The construction of Al Khaleej Street Tunnel forms part of Al Shindagha Corridor Improvement Project, one of the largest projects currently being undertaken by #RTA. The corridor extends 13 km along Sheikh Rashid Street, Al Mina Street, Al Khaleej Street and Cairo Street, and includes the development of 15 intersections. It serves several key residential communities and development projects, most notably Dubai Islands, Waterfront Market, Dubai Maritime City and Port Rashid.
The project has achieved a major milestone, completing nearly 8 million work hours since its launch while maintaining the highest occupational safety standards, with no lost-time injuries recorded.
Hamdan bin Mohammed reviews newly completed Air Taxi Station near Dubai International Airport, the first facility of its kind in the world.
@rta_dubai I @jobyaviation I @Skyports_Infra
Joby Aviation: The world's first commercial air taxi vertiport, located next to Dubai International Airport, is complete. Four stories. Two landing pads. 170,000 passengers a year. We were honored to have His Highness Sheikh @HamdanMohammed personally stop by to see our progress and thank you to @rta_dubai and @Skyports_Infra for being the partners that made this possible.
Insights from Anthony Khoury, General Manager, UAE, Joby Aviation.
@jobyaviation
يشكل إنجاز أول محطة للتاكسي الجوي في #دبي نقلة استراتيجية في مسيرة الإمارة نحو ريادة مستقبل التنقّل الحضري، وتجسيداً عملياً لرؤية صاحب السموّ الشيخ محمد بن راشد آل مكتوم، نائب رئيس الدولة رئيس مجلس الوزراء حاكم دبي، رعاه الله، في ترسيخ مكانة دبي مدينةً عالميةً للابتكار وتبنّي الحلول المستقبلية.
وتتكون المحطة، التي نُفذت وفقاً لأعلى معايير السلامة الدولية، من مبنى بارتفاع أربعة طوابق على مساحة 3100 متر مربع، ومواقف للسيارات من طابقين، ومنصتين لإقلاع وهبوط التاكسي الجوي، ومعدات لشحن مركباته، ومرافق مكيفة لاستقبال الركاب وتقديم الخدمة لنحو 170 ألف راكب في العام الواحد.
"میرے والد، عمران خان، تقریباً ایک ہزار دنوں سے قید میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کا بنیادی نشانہ ہیں جو اختلافِ رائے کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین جرم سمجھتا ہے جسے کچل دینا چاہیے۔
میں نے اپنے والد کو تین سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔ انہیں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے، ایک ایسی چکی میں جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ غیر انسانی حالات تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ محض غفلت نہیں ہے، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہے جس کا مقصد ایک انسان کی عزتِ نفس کو چھین لینا ہے۔“@Kasim_Khan_1999
#ImranKhanUnlawfullyDetained
@AUKhanOfficial1@KismatZimri I think you should leave him,
کچھ نجیب الطرفین لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی اصل کا بھی نہیں پتہ ہوتا،
اور اسیلیئے اپنے اصل نام سے ہٹ کر پہچانے جاتے ہیں، جیسے موصوف (رضی دادا)
ایک دفعہ لاہور کے لکشمی چوک میں ایک پولیس والے نے حبیب جالب کی بے عزتی کر دی۔ کسی نے پولیس والے کو نہ روکا۔
قریب ہی آغا شورش کاشمیری کے ہفت روزہ چٹان کا دفتر تھا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ایک پولیس والے نے جالب سے بدتمیزی کی ہے تو آغا صاحب اپنا کام چھوڑ کر لکشمی چوک میں آئے۔ ایک تانگے والے سے چھانٹا لیا اور پولیس والے کی پٹائی کی اور اس سے کہا کہ تم نہیں جانتے کہ یہ کون ہے؟ یہ ج��لب ہے۔
پھر آغا صاحب تھانے جا بیٹھے اور وہاں دھرنا دے دیا۔ کہنے لگے کہ جس شہر کی پولیس حبیب جالب کی بے عزتی کرے و�� شہر رہنے کے قابل نہیں اس لئے مجھے جیل بھیج دو۔
پولیس والے معافیاں مانگنے لگے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کو پتہ چلا کہ آغا شورش کاشمیری نے تھانے میں دھرنا دے دیا ہے تو وہ بھی دھرنے میں آبیٹھے۔ مظفر علی شمسی بھی آگئے۔ شہر میں شور پڑگیا.
گورنر نے تھانے میں فون کیا لیکن آغا صاحب نے دھرنا ختم کرنے سے انکارکردیا۔ انہوں نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ جس شہر میں جالب کی بے عزتی ہو میں وہاں نہیں رہوں گا۔ بات وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تک پہنچی تو بھٹو نے فون پر منت کی جس پر آغا صاحب دھرنے سے اٹھے۔
اس واقعے کے بعد حبیب جالب ہر کسی کو کہتے پھرتے تھے’’شورش نے میری عزت بچالی، ابھی ��س شہر میں رہا جاسکتا ہے۔‘‘
یہ واقعہ بزرگ صحافی محمد رفیق ڈوگر نے اپنی آپ بیتی’’ڈوگرنامہ‘‘ میں لکھا ہے۔
ایک جگہ لکھتے ہیں کہ آغا شورش کاشمیری اور حبیب جالب میں شدید نظریاتی اختلاف تھا لیکن جب کسی نظریاتی مخالف پر مشکل آن پڑتی تو نظریاتی اختلافات بھلا د ئیے جاتے تھے ۔
(تصویر میں آغا شورش کاشمیری کراچی سینٹرل جیل سے باہر آتے ہوئے)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
سہیل وڑائچ کو کیوں ہمت نہیں پڑتی کہ وہ کہیں اسٹیبلشمنٹ اس ملک میں کاروبار بھی کرتی ہے اور پالیسیاں بھی بناتی ہے،سہیل وڑائچ لوگوں کو گمراہ نہ کریں، اس ملک کا مسئلہ معیشت نہیں، اس ملک کا مسئلہ بددیانت صحافی اور تجزیہ کار ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، مطیع اللہ جان
اس وقت تاثر یہ دیا جارہا ہے سیاست نہیں معیشت بچاؤ اور جب عوام نک و نک ہوئے ہوتے ہیں اور تیار ہوتے ہیں اس غیر منتخب حکومت کو اٹھا کر باہر پھینکا جائے تو سہیل وڑائچ جیسے تجزیہ کار آجاتے ہیں کہ اس وقت اصل مسئلہ معیشت ہے، مطیع اللہ جان
@SdqJaanSMT عمر کے اس حصے میں اب یہ شخص خود فارغ ہوگیا ہے، الفاظ، جملے، بات، کب، کیا، کہاں، کیسے کرنی ہے، اسے اندا��ہ ہی نہیں، اور ہر پریس میں یہ اجاگر ہوجاتی ہے،
The Supreme Court has called upon Muslims to look for the crescent moon marking the beginning of Shawwal on the evening of Wednesday, 29 Ramadan 1447 AH, corresponding to 18 March 2026.
The outcome of the moon sighting will determine the date of Eid al-Fitr.