امام شافعي رحمه اللہ سے سوال کیا گیا:
اللہ سے بدگمانی (کرنے یا رکھنے) سے کیا مراد ہے؟
انہوں نے فرمایا: وسوسوں کا شکار رہنا، مصیبت میں پڑنے کا مسلسل خوف اور نعمتوں کے چھن جانے کا دھڑکا لگا رہنا، یہ سب غفور و رحیم ربّ سے بدگمانی کی صورتیں ہیں۔
{حلية الأولياء لأبي نعيم : ۱۲۳/۹}
اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے ، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما ۔ بیشک تیری ، اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔
﴿سورۃ آل عمران،۸﴾
انمول ہوتےہیں
وہ لوگ جوخاموشی سے آپکی زندگی میں آتےہیں
آپکی زندگی میں کوئی ویلیو ایڈ کرتےہیں
لیکن اپنانام پتا اپنی شخصیت بھی عیاں نہیں کرتے
گمنام رہتےییں بدلےمیں آپ سےکچھ نہیں چاہتے۔
بس آتے ہیں اللہ کی رضا کےلیے،اور اپنا کام سرانجام دینےکےبعد خاموشی سے آپکی زندگی سے چلےجاتےہیں۔