🌹اللہ تعالی میرے قائد کو سلامت رکھے آمین
اللہ تعالی میرے قائد کو زندگی صحت سلامتی عطا فرمائے آمین
👈17 ستمبر 2022 🤚میں صدف صدیقی اپنے قائد محترم الطاف حسین بھائی سے تجدید عہد وفا کرتی ہو
#17SepADayOfCommitment
New CCTV footage shows how two masked men attacked MQM founder Altaf Hussain’s London home around midnight two nights ago and clearly reveals the vehicle allegedly used by the attackers @metpoliceuk
MQM Rabita Committee leaders have called on the British authorities to conduct a thorough investigation and identify the two masked men who allegedly attacked the north London home of Muttahida Qaumi Movement founder Altaf Hussain. The party said the apparently well-trained intruders jumped over the front gate and caused extensive damage to the front door and windows while attempting to force their way inside. @metpoliceuk
🚨BREAKING: Two masked men have attacked MQM leader Altaf Hussain at his home in London. The two men broke into the Mill Hill home of MQM founder Altaf Hussain, causing significant damage to the property, according to party sources. The intruders jumped over the front gate two times and tried to force their way into the house, damaging the front door and a window. Hussain was inside his ground-floor bedroom, only a few feet from the attempted entry point.
کوئی بھی شخص الطاف حسین بھائی کو مشکل حالات میں چھوڑ کر چلا گیا ہو یا الطاف حسین بھائی کے خلاف الزام تراشی کی ہو اور وہ تمام لوگ جو عہدوں پر فائز رہے ہو پھر علیحدگی اختیار کرکے چاہے وائس آف کراچی یا ایم کیو ایم پی یا پی ایس پی کا حصہ ہو پارٹی میں دوبارہ شامل کرنا زیادتی ہوگی 🙏!
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کےعہدے پر ترقی پر تبصرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صحافی نے مجھ سے سوال کیا کہ اب آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل بنادیا گیا ہے اس پر آپ کیا تبصرہ کرنا چاہیں گے؟
صحافی محترم کے پوچھے گئے سوال پر میرا جواب ہےکہ یہ ملک بھی میرا ہے، پاکستان کی فوج بھی میری ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر صاحب بھی میرے تھے ، اب وہ ماشااللہ سے فیلڈ مارشل بنادیئے گئے ہیں تو فیلڈ مارشل کی حیثیت سے بھی جنرل سید عاصم منیر صاحب میرے ہیں۔
خلق خدا کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے
دوسروں کی خدمت کرنےسے ہمدردی اورمہربانی فروغ پاتی ہے اور مشکل وقت میں دوسروں کی مدد کرناہی زندگی کا اصل مقصدہے
خلق خدا کی خدمت کیجئے اورقدرت کےقریب آجائیے
@AltafHussain_90
پاکستان ،انڈیا جنگ اور سیزفائر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اورانڈیا کے درمیان حالیہ جنگ سے متعلق جوحقائق سامنے آئے ہیں اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ اس حالیہ جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کوکامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ انڈیاکی افواج کوناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان ایئرفورس ویسے بھی دنیا بھر میں ایک بہترین اوراسمارٹ ایئر فورس کے طورپرپہچانی جاتی ہے اوراس حالیہ جنگ میں بھی پاکستان کی فضائیہ نے ایک بھرپوراور فیصلہ کن کارروائی کا مظاہرہ کیا اوروہ دنیا بھرمیں ایک اسمارٹ فورس کےطورپر سامنے آئی ہے ۔
