تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
میران شاہ میں گرلز سکولوں پر دہشت گردوں نے کئی حملے کئے کئی سکول تباہ ہوئے اسکے باوجود ان تباہ شدہ سرکاری اور پرائیویٹ گرلز سکولوں کو دوبارہ کھڑا کیا گیا اور میں ایسی بچیوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پچھلے دس پندرہ سال میں میران شاہ اور میر علی کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور اب وہ پشاور کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں
https://t.co/8ALOoYNqtH
خیبرپختونخوا میں ٹوٹل 34 یونیورسٹیاں ہیں،
16 نئی یونیورسٹیز 2013 سے لے کر آج تک تحریک انصاف نے بنائی ہیں
پنجاب میں 2013 سے آج تک 22 یونیورٹیاں بنی جن میں سے 10 تحریکِ انصاف نے بنائیں
اس طرح کے فیصلے کرنےوالے عقل سے بالکل ہی پیدل ہیں۔ یہ مناظر عوام کے دلوں میں PTI کےلیے مزید ہمدردیاں پیدا کررہے ہیں۔ مجھے تو کبھی کبھی جاوید لطیف کی بات سچ لگتی ہےکہ سسٹم میں اب بھی پی ٹی آئی کی سہولتکار موجود ہیں۔ ایسے اقدامات کا فائدہ صرف PTI کو ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت اور سہیل آفریدی نے کونسا ایسا اقدام تھا جو ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت والی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا؟ حبیب اکرم
وزیر اعظم شہباز شریف صرف ایک سال میں 28 غیر ملکی دورے کر چکے ہیں، یعنی اوسطاً ہر ماہ دو سے زیادہ دورے۔ یہ وہ وزیر اعظم ہیں جن کی حکومت چار سال میں بھی کچھ ڈیلیور نہیں کر پائی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب، جن کے صوبے میں غربت سب سے زیادہ یعنی 41 فیصد بڑھی ہے، انہوں نے کتنے دورے کیے اور وہ کتنے اہم تھے؟
مکمل پوڈکاسٹ دیکھیں علی خضر کے ساتھ رفتار یوٹیوب چینل پر۔ لنک کمنٹس میں موجود
اسد اللہ خان نے ن لیگ کی ترقی کو دریائے راوی میں بہا دیا۔۔۔!
میٹرو بس لاھور 2013 میں بنی، میٹرو بسس لاھور میں صرف 64 ہیں، اور یہ چلتی بھی ڈیزل پر ہیں، میٹرو بسیں پنجاب حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ نجی کمپنی کی ملکیت میں ہیں،
دوسری طرف بی آر ٹی پشاور 2020 میں بنی، پشاور میں 296 بسیں چل رہی ہیں، یہ تمام بسیں الیکٹرک ہیں، یہ تمام بسیں حکومت خیبرپختونخوا کی ملکیت ہے، یہ پاکستان کا سب سے بڑا ہائبرڈ گاڑیوں کا نظام ہے جو خیبر پختونخوا میں چل رہا ہے،
پنجاب میں صرف کاغذوں کی حد تک ترقی ہوئی ہے، اسد اللہ خان
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
🔥 اینکر: حامد رضاسنی اتحاد کےتھے ان کا9 مئی سے کیا لینا دینا ان کو کس چکر میں 10 سال کی سزا ہوئی💪🏻
وزیر مملکت: انہوں نے PTI جوائن کرلی تھی
پٹوارن کے منہ سے سچ نکل گیا🫡
🚨🚨 یقین کریں سواد ہی آ گیا... آہوووو🚨🚨
ارشاد بھٹی صاحب کیا واقعی نواز شریف کے بغض میں مبتلا ہیں؟
بس اتنا ہی کہنا تھا کہ ایک حرام خور جعلی نا معلوم بدشکل اور کم عقل پٹواری معلوم نہیں کیا نام ہے مگر عقل سے مکمل فارغ مخلوق کی بھٹی صاحب نے ایسی دھلائی کی ایسی دھلائی کی کہ بس مت پوچھیں
خود سنیں اور انجوائے کریں بھٹی صاحب نے تو واقعی اخیر کر دی! یقین کریں یہ سننے کے بعد سننے والوں کے 14 طبق روشن ہو جائیں گےکم عقیل کا منہ دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے جیسے کھوتا بریانی منہ کے راستے ہگ دی ہو 😂🔥💯✌️
اہم ترین
لاہور میں وہ دوست جن کے عزیز و اقارب کو گرفتار کر کے نو مئی کے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے یا تھری ایم پی او کے تحت پابند سلاسل کیا جا رہا ہے وہ فوری رابطہ کریں تاکہ ان کے مقدمات کی بروقت پیروی کی جائے۔ تاکہ وہ جلد از جلد رہا ہو کر گھر آسکیں۔
ملک پرویز اقبال اموی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور
@PTIofficial@Aleema_KhanPK@salmanAraja
میرے والد میاں محمود الرشید کے گھر پر پولیس کا چھاپہ، 25 کے قریب نقاب پوش اہلکار گھر میں داخل ہوگئے۔ اہلِ محلہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور میری والدہ کے ساتھ مبینہ طور پر تضحیک آمیز سلوک کیا۔ اس دوران ان کی آنکھ پر بھی زخم آیا اور طبیعت بگڑنے کے باعث وہ نیم بے ہوش ہوگئیں۔
میری والدہ پہلے ہی علیل اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر انہیں نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔
سیاسی انتقام کی یہ حد ہے کہ اب ہمارے والدین کا گھر اور خواتین بھی محفوظ نہیں؟ ایک ماں کی آنکھ زخمی کر دی گئی، آخر اس ظلم کی کوئی حد ہے؟
میرے پاس آگے کوئی الفاظ نہیں ہیں۔۔۔!!!
میاں محمود الرشید کی اہلیہ ایک بزرگ اور باپردہ خاتون ہیں، جو گزشتہ 25 برس سے درسِ قرآن دے رہی ہیں۔ آج پولیس کے مبینہ چھاپے کے دوران ان کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگئیں۔اہل محلہ کے مطابق، پولیس کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ان کی آنکھ پر گہرا زخم بھی آیا ہے۔ یہ وہ خاتون ہیں جنہیں ان کے پردے اور مذہبی خدمت کے باعث اہلِ علاقہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، مگر آج مبینہ طور پر انہیں بھی پولیس کارروائی سے محفوظ نہیں رکھا گیا۔
سوال یہ ہے کہ ایک بزرگ، باپردہ اور بیمار خاتون کے ساتھ ایسا سلوک آخر کس قانون اور کس اختیار کے تحت کیا گیا؟
ظالم سیاستدان ہو ، سرکاری افسر ہوں یا کوئی بھی شخص ظالموں کا عبرتناک انجام ہوتا۔
اور تم ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے وہ تو انہیں اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی
( سورۃ ابراہیم 14:42)