ابن خالتي ليلة فرحه خلص الفرح وراح مع عروسته وتاني يوم الصبح أمه راحت تزورهم عشان تباركلهم لقت ابنها مش موجود والعروسة قاعدة لوحدها وبتعيط.
سألتها مالك يابنتي وابني فين؟
قالتلها والله ما أعرف نزل نن الشقة امبارح
وقالي عندي مشوار نص ساعة وراجع ومن ساعتها مختفي ومش بيرد علي تليفونه
أمه اتجننت واتصلت بأخواته وخالاته ومل واحد بدأ يخمن سبب اختفائه واحد قال أكيد حصلت مشكلة بينه وبين العروسة والتاني قال يمكن ندم علي الجوازة.
بعد ٣ ساعات ابن خالتي رجع البيت ووشه مخطوف وأول ما أمه سألته كنت فين يا ابني رد عليها بكلمتين خلوا الكل بيبص لبعضه في صدمة.
سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا ہے۔
اس میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنیوالے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں۔
پہلا واقعہ:
مجھے آیرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔
اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔
ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ "آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے۔ ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جارہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے"
حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!!
دوسرا واقعہ:
میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔
ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھ رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے۔
مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟
اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔
میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا پیچ رہے ہیں۔
میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہوجائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔
اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔
میں نے دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو ۔ کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا۔
اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا :
:کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟؟؟
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟
یہ کون سا اخلاق ہے؟
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا۔
یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے ۔
یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن؟
اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں ؟
جگاڑ میں حلال حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں۔
عوامی مقامات پر کسی پر بھی طنز بھرے جملے کسنا نارمل ہوتا جا رہا ہے اور یہ نارملائزیشن بدقسمتی سے خان صاحب کے سوکالڈ فالورز کر رہے ہیں ، شاید ان کا دیا گیا شعور یہی ہے۔
ائیرپورٹ پر بھائی @iqrarulhassan پر ایک صاحب نے باوردی ہونے کے باوجود سیاسی طرز کا تبصرہ کر کے تمسخر اڑانے کی کوشش کی اور مولانا @TahirAshrafi صاحب پر بھی ایک ویڈیو میں ہجوم کو جملے کستے دیکھا۔
ہر انسان کا دوسرے کے ساتھ اختلاف رائے ممکن ہے مگر اختلاف رائے ذاتی نوعیت کی دشمنی بنا لینا شعور نہیں بدترین جہالت ہے۔
کمیل احمد معاویہ
A billionaire walked into a five-star hotel and asked for the cheapest room they had.
The receptionist blinked, confused.
“Sir, our presidential suite has a full city view…”
جو چغد قسم کے لوگ ثاقب نثار کے ڈیم والے انصاف پر اور ماضی کے افسانوی شہرت والے تین رکن بنچ پر مطمئن رہتے تھے اور انہیں یہ سب کچھ ہمیشہ ماسٹر سٹروک ہی لگتا تھا وہ بھی پیٹ رہے ہیں کہ آئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہیں.
سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ کے بارے میں مزید ترامیم بھی آنی چاہییں.
توہین عدالت کا قانون ختم ہونا چاہیے یا اس میں اصلاح ہونی چاییے.
مقدمے کی سماعت ختم ہونے کے بعد طے ہونا چاہیے کہ اتنے دنوں میں فیصلہ سنا دیا جانا لازم ہے. یہاں 223 دن لگ جاتے ہیں.
کوئی جج اپنے شہر میں جج نہ لگے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کوئی مقامی جج نہیں ہونا چاہیے.
ججوں کی تعیناتی کا نظام بہتر ہو اور یہ تعیناتی اتنے میرے اتنے تیرے کی بجائے کسی اصول قاعدے کی بنیاد پر ہو.
جو جج آئین میں لکھے واضح اصول کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف کارروائی کی جائے. آئین کے مطابق کسی بھی عدالت میں آئینی ترمیم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی. جو ایسا کرتے ہیں ان کے خلاف ریفرنس جانا چاہیے.
جو آئین کی تشریح کے نام پر آئین سازی کریں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے.
غیر ضروری ریمارکس پر پابندی ہو.ریمارکس کے ٹکرَ چلنے پر تو بالکل پابندی ہو.
ججز کی تنخواہیں اور مراعات کم ہونی چاہییں
ان کی کارکردگی کا جانچنے کا ایک با معنی نظام ہونا چاہیے.
پچاس ساتھ ہزار مقدمے کیوں لٹکے پڑے ہیں، پارلیمان کو پوچھنا چاہیے.
پریسڈنٹ لا کا دائرہ کار محدود کرنا چاہیے. آدھے مسائل کا ذمہ دار یہ ہے.