اس جنگ میں پاکستان نےاپنے آپریشن کانام '' آپریشن بنیان المرصوص '' جبکہ انڈیانے اپنے آپریشن کانام '' آپریشن سندُور''۔ سندُور کسی خاتون کے شادی شدہ ہونے کی علامت اور شادی کے پاکیزہ رشتے کی پہچان ہوتی ہے۔ انڈیاکے وزیراعظم نریندرمودی نے اس آپریشن کانام '' آپریشن سندُور '' رکھنے کا جواز یہ پیش کیاکہ پہلگام میں دہشت گردی کےواقعہ میں دہشت گردوں نے معصوم لوگوں سے ان کے نام پوچھ کراوران کی شناخت کرکے ان کی بیویوں کے سامنے ان کی جان لی اور ان کی بیویوں کے سندور کواجاڑ دیا۔ لہٰذا بہنوں کے سندُور اجاڑنے والے دہشت گردوں سے اس کابھرپوربدلہ لیا جائے گا ۔ اس حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی اوران کے دیگروزرا اوررہنماؤں نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے لیکن تین دن کی جنگ میں جوکچھ ہواہے اوراس کی جوتفصیلات سامنےآئی ہیں اس سے تو یہی لگتاہے کہ اس جنگ میں پاکستان کی فضائیہ نے انڈیاکا بھرپورنقصان کیاہے۔
میں وزیراعظم نریندر مودی اوران کے وزرا سے سوال کرتاہوں کہ آپ کے ان بلنددعووں کاکیاہوا؟
وزیراعظم نریندر مودی اوران کے وزرا اور رہنما بڑے فخر سے یہ کہتےتھےکہ انڈیاایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور وہ پاکستان کی طرح امریکہ یادیگرممالک سےکوئی ڈکٹیٹشن نہیں لیتا لیکن انڈیا اورپاکستان کے درمیان تین روز کی جنگ کے بعد جوسیزفائر ہواہےاس حوالے سے بین الاقوامی میڈیامیں یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ انڈیا نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ وہ جنگ بندکرائیں اورجب امریکہ نے دونوں ملکوں کوفوری جنگ بند کرنے کوکہا تو دونوں ملکوں کے درمیان سیزفائر ہوگیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود انڈیا بھی واقعتاً ایک آزاد ملک نہیں ہے، اس نے بھی سیزفائر کےلئے امریکہ سے رجوع کیااورامریکہ کے کہنے پر ہی اسے جنگ بندی کرنی پڑی۔
میں اس صورتحال کی روشنی میں انڈیا کے رہنماؤں،دانشوروں، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں، صحافیوں اور اینکرز سے یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ کیاانڈیاواقعتاً ایک آزادو خودمختار جمہوری ملک ہے یاوہ بھی سپرطاقتوں کااسیر ہے؟ کیا وہ بھی سپر طاقتوں کے پاؤں پکڑنے پر مجبورہوگئےہیں؟
میں سمجھتاہوں کہ سیزفائرضرور ہوا ہے لیکن جس طرح یہ جنگ حادثاتی طورپرہوئی اسی طرح یہ جنگ بندی بھی حادثاتی اور عارضی ہے کیونکہ پاکستان اورانڈیا کووار زون بنادیا گیا ہے۔
میں سمجھتاہوں کہ جب تک کوئی ایک یادو تین ملک پوری دنیا کی قسمت کے مالک ہوں گےاس وقت تک دنیا میں امن وسکون نہیں آسکتا۔ہمیں فیصلہ کرناہوگاکہ ہمیں واقعی ایک آزاداورخودمختار ملک بنناہے یا تیسری دنیا کے غریب ممالک کی طرح غلامی میں رہناہے۔ دنیامیں ملکوں کے درمیان برابری کا رشتہ اسی وقت قائم ہوگاجب ہرقوم جرات وہمت کا مظاہرہ کرے اورخودداری اختیار کرے اور خودکوطاقتور بنائے ورنہ غلامی اور آقائیت کاسلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اور بظاہرآزادرہنے والے ممالک ہمیشہ طاقتور ممالک کے زیرنگیں اور ماتحت بنے رہیں گے۔
میری فلاسفی یہ ہے کہ طاقت کبھی بھی کمزورسے بات نہیں کرتی بلکہ اسے پیروں تلےکچل دیتی ہے۔ طاقت ،طاقت سے ہی بات کرتی ہے لہٰذا ہمیں غلام اوربھکاری نہیں بلکہ طاقت بنناچاہیے۔
اس کےلئے تیسری دنیا کے ہرغریب اورترقی پذیر ملک کویہ فیصلہ کرناہوگاکہ اسے بھیک پر گزارکرنا ہے یا اپنے پیروں پر کھڑے ہوناہے۔ اس کےلئے ضرورت اس بات کی کہ اپنی عیاشیاں ختم کی جائیں اور سادگی اختیار کی جائے۔
