@NaureenJanjua پچھلے پچاس سال سے جو بچے ان یتیم خانوں میں گئے وہ عام زندگی میں کہیں نظر نہیں آتے سمیت ایدھی کے یہ بچے جوان ہوتے ہیں تو کہاں غائب ہو جاتے ہیں کہیں کوئی مکینک کوئی الیکٹریشن کوئی پلمبر کوئی ڈرائیور نہیں دیکھا ان اداروں سے نکلا ہوا۔ بہت حساس موضوع ہے۔
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔
کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔
گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!!
جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔
جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔
پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔
دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔
ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔
بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔
آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔
#waliullahmaroof
@rizwanghilzai تو جو پٹھان بلوچی اور سندھی پنجاب میں ہیں انہیں نکال دیں نوکریوں سے؟؟ کیسے کیسے ہیرے تراشے ہیں اس پی ٹی آئی نے۔ نہ عقل نہ سمجھ لیکن کچھ نہ کچھ بولنا ضرور ہے۔
@Saminakhan4000 یہ گاڑی والے کا بڑا پن ضرور ہے اعلیٰ ظرف ہے لیکن رانگ سائیڈ سے کٹ مارنا لین کی خلاف ورزی کرنا اور ہر طرح کی غلط ڈرائیونگ یہ رائیڈرز اپنا پیدائشی حق سمجھتے اور جب کہیں لوگوں کی گاڑیوں اور جان کا نقصان ہوتا ہے تو غربت کارڈ کھیلتے۔ غریب کو غلط ڈرائیونگ کا حق کیسے؟
یہ نیچے بس کا نمبر نوٹ کریں اور نیکی سمجھ کر پوسٹ شئیر کریں تاکہ اس بس کے مالک تک خبر پہنچے
یہ بس ساھیوال سے پشاور جاتی ھے
اور تقریباً رات 10 بجے بنگلہ گوگیرہ پہنچتی ھے
میں وھاں سے اس بس پر پشاور جانے کیلئے بیٹھا
میں اس وقت اسی بس میں سفر کر رہا ہوں۔ نماز فجر کا وقت ہو گیا، کئی مسافروں نے ڈرائیور سے درخواست کی گاڑی روک دے تاکہ ہم فرض نماز ادا کر لیں، لیکن اس بدبخت منحوس ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے صاف انکار کر دیا اور کہا بس نہیں رکے گی۔
افسوس!
جس ملک کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی، وہاں روٹی، چائے اور سگریٹ کے لیے تو بسیں آدھا گھنٹہ رک جاتی ہیں، لیکن جس نماز کے لیے اللہ نے ہمیں پیدا کیا، اس کے لیے 5 منٹ نہیں ملتے؟
ڈرائیور صاحب اور بس کمپنی کے مالکان سے گزارش ہے:
یہ سواریاں آپ کے رزق کا ذریعہ ہیں۔ اگر یہی مسافر آپ کی گاڑی میں اللہ کو ناراض کر کے سفر کریں گے تو اس سفر میں برکت کیسے آئے گی؟ حادثات کیسے رکیں گے؟
میرا مطالبہ ہے:
1. تمام ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنے ڈرائیوروں کو پابند کریں کہ نماز کے وقت گاڑی ضرور روکی جائے۔
2. ہر بس میں نماز کا وقفہ قانون کا حصہ بنایا جائے۔
اگر آپ میری بات سے متفق ہیں تو اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ آواز ان مالکان تک پہنچے۔
*نماز پہلے، سفر بعد میں!*
#نماز_کا_احترام_کرو
لائبہ نے اسلامک یونیورسٹی سے فزکس میں بی ایس کیا اور گولڈ میڈل لیا، والدین کے ساتھ کرائے کے فلیٹ میں رہتی تھی۔ باپ موٹر سائیکل پر دودھ بیچ کر بیٹی کو پڑھا رہا تھا۔
فراڈیے نے ہاورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے لیے ستر لاکھ روپے خرچ بتایا، باپ نے پلاٹ بیچا، 21 لاکھ ایجنٹ کو دیے۔ باقی رقم کے لیے ماں نے زیور بنک میں رکھوایا ، بیٹی نے جب ڈاکیومنٹ چیک کروائے تو سب کچھ جعلی نکلا۔
پیسے کھانے کیلئے ایجنٹ نے خود کو بچی کا سپانسر ظاہر کیا،
بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا بھی وعدہ کیا اور سرکاری ملازمت دلوانے کے الگ سے 5لاکھ روپے لیے
فراڈیا خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اکاؤنٹس افسر بتاتا رہا،
طالبہ دلبرداشتہ ہو گئی۔ مرنے سے پہلے ماموں کو میسج کیا کہ ابو کو اس فراڈ کا پتہ نہ چلے، وہ مر جائیں گے۔ اہل خانہ کا بیان
طالبہ کی کل اسلام آباد میں پ ھ ن د ا لگی ل ا ش ملی تھی۔
یہ خ و د ک ش ی نہیں قتل ہے۔ اسے ان حالات پر لانے والے ظالم اور بے حس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
اگر ملک میں ہونے والے فراڈ کے خلاف ازالے کے لیے کوئی مؤثر فورم ہو تو لوگ اس طرح مایوس نہ ہوں۔ ہمارے ریاستی ادارے اور قانون بنانے والے بھی اس ق ت ل کے ذمہ دار ہیں
وزیراعظم صاحب۔لائبہ کےخواب لوٹنے والوں کونشانِ عبرت بنائیں۔غریب باپ کی عمر بھر کی کمائی ہڑپ کرنے والے فراڈیے آزاد کیوں ہیں؟بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر فراڈ کرنے والے کنسلٹنٹس پر فوری پابندی لگائیں،ورنہ مزید کتنے لائبہ جیسےاپنے خوابوں سمیت دفن ہوں گے۔@CMShehbaz
ننھی سی بچی، جس کا نام عائلہ دختر عاصم ہے، کس کی ہے؟
8 فروری 2022 کو بھٹی گیٹ لاہور سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔ عائلہ اپنی شناخت اور اپنے گھر کا پتہ بتانے سے مکمل طور پر قاصر ہے، یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تاحال ورثاء کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
اگر آپ عائلہ کو جانتے ہیں یا اس کے اہل خانہ کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہ کرم فوری طور پر سیف سٹی "میرا پیارا" ٹیم کو اطلاع دیں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی مدد عائلہ کی زندگی بدل سکتی ہے اور اسے اس کے پیاروں کے قریب لے جا سکتی ہے۔
خالو،پھپھا،بہنوئی،نندوئی جیسے رشتوں سے اسلام فاصلے کا حکم دیتا ہے،اب لگاتار ایسے شرمناک واقعات خود بتاتے ہیں کہ یہ حکم کیوں ضروری ہے،ہوس کے مارے غلیظ لوگ،شادی کے بعد بھی دوسری بچیوں کو اپنی گندی نظروں میں رکھنے والے شرعی سزاؤں کے مستحق ہیں
@m_asifmahmood جی ہاں کسی کی پروموشن کسی کی اہم سیٹ پر تقرری یہ سب زیادہ اہم ہے۔ ریاست کے اندر سے اگر انہیں مدد نہ ملے تو جو کچھ یہ کہہ چکے اور کر چکے اس پارٹی کو مستقل بین ہوجانا چاہیے۔ لیکن بات وہی کے بارگینگ ٹول کے طور پر انہیں آکسیجن مہیا کرکے استعمال کیا جارہاہے۔
@faheemgohar1 جب تک بھائی لوگ آدھا پاکستان ان دہشت گردوں کے ہاتھ مروا نہیں لیتے نہ تو انکے سیاسی ونگ پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوگی اور نہ ہی عمران خان کا بطور تھریٹ کے استعمال۔
کوشش کرے کوئٹہ ہوٹل وغیرہ پر ہرگز چائے نہ پئیے ہماری ڈیری کی RND ٹیم نے ریسرچ کی تو پتہ چلا کہ اٹھانوے فیصد کوئٹہ ہوٹل ایران سے اسمگل شدہ گھٹیا ملک پاوڈر استعمال کررہے ہیں ساتھ ساتھ پتی بھی جعلی کلر سے تیار کردہ ہوتی یے
@MuzzammilAslam3 تو گویا آپ تسلیم کر رہے ہیں کے پی ٹی آئی دہشتگردی کی نرسری کو ڈیفینڈ کرتی رہے گی مائیں بےاولاد ہوتی رہیں گی اور بچے یتیم ہوتے رہیں گے؟؟ اس سے بڑا اعتراف جرم ہو نہیں سکتا۔
@NaureenJanjua بالکل درست۔ یہ ممکن نہیں کے بھائی لوگ رسیاں کھینچنے اور ٹاؤٹ پالنے سے باز اجائیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کے ہر دو نمبر کی سرپرستی کرنے اور حکومت کو فری ہینڈ دے دیں۔ ہر دھرنا ہر احتجاج ہر ہڑتال کے پیچھے بھائی لوگوں کی ڈیمانڈز ہوتی ہیں پوری نا کی جائیں تو عدلیہ بھی استعمال ہوتی ہے۔