ایک دفعہ گورنر مدینہ نے حکم دِیا تھا چھوٹے بچے روزہ رسول پر آتے ہیں قالین وغیرہ خراب کر دیتے ہیں ، بچوں کو نہ آنے دِیا جائے پھر میرے پاک محمد خواب میں اے بولا گورنر کو بولیں اپنی قالین لے جائے ۔۔🥹
سٹوڈنٹ بچے پر تشدد کا نوٹس ہونا چاہیے.
یہ واقعہ انتہائی تشویشناک ہے اور کم عمر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ بچوں کو تحفظ اور احترام ملنا چاہئے، اور پولیس کو ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہئے۔ مارپیٹ اور ظلم و ستم جیسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔
ہم حکومت اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور مجرم پولیس والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔
دلہن کو جو چیز شادی میں دی جاتی ہے میرے خیال سے تو وہ دلہن کا گفٹ ہی ہوتا ہے دے کر واپس لینا اتنا گھٹیا اور نیچ کام لعنت ہو ایسے سسرال والوں پر اور لعنت اس کہ بغیرت شوہر پر بھی ۔۔
یہ پانچ لاکھ ریال کا نوٹ اسلامی جمہوریہ ایران کا ہے۔
جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 3500 بنتے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود وہاں کے ریلوے سٹیشن ہمارے ایئرپورٹ سے بہتر ہیں وہاں کا ہر روڈ ہماری موٹر وے سے بہتر ہے وہاں ایک کلو گھی کی قیمت پاکستانی روپوں میں 150 روپے ہے وہاں ایک منٹ کے لیے بجلی یا گیس بند نہیں ہوتی وہاں ائرلائن کا ٹکٹ بس کے ٹکٹ سے سستا ہے وہاں ہر غریب امیر کے پاس اپنی گاڑی ہے ۔
تھوڑا نہیں خدارا زیادہ سوچیئے..!!
اسلامی جمہوریہ پاکستان پائندہ باد ۔۔۔
آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن پر رپورٹ سامنے آ گئی۔ یہ رپورٹ ہمارے لئیے بطور پاکستانی شرمناک ہے۔ اندازہ لگائیے کہ ہماری سسکتی معیشت اگر آج ڈھائی فیصد پر کھڑی ہے تو وہ کرپشن کی وجہ سے ہے۔ یہی معیشت ۵ سے ۶ فیصد پر جا سکتی ہے اگر صرف ہم کرپشن پر قابو پا لیں۔ یعنی کہ کڑوڑوں لوگ صرف اشرافیہ کی حرام خوری کی وجہ سے ایک اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
دوسرا آئی ایم ایف نے SIFC پر بھی سوالات اُٹھا دئیے۔ ادارے کی قانونی حیثیت اور جواب دہی کا میکینزم نہ ہونے پر تعجب کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ SIFC اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرے جس سے اُس کی افادیت کو دیکھا جا سکے۔
تیسرا حکومت کی جانب سے ٹینڈرنگ کو شفاف بنانے کا بھی مطالبہ کر دیا۔ اربوں کے ٹھیکوں کو E-tendering اور پارلیمانی نگہداشت کا بھی کہہ دیا۔
چوتھا ٹیکس کے نظام اور پانچواں عدالتی نظام میں بھی بہتری لانے کا کہہ دیا۔ پر یہاں تو عدلیہ کو فتح کرنے سے ہی فرصت نہیں۔
اللہ تاخیر اس لیے نہیں کر رہا کہ تم مایوس ہو جاؤ بلکہ وہ تاخیر اس لیے کر رہا ہے کہ جب اُس چیز کو تمہارے نصیب کا حصہ بنایا جائے تو تمہاری تڑپ خوشی کہ آنسوؤں میں تبدیل ہو جائے۔🌸