“اگر آپ کسی گدھے کو پینٹ کر کے کہیں شیر ہے تو وہ شیر نہیں بن جاتا”
۔۔
کالا کوٹ حق پر ہو تو وہ کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ ہمارے وکلا کی اکثریت اس بات کی مثال ہے ۔۔
چھا گئے وکلا
کڑوا سچ۔ میر جعفر کی اولادیں مطلب پاکستانی جرنیل ندیم انجم، عاصم منیر، فیصل نصیر وغیرہ اور انکے ساتھی باو بٹ اور نانی 420 اور انکے ساتھ ملے بیغیرت پنجابی اور بقیہ بکاو مال بغل بچے پوری قوم کو اپنی طرح زور زبردستی میر جعفر اور میر صادق بنانا چاہتے ہیں۔
@pmln_org *جو فرم خان صاحب کا کیس لڑنے جا رہی ہے اس ہی فرم نے نواز شریف اسحاق ڈار اور میر شکیل کا کیس لڑا کیا اس وقت وہ یہودی نہیں تھے یا انکا کیس لڑنے کے بعد انکی جنت کی ٹکٹ کنفرم ہو گئی تھی ، یہ کریں تو رام لیلا ہم کریں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ، بس اتنا ہی بتانا تھا .
@MaryamNSharif@pmln_org *جو فرم خان صاحب کا کیس لڑنے جا رہی ہے اس ہی فرم نے نواز شریف اسحاق ڈار اور میر شکیل کا کیس لڑا کیا اس وقت وہ یہودی نہیں تھے یا انکا کیس لڑنے کے بعد انکی جنت کی ٹکٹ کنفرم ہو گئی تھی ، یہ کریں تو رام لیلا ہم کریں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ، بس اتنا ہی بتانا تھا 😡
جبر بڑا منظم ہوتا ہے کیونکہ وہ بیش بہا طاقت سے جنم لیتا ہے۔ طاقت ہر شے کو اپنے دائرے میں رکھتی ہے۔ طاقت کے پاس وقت، جگہ، کیا، کتنا، کیسا متعین کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مزاحمت کی شروعات بڑی بے ڈھنگی ہوتی ہے۔ وہ اپنی شکلیں اپنی سمجھ کے مطابق ڈھالتی ہے اور سمجھ اس کے پاس بہت تھوڑی ہوتی ہے کیونکہ اس کا جنم مجبوری سے ہوتا ہے۔ بے بسی سے ہوتا ہے۔ جب بچہ بھوک سے بلک رہا ہو اور گھر میں اس کو دینے کے لیے ایک نوالہ نا ہو تو مجبور باپ کے ہاتھ میں وہ ہتھیار آتا ہے جو وہ اپنے ہی جیسے کسی دوسرے آدمی کی پشت پر رکھ کر اس کی بے بسی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ اس کی بغاوت کی ابتدا ہوتی ہے اس معاشرے سے جو اسے پیٹ بھر کر روٹی تو نہیں دیتا مگر اقدار کی طویل فہرست ضرور رٹوا دیتا ہے۔ اس قانون سے جو اسے زندہ رہنے کا بنیادی حق تو نہیں دیتا مگر اس پر قدغنیں بڑی لگاتا ہے۔ اس نظام سے جو اس کے بلکتے بچے کے حصے کا نولہ اپنے گوداموں میں بھر کر اس سے اطاعت کی توقع رکھتا ہے۔ جب ایک کی مجبوری دوسرے کی بے بسی پر پلنے لگتی ہے تو وہ غیض کی ایسی شکل دھار لیتی ہے کہ جس کے سامنے پھر نا معاشرتی اقدار ٹہرتے ہیں نا قانون نا نظام۔ طاقت کا نشہ تب ٹوٹتا ہے جب غیض اس کے نظم سے کئ گنا بڑی بلا کی صورت پھنکارتا ہوا آتا ہے اور اس کے یہ تینوں ہتھیار؛ اقدار، قانون، نظام بہا لے جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر کسی کے ہاتھ بلاتفریق بربادی آتی ہے۔
آج اگر کسی کو اپنی اونچی دیواروں سے جھانک کر دیکھنے کی زحمت ہو تو پاکستان اسی نہج پر ہے جہاں غیض کی لہریں طاقت کی بنیادوں کے گرد گھیرا ڈال رہی ہیں۔ کوئ بعید نہیں کہ وہ سب بہا لے جائیں لیکن ابھی ایک ‘بند’ امید کا ایک شخص کی صورت ایک آہنی دروازے کے پیچھے دو زانو بیٹھا ہے۔ مزاحمت تحریک بن کر ہماری تشکیلِ نو بھی کرسکتی ہے۔ مزاحمت خانہ جنگی بن کر ہماری بربادی بھی ہوسکتی ہے۔ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کیونکہ اونچی دیواروں کے پیچھے سے دیکھنے والوں کو لہروں کی تندی اور ان کے سامنے اپنی کھوکھلی بنیادیں نہیں دکھتیں!
حق و سچ کا گلا دبانے اور عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کی پاداش میں غیر قانونی جبری اغواء اور گمشدگی اس ملک میں آئین و قانون کے وجود پر سوالیہ نشان ہے۔ محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی کی فیملی کو ٹارگٹ کرنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ہماری معاشرتی و دینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اُسے عدالت میں پیش کریں اور سزا دلوائیں، یوں بے گناہوں کو غائب کرکے آئین و قانون کی دھجیاں نہ اُڑائیں۔
It is extremely hard to imagine what they are doing to a Legend who gave up his royal life including his family life for us! C class jail for him hurts a lot. May Allah find a way to get him released ASAP. #قوم_کی_شَہ_رَگ_عمران_خان
متعصبانہ فیصلے کے خلاف چیرمین عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں پوری قوم سے اپیل ہے کہ وہ نکلے اور پرامن طریقے سے آواز اٹھائے کیونکہ جیت انصاف کی ہونی ہے، جیت چیرمین عمران خان کی ہی ہونی ہے انشاء اللہ!
سینکڑو مسلح افراد کچے سے پنوعاقل شہر میں داخل ہوتے ہیں، سرعام دو لوگوں کو قتل کر کہ خواتین و بچوں کو اغوا کر کہ پولیس کے سامنے آرام سے گذر جاتے ہیں۔ مگر اب تک نہ حکومت سندھ کو کوئی شرم آئی ہے نہ نام نہاد ایماندار آئی جی کو نہ ملک چلانے والوں کو۔۔ یہ ہے قانون اور انصاف سندھ میں۔۔