لمبی فہرست ہے. باقی پھر سہی. جس احمق کو لگتا ہے وہ معیار حق ہے اور باقی سب منڈی کا بکاؤ مال ہے اسے آئینی ترمیم پر ووٹنگ سے پہلے ہی کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے.
اگر ہمیں اس حقیقت کا علم ہو جائے کہ ہم رنگ، نسل، مذہب اور سیاست کی بنیاد پر ساری لڑائیاں صرف ایک فیصد ایلیٹ کلاس کی خاظر اور انکے مفادات کیلیے لڑ ریے ہیں تو یہ جھگڑا اسی دن ختم ہو جائے -
پاکستانیوں کی اس سے اچھی تشریح کوئی نہیں کرسکتا😂
پاکستانی آلو کی طرح ہیں ہر جگہ فٹ ھوجاتے
اگست آئےتوپکےپاکستانی
رمضان آئےتوپکےمسلمان بن جاتے
جنگ لگے تو سب فوجی بن جاتے
الیکشن ھوں توسب سیاستدان بن جاتے
ڈاکٹر کو ملیں تو سب مریض بن جاتے
کسی مریض کو ملیں تو سب ڈاکٹر بن جاتے😂😂
پی ٹی آئی سے بلے کا نشان لینے کا فیصلہ۔۔ جس پر قاضی فائز عیسی کے سیکرٹڑی کو بھی ان سے اختلاف ہوا۔۔
فیصلے میں کیا غلط تھا۔۔سنئیے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے سیکرٹری ڈاکٹر مشتاق احمد سے۔۔
@MehmoodJan1 I think it's way forward to a more stable political government. today for N-league tomorrow may be PTI.
A stable political situation leads to prosperity
(اصل حقائق یہ ہیں وہ نہیں )
کئی غیر پختون دوست حقائق کے برعکس جذباتی انداز میں پورے پختون قوم کو چور سمگلر اور دہشت گرد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں
لیکن کیا انہوں نے کھبی یہ حقائق جاننے کی کوشش بھی کی کہ۔۔
بجلی چوری سب سے زیادہ پختونخوا میں نہیں بلکہ سندھ میں ہو رہی ھے
حالانکہ پاکستان کی %70 بجلی کا پیداوار بھی پختونخوا سے ھے جبکہ گلبرگ لاہور اور حیات آباد پشاور پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اور شفاف ریونیو دینے والی جگہیں ہیں!
بارڈر پر سمگلنگ کا الزام لگانے والوں نے کیا یہ تحقیق کی کہ
چھبیس سو کلومیٹر پاک افغان بارڈر کا ایک انچ بھی کسی پختون کی ملکیت اور اختیار میں نہیں بلکہ فوج کسٹم اور مقامی انتظامیہ ہی کے اختیار میں ہوتا ھے
اور یہاں معمولی سا نقل و حرکت بھی ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا
گویا دیہاڑی دار مزدور محض پراکسی کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں
کیونکہ بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں شدید غربت اور افلاس ھے !
دہشت گردی کے حوالے سے اٹھائے گئے سوال سے پہلے کم از کم یہ تو دیکھا جاتا کہ اس کا سب سے زیادہ نشانہ کون بنے؟
گھر بار اور اپنے علاقوں سے کون بے دخل ہوئے؟
افغان مہاجرین کو کیا پختونخوا کے لوگوں نے کیمپوں میں بسایا یا یہ ریاست کا فیصلہ تھا جسے پختون قوم نے نہ صرف سر آنکھوں پر تسلیم کیا بلکہ بعد میں اسے بھگتا بھی !
کل بھی ایمل ولی نے جلسے میں ببانگ دھل کہا کہ ہم پختون پاکستان کے علاوہ سوچ بھی نہیں سکتے!
ایک سوال یہ ھے کہ
اگر کوئی کہتا ھے کہ طالبان پختون ہیں تو پھر پنجابی طالبان جیش محمد اور حافظ سعید کہاں سے ہیں؟
کچے کے ڈاکو کون ہیں؟
کیا بی ایل اے اور مہ رنگ بلوچ پختون ہیں؟
ملک کو خون میں لت پت کر دینے والے پرویز مشرف اور ضیاء الحق کا تعلق کس پختون قبیلے سے تھا؟
آئین و قانون کو مذاق بنانے منتخب وزراء اعظم کو پھانسیاں قید و بند اور جلا وطنیوں کی سزائیں سنانے والے جسٹس منیر مولوی انوار الحق ثاقب نثار کھوسہ اور بندیال میں ایک بھی پختون جج تھا؟
اگر تھا تو وہ جسٹس وقار سیٹھ ہی تھا اور وہ دلیر تاریخ آپ کے سامنے ھے!
