صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا پاکستانیوں کی شہادت اور زخمیوں کی اطلاعات افسوسناک ہیں
،حکومت پاکستان/ریاست نے اپنے شہریوں کی زندگی و سلامتی سے آنکھیں بند کرلی تھیں، اس اغوا شدہ جھاز میں اشرافیہ کے بچے ہوتے تو حکومت اس طرح سنگدلی اور بےحسی کا مظاہرہ نہ کرتی،شہید پاکستانیوں کا خون شہباز حکومت کے گردن پر ہے۔
باقی ماندہ پاکستانی شہریوں کی جان بچانا اولین ترجیح قرار دی جائے اور تمام یرغمال پاکستانیوں کی محفوظ اور فوری رہائی کے لیے صومالی حکومت، متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے مؤثر سفارتی رابطہ کیا جائےاور اگر یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کے لیے قانونی دائرے میں مالی ادائیگی یا تاوان ناگزیر ہو تو حکومت فوری اقدام کرے۔
اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں
جاں بحق پاکستانیوں کے خاندانوں کو فوری مالی معاوضہ، ریاستی امداد اور قانونی معاونت فراہم کی جائے۔
زخمی پاکستانیوں کے مکمل علاج اور بحالی کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے۔
جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں باعزت طریقے سے پاکستان منتقل کی جائیں اور اہلِ خانہ کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزارتِ خارجہ متاثرہ خاندانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرے اور صومالیہ سمیت متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ سفارتی رابطہ مؤثر بنائے۔وزارتِ میری ٹائم افیئرز اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی پاکستانی بحری عملے کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی پروٹوکول نافذ کریں، خصوصاً خطرناک سمندری علاقوں میں۔
حکومت پاکستانی بحری کارکنوں کے لیے مستقل حفاظتی اور ہنگامی امدادی نظام قائم کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو۔حکومت واقعے اور اٹھائے گئے اقدامات پر پارلیمان اور عوام کو مکمل بریفنگ دے اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت معلومات فراہم کرے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
ہم دوسرے ممالک کو تحفظ فراہم کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں لیکن افسوس کہ پانچ ماہ تک کئی پاکستانی سیلرز صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال رہے لیکن حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اپیلیں جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا یہ آپریشن ہماری سکیورٹی فورسز نے کیوں نہیں کیا؟ اگر ریاست پاکستان اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کر سکتی تو دوسرے ممالک میں جا کر دوسروں کو تحفظ کیسے فراہم کریگی؟
*سابق اسرائیلی فوج�� کی قائم کردہ امریکی ڈرون کمپنی Powerus سے پاکستان کے معاہدے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور فوری طور پر اس معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ کرتاہوں،یہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی فلسطین پالیسی سے انحراف ہے۔یہ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔
پاکستان ایک طرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور غزہ میں اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب سمجھتا ہے، جبکہ دوسری جانب سابق اسرائیلی فوجی افسر کی قیادت میں چلنے والی ڈرون کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر رہا ہے۔ جبکہ یہی کمپنی ڈرون گرانے والے interceptor میزائل انڈیا کو بھی فروخت کررہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون کمپنی *Powerus*، جس کے بانی سابق اسرائیلی فوجی *زیو م��روم (Ziv Marom)* ہیں، جبکہ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی فنڈنگ حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کمپنی کے عملے کے ساتھ راولپنڈی میں *فیلڈ مارشل عاصم منیر* کی سربراہی میں ایک میٹنگ کی گئی۔
اسی کمپنی *Powerus* نے اعلان کیا ہے کہ اسے پاکستان کی وزارتِ دفاع سے بغیر پائلٹ فضائی نظام (Unmanned Aerial Systems) کے لیے ایک "محدود خریداری کا آرڈر" موصول ہوا ہے اور وزارتِ دفاع کے ساتھ ایک میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MOU) بھی دستخط کیا گیا ہے۔ تاہم، اس آرڈر کی مالیت اور اس میں شامل ڈرون سسٹمز کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
مسلمانوں کے مقدس مقام قبلہ اول مسجد اقصی کو گرانے کی تیاریاں تیز ہوچکی ہیں
یہ صہیونی درندہ مجرم مسجد اقصی کے نیچے کھودی جانے والی سرنگ میں کھڑا ہو کر کہہ رہا ہے کہ
میں کام مکمل کروں گا
یہ سب کچھ یہودیوں کا ہے
کیا اب بھی مسلمان غافل ہیں ؟
کیا یہ ایران یمن سعودی لبنان غزہ سب تنازعات فراڈ ہیں؟
یہ کنٹینروں کی قلعہ بندیاں حکمرانوں کو عوام کے غیظ و غضب سے نہیں بچا سکتیں۔ پورا اسلام آباد کنٹینرز لگا کر بند کیا جا رہا ہے، کیونکہ حکمران عوام، احتجا�� اور آزادیِ اظہارِ رائے سے خوفزدہ ہیں۔ ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، دوسری طرف حکمران طبقہ شاہ خرچیوں اور پروٹوکول پر قومی وسائل خرچ کر رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ ہم اس طرزِ حکمرانی کی مذمت کرتے ہیں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے پُرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں۔ کنٹینرز اور رکاوٹیں عوام کی آواز کو نہیں روک سکتیں۔ ان شاء اللہ قانون کی حکمرانی، حقیقی جمہوریت اور خودمختار پارلیمنٹ کا نظام مضبوط ہوگا۔
پاکستان رائٹس موومنٹ
دنیا و آخرت کے 99 بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کریں!!!
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
لاحول ولا قوۃ الا باللہ ننانوے (دنیاوی اور اخروی) بیماریوں کی دوا ہے جس میں سے ادنیٰ بیماری (دنیاوی و اخروی) غم ہے۔
(مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر 2349)