مجھے صدریاوزیراعظم نہیں بننا، نہ میں یہ دعویٰ کرتاہوں کہ میں پاکستان کوسپرطاقت بنادوں گاالبتہ اگرمجھےاختیارملے تومیں ملک کوکرپشن فری بنادوں گا جہاں کرپشن کرنےوالے کےلئےکوئی معافی نہیں ہوگی خواہ وہ سویلین ہویاوردی والا۔ میں پاکستان کو ایساملک دیکھناچاہتا ہوں جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو، جوکرپشن سے پاک ہو، جس کی پارلیمنٹ خودمختاراورعدالتیں آزادہوں اورملک کاہرادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرتاہو، انصاف کانظام ہواور کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی اورحق تلفی نہ ہو۔
الطاف حسین
(ٹک ٹاک پر 254ویں فکری نشست سے خطاب)
11مئی 2025
https://t.co/lv6Jw4wvV4
22 اگست کی تاریخ دکھ ، غم اور ایک سانحے کی یاد دلاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22 اگست کی تاریخ جب بھی آتی ہے ، وہ دکھ ، غم اور ایک سانحے کی یاد دلاتی ہے ۔ یہ ایک ایسی منحوس تاریخ ہے کہ جس روزفوج کے تیار کردہ ایک سازشی منصو بے کے تحت ایم کیوایم میں بہت بڑی غداری کرائی گئی، ایم کیوایم کے خلاف ایک اور بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا، عزیزآباد میں میرے گھر او ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو کوسیل کیا گیا، ہمارے دفاترکو مسمار کیا گیا،بعد میں نائن زیروکوآگ لگائی گئی اور اسے بلڈوز کردیا گیا۔ 22 اگست وہ تاریخ ہے جب فوج نے ایم کیوایم کے ان مرکزی اور سینئر لوگوں کو جنہیں میں نے میئر، ڈپٹی میئر ،منسٹر،ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹر بنایا، تحریک میں بڑی بڑی ذمہ داریوں پر فائزکیا، ان سے غداریاں کروائیں، پہلے انہیں عیاشیاں کرواکرخراب کیا، ان کی فلمیں بنائیں، پھر انہیں بلیک میل کرکے اورلالچ اور بندوق کے ذورپر ان کے ایمان کوخریدا، ان لوگوں نے برسوں کی رفاقت اورقرآن مجید پراپنے حلف ِ وفاداری کوفراموش کرکے مجھ سے غداری کی، اپنے ظرف وضمیر، تحریک کے نظریہ اورشہیدوں کے لہوکا سودا کیا،اپنے قائد کو پارٹی سے نکال دیا اوراس کی پارٹی پر قبضہ کرلیا۔
22 اگست کی تاریخ ایم کیوایم کے سچے کارکنوں اورالطاف حسین کے چاہنے والوں کے لئے وفا پرستوں اورغداروں میں تمیز کرنے کا دن ہے۔
22 اگست سچ اورجھوٹ میں تمیز کرنے کادن ہے۔
22 اگست اصل اورنقل میں فرق کرنے کادن ہے۔
22 اگست وفاپرستوں اورمفادپرستوں کو پہچاننے کادن ہے۔
22 اگست حق اورباطل میں تمیز کرنے کادن ہے۔
22 اگست حسینیت اوریزیدیت میں فرق کرنےکادن ہے۔
22 اگست الطاف حسین کے سچے عاشقوں کےلئے اس بات کافیصلہ کرنے کادن ہے کہ کون اصل ہے اورکون بے غیرت نسل سے تعلق رکھتا ہے…کون شہیدوں کے لہو سے وفا نبھانے والا ہے اورکون شہیدوں کے لہو کو بیچنے والاہے۔ کون اپنی وفاپر قربان ہونے والا ہے اورکون وفا کا سودا کرنے والاہے۔
22 اگست ان بےغیرتوں اور احسان فراموشوں کو پہچاننے کا دن ہے جنہیں الطاف حسین نے بولنا اورلکھنا سکھایا، قوم کا مقدمہ پیش کرناسکھایا، جنہیں گمنامی سے نکال کرمقام ومرتبے پر فائزکیا، جنہیں ایوانوں میں پہنچایا،جن کی پہچان کرائی مگرانہوں نے اپنے محسن کی پیٹھ میں ہی چھراگھونپا، احسان فراموشی کی اوراپنی غداری سے خود بتادیا کہ ان کی جین میں ہی بے ایمانی، دھوکے بازی اوراحسان فراموشی تھی۔
ایم کیوایم کے سچے وفاپرست کارکنوں اور قوم کے باضمیر لوگوں کوچاہیے کہ وہ قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے ان غداروں کا اپنے اپنے علاقوں میں مکمل سوشل بائیکاٹ کریں۔
