اس نام اور چہرے کو یاد رکھیں۔
میجر جنرل عاطف بن اکرم، ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب، فروری 2024 سے اس عہدے پر تعینات ہے۔
فوج اور پنجاب پولیس کے حاضر سروس اور سابق اہلکاروں سے منسوب معلومات بار بار اس کی نشاندہی اُس افسر کے طور پر کرتی ہیں جو مبینہ طور پر حالیہ برسوں میں پاکستانی مظاہرین کے خلاف کی جانے والی بعض انتہائی سنگین کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور قیادت کا ذمہ دار رہا ہے۔
یہ الزامات ہیں، عدالتی فیصلے نہیں۔ لیکن یہ اتنے تفصیلی، بار بار سامنے آنے والے اور سنگین ہیں کہ ان کی آزادانہ فوجداری تحقیقات ناگزیر ہیں۔
1۔ اسلام آباد، 26 نومبر 2024
فوج کے اندرونی ذرائع سے منسوب معلومات کے مطابق، عاطف بن اکرم مبینہ طور پر وہ سینئر افسر تھا جو عاصم منیر کی براہِ راست ہدایات پر رینجرز آپریشن کی کمان کر رہا تھا۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ جب نہتے مظاہرین پر گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تو ایک سپاہی نے ہچکچاہٹ دکھائی اور فائرنگ نہیں کی۔ عاطف بن اکرم نے مبینہ طور پر اس سے رائفل لے کر خود فائرنگ کی، فوجیوں کی ہچکچاہٹ توڑی اور فائرنگ کا آغاز کرایا۔
اس مخصوص الزام کی تحقیقات آپریشنل ریکارڈ، ہتھیاروں کے معائنے، عینی گواہوں کے بیانات، مواصلاتی ریکارڈ اور کمانڈ مقام پر موجود ہر افسر کی شناخت کے ذریعے ہونی چاہییں۔
2۔ مریدکے، 13 اکتوبر 2025
الزام ہے کہ مظاہرین کو محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کی یقین دہانی کے بعد جان بوجھ کر ایک محدود جگہ میں لایا گیا۔
جب ہجوم کو گھیر لیا گیا تو اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس کے دستے نے مظاہرین پر فائرنگ سے انکار کر دیا۔
موصولہ معلومات کے مطابق، محسن نقوی نے مبینہ طور پر عاصم منیر کی براہِ راست ہدایات پر عاطف بن اکرم کو رینجرز استعمال کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد رینجرز اہلکاروں نے فائرنگ کی۔
مکمل زنجیرِ کمان سامنے آنی چاہیے: آپریشن کی منصوبہ بندی کس نے کی، مذاکرات کی یقین دہانی کس نے کرائی، ہجوم کو محدود کرنے کا حکم کس نے دیا، براہِ راست فائرنگ کی اجازت کس نے دی اور فائرنگ کن یونٹس نے کی۔
3۔ آزاد جموں و کشمیر، ستمبر/اکتوبر 2025
مبینہ طور پر یہی طرزِ عمل آزاد جموں و کشمیر میں بھی دہرایا گیا۔
عاطف بن اکرم پر، بطور ڈی جی رینجرز پنجاب، الزام ہے کہ اس نے عاصم منیر کی ہدایات پر مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے رینجرز اہلکاروں کی کمان اور رہنمائی کی۔
تعینات یونٹس، کمانڈنگ افسروں، جاری کیے گئے ہتھیاروں اور استعمال ہونے والے گولہ بارود کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور ان کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
4۔ آزاد جموں و کشمیر، جولائی/اگست 2026، جاری
پنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر سے منسوب معلومات کے مطابق:
“لوگوں پر فائرنگ پاکستان رینجرز نے کی۔ ان میں سے بہت سے اہلکار سادہ کپڑوں اور پولیس کی وردیوں میں تھے۔ ہم نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی۔”
یہ الزام ایک اور انتہائی سنگین سوال اٹھاتا ہے: کیا رینجرز اہلکاروں کو جان بوجھ کر سادہ کپڑوں یا پولیس کی وردیوں میں تعینات کیا گیا تاکہ ان کی شناخت چھپائی جا سکے، ذمہ داری پولیس پر ڈالی جا سکے اور بعد میں ہونے والے احتساب کو روکا جا سکے؟
اس سوال کا جواب سرکاری تردیدوں سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
استعمال ہونے والے ہر ہتھیار کا سراغ لگایا جائے۔ چلائی جانے والی ہر گولی کا حساب لیا جائے۔ تعینات کیے گئے ہر افسر اور سپاہی کی شناخت کی جائے۔
تمام تحریری احکامات، ٹیلی فون کالز، وائرلیس پیغامات، آپریشنل ہدایات اور نقل و حرکت کے ریکارڈ محفوظ کیے جائیں۔
میجر جنرل عاطف بن اکرم کو قانونی عمل اور بے گناہی کے اصول کا حق حاصل ہے۔ لیکن عہدہ، وردی اور ادارہ جاتی تحفظ کسی کو تحقیقات سے بالاتر نہیں بنا سکتے۔
یہ الزامات اُن نہتے اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کے غیرقانونی قتل سے متعلق ہیں جو اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔
ان کی تحقیقات اُس شخص سے شروع ہونی چاہییں جس نے گولی چلائی، پھر آپریشنل کمانڈروں تک، پھر سیاسی اور فوجی حکام تک، اور بالآخر عاصم منیر تک، جس پر ان کارروائیوں کی اجازت دینے کا الزام ہے۔
یہ سوشل میڈیا کے ذریعے سزا سنانا نہیں۔
لیکن وردی پہن لینے سے کسی کو استثنا بھی حاصل نہیں ہو جاتا۔
ثبوت اور زنجیرِ کمان جہاں تک لے جائیں، وہاں تک جایا جائے اور ہر ذمہ دار شخص کا احتساب کیا جائے۔
کراچی میں ہمارے جلسے میں شرکت کیلئے آنے والوں سے میری گزارش ہے کہ وہ قومی پرچم اپنے ساتھ لے کر آئیں کیونکہ اب یہ امریکی شہ پر مقامی میرجعفروں کی معاونت سے حکومتیں بدلنےکیخلاف پاکستان کی خودمختاری اورحقیقی جمہوریت کی ایک جنگ ہے۔
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
ٹاوٹ طیب بلوچ: پی ٹی آئی کے اندر ایک گروپ آپ کا مخالفت کر رہا ہے۔
علیمہ خان: ایجنسیاں اسی طرح غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں جو آپ کر رہے ہو ، طیب گولی مارو ایسی تنخواہ کو جہاں پہ آپ کو شیطانی کرنی پڑے
اسے کہتے ہیں تن کے رکھنا 🔥
آج بہت دل اُداس ہے
کچھ وجوہات ہیں کہ میں آج اڈیالہ نہیں جا رہا
لیکن میری والدہ خان صاحب کی بہنوں کا ساتھ دینے کے لیے اڈیالہ جا رہی ہیں لیکن پہلی بار ایسا ہے کہ میں اڈیالہ نہیں جا رہا
اگر آج اڈیالہ چلا جاتا تو مجھے بھی نجم کی طرح غائب کروا لینا تھا اور ایک اواز کو پھر سے کچھ عرصے کے لیے بند کر دینا تھا
دل اُداس ہے لیکن یہ وقت بھی گز جائے گا
عمران خان نے کہا تھا کہ اگر انہوں نے اپنا قبلہ سیدھا نہ کیا تو یہ اسی راستے پر جا رہے ہیں جس پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال تھے۔
لوگ تیار بیٹھے ہوئے ہیں، جوان نسل تیار کھڑی ہے۔ آپ ان کو روک نہیں سکیں گے۔
علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر 🔥
🚨سوال : آپ فاطمہ جناح والا کردار ادا کر رہی ہیں انہوں نے بھی سیاست میں انٹری دی تھی آپ کب سیاست میں انٹری دیں گی ؟
علیمہ خان: سیاست کی ابھی ضرورت نہیں ہم اپنے بھائی کے لیے عوامی موبلائزیشن کر رہے ہیں ہم میڈیا سمیت سب کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
کل میانوالی میں علیمہ خان کو دیکھ کر پنجاب پولیس کے اہلکار ہاتھ ہلا کر ویڈیوز بنا رہے تھے اور ساتھ ہی وکٹری کا نشان بھی بنایا۔
اس کہتے ہیں انقلابی مناظر 🔥
This killer and criminal must be prosecuted locally and internationally along with Asim Munir , Dirty Harry and others for “crimes against humanity”. An example has to be set no matter how much time it takes.
We have heard of assassinations of Prime Minister's and Presidents. Never have I heard a former Prime Minister being tortured in a prison cell.
What the military regime in Pakistan is doing to Imran Khan is not just criminal, it is indicative of its own moral and ethical collapse.
🚨اہم گفتگو
اب یہ عمران خان کی ویڈیو چلا کر قوم سے حمایت مانگ رہے ہیں کہ عمران خان بھی زیادہ صوبوں کے حامی تھے لہٰذا اب ہمیں سپورٹ کرو !!
یہ عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں " عمران خان نے صوبے بنانے کی بات ووٹ لے کر کی تھی اور اس نے کہا تھا اس پر بات چیت اور سوچ بیچارے ہونا چاہیے نا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ایک ڈکٹیٹر آئے گا اور وہ ڈنڈے کے زور پر صوبے بنائے گا اور تم اسے سپورٹ کردیا "
قاسم خان سوری
The disturbing reports emerging from Rawalakot are consistent with the Pakistani authorities’ long history of unlawful violence against protesters in Jammu and Kashmir.
A prompt, independent, and transparent investigation must be ordered into the security forces’ use of force against protesters.
So long as an internet and mobile services blackout remains in place, it will severely impede the independent verification of the full extent of the situation on the ground.
We urge the Pakistani authorities to restore all communications access and allow media and independent observers into the area