیتے تھے اسوقت کے ایک وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کیپیٹل ٹاک میں شہباز شریف کی صوبائی حکومت پر وہی الزامات لگائے جو آج کل وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خلاف لگاتی ہے ۔ شہباز شریف اپنے دفاع میں وہی کچھ کہہ رہے تھے جو آج سہیل آفریدی کہتے ہیں صرف کرادر اور مقامات بدل چکے ہیں لیکن تاریخ وہی ہے جو بار بار اپنے آپ کو دہراتی جا رہی ہے