الطاف حسین
( ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب)
22 اگست 2024ء
#YoumeAzmeWafa22Aug
#بائیس_اگست_عزم_وفا_کا_دن
تمام حقیقی عوامی سیاسی جماعتوں کا گرینڈ اجلاس بلائیں، متفقہ پالیسی بنائیں ۔پاکستان کو آگے بڑھائیں ۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور کورکمانڈرز سے ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین سے مطالبہ
https://t.co/ki2J7tU64C
پی ٹی آئی نے ترنول کے مقام پر جلسہ کےلئے یہ اعلان کیا تھا کہ چاہےحکومت کتنی ہی رکاوٹ کیوں نہ کھڑی کرے، این او سی منسوخ ہونےکے باوجود جلسہ کیاجائے گا۔ ملک کے مختلف شہروں سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے قافلے اسلام آباد آرہے تھے لیکن پھراچانک جلسہ منسوخ کیوں کردیا گیا؟ رات گئے اچانک اعظم سواتی کس کے کہنے پراڈیالہ جیل گئے؟وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورجو جلسے کے حوالے سے بڑی بڑھکیں مارہے تھے انہوں نے بھی جلسہ منسوخ کرنے کااعلان کیوں کیا؟
اس سلسلے میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے جلسہ منسوخ کرنے کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں وہ انتہائی اہم ہیں ، وہ خود کہہ رہی ہیں کہ اعظم سواتی کو اسٹیبلشمنٹ نے جیل بھیجااوریہ لوگ نہیں چاہتے کہ عمرا ن خان رہا ہوں۔
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کہتی ہےکہ انہوں نےجلسہ عمران خان کے کہنے پر منسوخ کیا ہے۔ اگرایسا ہے تو مختلف شہروں سے جو کارکنان جوطرح طرح کی تکالیف اوررکاوٹوں کے باوجود اسلام آباد پہنچے تھے عمران خان نے ان کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ اگرحکومت پی ٹی آئی کاجلسہ روکنے کےلئے اسلام آباد کوسیل کرسکتی ہے تو اس نے مذہبی انتہاپسندوں کو روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کیوں نہیں کیں؟
پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں عین وقت پر جلسہ ملتوی کرنے کے فیصلے نے ایک بارپھر اس بات کوتقویت پہنچائی ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کمپرومائز ہوچکی ہے، وہ فوج کے اشاروں پر کام کررہی ہے اور صاف لگتاہےکہ وہ بھی نہیں چاہتی کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں۔
میرا @PTIofficial کے کارکنوں کویہی پیغام ہے کہ وہ کمپرومائزڈ لیڈرشپ کوچھوڑ کر اپنے اندرسے قیادت نکالیں اورعمران خان کی رہائی اورملک میں حقیقی آزاد ی کےلئے متحد ہوکر خود جدوجہد کریں اور یاد رکھیں کہ انقلاب بغیرقربانیوں کے نہیں آتا۔
22 اگست کادن PTI والوں کے لئے بھی اس بات کی پہچان کادن ہے کہ کون سچائی کے ساتھ عمران خان کے ساتھ ہے اورکون منافق ہے اوربک چکاہے۔
الطاف حسین پنجابیوں کامخالف نہیں، وہ چاہتاہے کہ پاکستان بچ جائے، ملک میں صحیح اورسچی جمہوریت ہو، تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں رہ کرکام کریں، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم ہو اور زمینیں غریب ہاریوں اورکسانوں میں تقسیم کی جائیں
سانحہ کارساز کراچی کے متاثرہ خاندان کو آئین وقانون کے مطابق انصاف فراہم کیاجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23،اگست2024ء
میں،گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے کارساز میں تیزرفتار گاڑی کی ٹکرسے موٹرسائیکل سوار باپ اوربیٹی عمران عارف اور آمنہ عارف کے جاں بحق ہونے پر مجھے دلی افسوس کااظہارکرتا ہوں اورمقتولین کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کرتاہوں۔