جب غریب پنجابی مزدوروں کو بلوچستان میں مارا گیا تو میڈیا میں سب سے پہلے اور سب سے بلند آواز اسی پختون صحافی کی تھی جبکہ پنجابی حامد میر ٹولہ کس کے ساتھ کھڑا تھا؟؟
کہنے کا مطلب یہ ہے قومی تعصب کے مریض بننے کی بجائے ایک محب وطن پاکستانی کی آنکھ سے تاریخ اور معاملات کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے
تبھی معاملات کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ھے۔
گزارش صرف یہی ھے کہ برے اور اچھے لوگ ھر جگہ ہو سکتے ہیں لیکن اس کو دلیل بنا کر پوری قوم پر الزامات لگانا نہ ہی مناسب ھے اور نہ ہی قابل قبول!!!
پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ خوش فہمی عام ہے کہ چین امریکہ اور بھارت کو زیر کرکے پاکستانیوں کے ارمان پورے کرے گا۔ ادھر حقیقت یہ ہے کہ چین امریکہ تجارت 575 ارب ڈالر اور چین بھارت تجارت 136 ارب ڈالر پر کھڑی ہے۔ پاکستانیوں کو بھی اپنے ارمان بدل کر اقتصادی کامیابی پر کام کرنا چاہئیے۔
"انسان خود جتنا زیادہ ذہین اور مہربان ہوتا ہے اتنا ہی وہ لوگوں میں خوبیاں اور اچھائیاں تلاش کرتا ہے، اور انسان جتنا زیادہ خود احمق اور بُرا ہوتا ہے، اتنا ہی وہ لوگوں میں برائیاں اور خامیاں تلاش کرتا رہتا ہے." (لیو ٹالسٹائی)
"تم یورپ کی طرف ہجرت کرو گے، اور قانون کی پابندی کرو گے۔ تم سگریٹ کے ٹوٹے زمین پر نہیں پھینکو گے، عوامی مقامات پر تمباکو نوشی نہیں کرو گے، اور مخصوص مقامات سے سڑک پار کرو گے۔ تمہاری سیکیورٹی کا شعور اتنا ہوگا کہ اگر تمہاری کھڑکی کے سامنے سے بلی بھی چوری ہو جائے تو پولیس کو اطلاع دو گے۔
تم گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ باندھو گے اور بچے کے لیے پچھلی سیٹ پر کرسی رکھو گے۔ تم قطار میں کھڑے رہو گے چاہے وہ ایک کلومیٹر لمبی کیوں نہ ہو۔ جب تمہیں یورپی شہریت ملے گی اور تم اپنے نمائندے کا انتخاب کرو گے، تو اس کی تاریخ، ماضی اور پیشہ ورانہ مہارت کے بارے میں تحقیق کرو گے۔ اگر تم یہ سب اپنی ملک میں کرتے تو شاید تمہیں ہجرت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔"
- محمود درویش
میں نے شروع سے اپنے بچوں کو گاؤں سے، گاؤں والوں سے اور یہاں کے ماحول سے انسیت دلائی تاکہ وہ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔ گھر میں مادری زبان استعمال کی کیونکہ باقی زبانیں تو وہ باہر سے بھی سیکھ سکتے ہیں اگر انکو مادری زبان نہ سکھائی تو وہ اپنی اصلیت سے دور چلے جائیں گے۔ اب ماشااللہ بڑے ہوگئے ہیں لیکن گاوں سے پیار اتنا ہے جیسے ہمیشہ ادھر ہی رہتے رہے ہوں۔ شہروں میں جاکر بھی کوشش کریں اپنے بچوں کو اپنی مٹی سے ضرور جوڑے رکھیں۔ اس پیار بھرے احساس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو جو اپنے بچوں کو ایچیسن میں داخل کرا سکتا ہے، ایچیسن سپر اشرافیہ کا معاملہ ہے ہمیں اس کے کسی مسئلے سے کچھ لینا دینا نہیں۔۔لڑنے دو اشرافیہ کو آپس میں۔۔ویسے یہ سالے لمبی لڑائی نہیں لڑیں گے۔۔ جلد مل جل کے ہش اپ کر لیں گے۔۔
سوشل میڈیا پر جابجا لبلڑوں کے ڈاکٹر عبدالسلام کیلئیے دُکھی ٹویٹس دیکھ کر معلوم ہوا کہ 29 جنوری ڈاکٹر عبد السلام کا یوم پیدائش تھا
میں نے پہلے بھی کسی قادیانی کو جواب دیکر بلاک کھایا تھا🙈😂
وہ تھریڈ اب مجھے مل نہیں رہا
چلئیے آج یہ کٹا بھی بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں
اور لبڑلڑوں کے+