میں ،مقتولین کے غمزدہ لواحقین کویقین دلاتا ہوں کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت @OfficialMqm کے تمام کارکنان ان کےساتھ ہیں اوران کےغم میں برابر کے شریک ہیں ۔
میں دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ ، جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف کے درجات بلند فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرےاور سوگوارلواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔(آمین ثمہ آمین)
میں،ارباب اختیار اور ارباب اقتدار سے مطالبہ کرتاہوںکہ سانحہ کارساز کے متاثرہ خاندان کو آئین وقانون کے مطابق انصاف فراہم کیاجائےاورسانحہ کارساز میں عمران عارف اوران کی صاحبزادی آمنہ عارف کوگاڑی کے نیچے کچل کرہلاک کرنے والے کسی بھی فرد کے ساتھ ہرگز رعایت نہ برتی جائے ۔
جنرل عاصم منیر صاحب!
اب جبکہ ثابت ہوگیا ہے کہ سید علی رضاعابدی کا قتل سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل فیض حمید نے کرایا ہے تو صرف جنرل فیض حمید کو ہی کیوں گرفتار کیا گیا ہے، اس کے سہولت کار کیوں آزاد پھررہے ہیں؟ سیدعلی رضاعابدی کے قتل میں سہولت کاری کرنے والے مصطفےٰ کمال، انیس قائم خانی، فاروق ستار، خالد مقبول اورعامرخان کواب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے؟
#RealKillersExposed
جیل میں اسیر وفا پرست کارکن نعیم اخترکے ماورائےعدالت قتل کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12،اگست 2024ء
جیل میں اسیر ایم کیوایم ملیر سیکٹر کے سینئر وفاپرست کارکن نعیم اخترکی شہادت ایک سنگین معاملہ ہے اور میں نعیم اخترکے ماورائے عدالت قتل کی عدالتی تحقیقات کامطالبہ کرتا ہوں ۔
#JusticeForNaeemAkhtar
ایم کیوایم کے خلاف 1992ء سے جاری فوجی آپریشن میں کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ آج 12 ،اگست 2024ء کے دن تک جاری ہے۔
نعیم اختر شہید کو 22 مارچ 2019 ءکو رینجرز نے کراچی سے گرفتارکیاتھااورحراست کے دوران بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے سینٹرل جیل کراچی میں اسیر کردیا تھا۔
نعیم اختر گزشتہ پانچ برسوں سے جیل میں اسیر تھے،اسیری کے دوران بھی ان پربہیمانہ تشدد کیاجاتا رہا جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی اور عدالتی حکم کے باوجود جیل انتظامیہ نے نعیم اخترکو علاج ومعالجے کی سہولیات فراہم نہیں کیں اور وہ آج شہید ہوگئے ،(انا للہ وانا الیہ راجعون)
نعیم اختر کی شہادت،ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتی ہےاور اس امر کی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ عدالتی حکم کے باوجود جیل انتظامیہ نے نعیم اختر کو اسپتال میں داخل کیوں نہیں کرایا، یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے جس کی عدالتی تحقیقات کی جائےاور نعیم اختر کے ماورائے عدالت قتل کا مقدمہ صوبائی وزیرداخلہ ضیاءالحسن لنجار ،صوبائی وزیرجیل خانہ جات علی حسن زرداری ، آئی جی جیل خانہ جات سندھ قاضی نذیراحمد اورسینئر سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالکریم عباسی کے خلاف درج کیاجائے ۔
میں، نعیم اختر شہید کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ،نعیم اختر شہید کو اپنی جواررحمت میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوارلواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔آمین